تماشا دکھا کر مداری گیا؟ 64

اغوا شدہ قوم۔۔۔۔؟

سوچا تھا کہ اس موضوع پر کچھ لکھنے سے بچیں، کیونکہ پاکستان میں صحافیوں، اہلِ دانش، اور اربابِ اقتدار سے مختلف رائے رکھنے والوں کے اغوا ، اور جبری گمشدگی کی خبروں نے ساری قوم کو حتیٰ کہ حساس سوچ رکھنے والوں تک کو بے حس کر کے رکھ دیا ہے۔
ایسا ہونا لاازم تھا کیونکہ اب اس عمل کو ہوتے ہتے ستّر سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے۔ ہم نے اولین دنوں ہی میں حسن ناصر کو شہید کیا۔ فیض احمد فیض اور دیگر اربابِ دانش کو کبھی پسِ زنداں تنہا ، کبھی بازاروں میں رسوا کیا۔ پھر یوں ہوا کہ تماش بین خاموش نظروں سے ان منظروں کو تکتے رہے اور ہر آن بے چارگی محسوس کرتے رہے۔ بعد کے ایک شاعر نے یہ لکھ کراس منظر کو امر کردیا۔ ’جدھر جدھر سے بھی گزرا جلوسِ رسوائی۔ کھڑے تھے لوگ دریچوں میں شمع داں کی طرح۔۔۔ بوقتِ قتل بہت دور میرے سار ے عزیز۔۔ صف آزما تھے نگہبان آسما ں کی طرح۔۔‘
ہم نے من حیث القوم اپنی سوچ اور فکر سے اختلاف کرنے والوں سے نبرد آزما ہونے کی ہر روز نئی ترکیب ایجادکی۔ کبھی ہم نے سیاست دانوں اور جمہوریت سے نبٹنے کے لیئے نظام ِ حکومت اور سیاسی نظام کو اغوا کرکے مارشل لا لگائے، فوجی آمریتیں قائم کی۔ مخالفین پر جھوٹے مقدمے نافذ کیئے جو کئی کئی دہایﺅں سے اب بھی جاری ہیں۔ جس پر بس نہیں چلا اسے پبلک سیفٹی ایکٹ اور نظم و قانون کے نفاذ کر بہانے جیلوں میں ڈالا۔ نیا ڈھنگ یہ اپنایاکہ مخالف فکر رکھنے والے کو بیرونِ شہر اور ملک در بدر ہونے کے لیئے مجبور کیا۔ کچھ گئے اور واپس آئے اور پھر دربدر ہوئے،۔کچھ محبوب وطن کی گلیوں پر جاں نچھاور کرنے کی آرزو لیئے پردیس ہی سے ملکِ عدم سدھار گئے۔
ان دربدروں میں معروف ناموں کی ایک فہرست ہے ، جس میں فیض، فراز، فہمیدہ ریاض، اور کتنے ہی لوگ شامل ہیں۔ گزشتہ سالوں میں ممتاز صحافی اور دانشور ، رضا رومی? بھی اسی جبر سے گزرے۔ کینیڈا میں ممتاز شاعر اور جبر کی رائے سے انحراف کرنے والے سلمان حیدر بھی اس صف میں کھڑے ہیں۔ یہ ہمارا اعزاز کہ ہمیں ان سے ملاقات کا موقع ملا۔
یہ تو افراد ہیں لیکن ہم نے تو پوری بنگالی قوم کو بھی تحس نحس کرنے کی کوشش کی ، تو وہ دربدر ہونے کے بجائے اپنا وطن بنا کر عزت کی زندگی گزارنے لگے۔ بنگالیوں کی علیحدگی سے پہلے ہی سے ہم نے اہلِ بلوچستا ن پر جبر توڑا۔ اور اب پاکستا ن میں جبری گمشدگی اور’ نامعلوم افراد‘ کے ہاتھوں اغوا ہونے کا ہر استعارہ بلوچ استعارہ ہے۔ ہم نے یہی کچھ سندھیوں کے ساتھ کیا، پختونوں کے ساتھ کیا اور سندھ کے اردو بولنے والوں کے ساتھ روا رکھا۔ اب یوں ہے کہ روز روز یہ خبریں پڑھ کر اور سن کر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ہاں ہر روز کچھ نامعلوم لاشیں ملتی ہیں ، جن کے قاتل ہمیشہ گمنام رہتے ہیں۔۔۔ ایک نظم ملاحظہ ہو:
”روپوش قاتل“
مرے سب دوست مرتے جارہے ہیں
مجھے ان کی خبر اخبار سے ملتی ہے
یا ایسے مسافر سے
جو اب کی بار بھی
کتنے جواں مرگوں کو کاندھا دے کے آےا ہے۔
کسی اخبار میں یہ بھی لکھا ہے
اور مسافر نے بتایا ہے
جواں مرگوں کے سب قاتل
ہر اک کے سامنے ہیں
اور کسی کو بھی دکھائی تک نہیں دیتے
جواں مرگوں کے وارث اب دہائی تک نہیں دیتے۔
ہمیں اپنی پوری قوم کے اغوا ہونے کی بات کی صداقت کا اندازہ آج یو ں بھی ہوا کہ آج، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک صحافی اور سرکاری افسر ساجد گونڈل کی گمشدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ، پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کو ان حالات کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔
گویا عمران خان کو جو خود اغوا شدہ ہیں ، شاید اپنے اور قوم کے اغوا کے بارے میں کچھ خبر نہیں ہے۔ ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی بہت عزت کرتے ہیں۔ لیکن ان کی سادگی کو دیکھتے ہوئے کہنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ، ’میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب۔۔ ا±سی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں‘۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے کوئی فیصلہ لکھنے سے پہلے احتیاط کی ہو ، کیونکہ ان کی نظر میں اب سے بہت پہلے کے جسٹس نور العارفین، اور اب کے جسٹس قاضی عیسیٰ ، کے حالات ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں