امریکہ کی طاقت اور پاکستانیوں کی خام خیالی 31

افغانستان کے تماشے پر بغلیں نہ بجائیں، خیر منائیں

گزشتہ دو ہفتوں میں افغانستان میں ہونے والے کھیل تماشوں ، اورطالبانی غلبہ پر، پر بعض پاکستانی جن میں بقولِ خود عقلمند عوام بھی شامل ہیں، خوشیاں منا رہے ہیں، اور بالخصوص امریکہ کی ’مفروضہ شکست پر “ ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ ان میں ہمارے نادان وزیرِ اعظم بھی شامل ہیں اور ان کے حواری بھی۔ ہر واقعہ میںگھما پھرا کر بھارت کو بھی شامل کیا جارہا ہے اور یہ چرچا بھی کیا جا رہا ہے کہ طالبانی کامیابی دراصل بھارت ہی کی ہزیمت ہے۔ یہ دراصل ایک غیر دانشمندانہ امر ہے۔
ہم سب کو جان رکھنا چاہیئے کہ امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ معاشی طور پر بھی اور فوجی طور پر بھی۔ اس کی افغان میں کاروایئاں دراصل 911 کے نتیجہ میں مارے جانے والے امریکیوں کا بدلہ لینے کی انتقامی کاروائی تھی۔ گزشتہ بیس سال میں جب امریکہ وہاں موجود تھا تو اپنے مختلف اہداف حاصل کر رہا تھا۔ اس نے اوسامہ بن لادن کو قتل کیا۔ اس قتل میں اسے پاکستان کا دو رخا پن بھی نظر آیا جو، اس عرصہ میں امریکہ سے اربوں ڈالر وصول لر چکا تھا۔
اس نے ایک حد تک القاعدہ کو تقریباً ملیا میٹ کر دیا جس کو طالبان کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اس میں بھی القاعدہ کی بڑی قیادت کے کچھ لوگوں کو پاکستان نے معاوضہ لے کر امریکہ کے حوالے کیا۔ اس کے بعد بھی پاکستان القاعدہ اور طالبان کے بعض افراد کو پناہ دیتا رہا۔ کیونکہ پاکستان کی سیکیوریٹی قیادت کے کچھ لوگ ایسے افراد اور ان کے حواریوں کو اپنے ترجیحی مقاصد کے ایک خفیہ دستہ کے طور پر محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہہ ہے کہ پاکستان اب بھی دہشت گردوں کی مالی اعانت فراہم کرنے کے الزام میں FATF کی فہرست پر موجود ہے اور خطرہ ہے کہ اسے کبھی بھی بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔
جہاں تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا تعلق ہے ، انہوں نے کئی سالوں سے محسوس کرنا شروع کر دیا تھا کہ وہ افغانستان کو نہ تو ایک جمہوری ملک بنا سکتے ہیں اور نہ ہی اسے ترقی یافتہ اقوام کی صف میں زبردستی شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے افغانستان میں اپنا کردار کم کرنے کی کوشش شروع کردی اور کئی سال تک قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے، ان مذاکرات میں افغانستان کی اس حکومت کو بھی شامل نہیں کیا گیا جو خود امریکی اور مغربی حمایت سے وہاں براجمان تھی۔
امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ نے ان معاہدوں کی بنیاد رکھی۔ ایک کٹر سرمایہ دار ہونے کی وجہہ سے انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ اب افغانستان میں زیادہ ٹہرنے میں سرماےہ دار نظام کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ہاں یہ ضرور ہوا کہ موجودہ صدر بائڈن نے وہاں سے خروج کی باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں کی۔ گو وہ بھی افغانستان میں موجود امریکی کردار جاری رکھنے کے حق میں نہیں تھے۔ ان پر کچھ لے دے ہوگی لیکن ان کے آئندگان بھی اس فیصلہ پر قائم رہیں گے۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ امریکہ کے طالبان مذاکرات کا ایک مقصد یہ بھی رہا ہوگا کہ وہ آئندہ بھی انہیں اپنے مقاصد کے لیئے استعمال کر سکیں گے۔
جہاں تک طالبان کا تعلق ہے وہ فی الوقت صرف عارضی طور پر دنیا کو اپنی نرم خوئی دکھا رہے ہیں۔ لیکن خبروں کے مطابق ان کی سخت گیری اب بھی جاری ہے۔ کوئی مرکزی نظام نہ ہونے کی وجہہ سے بھی ان کے علاقائی کمانڈر اپنے فیصلے خود کر رہے ہیں۔ ان کا حالیہ اعلان یہ ہے کہ افغان شہری وہاں سے باہر جانے کی کوشش نہ کریں۔ انہیں نے کہہ دیا ہے کہ امریکہ ، مغربی، اور دیگر ممالک وہاں سے اپنے شہریوں کے انخلا کا معاملہ اگست کے آخر تک مکمل کر لیں۔ اس کے برخلاف دنیا کے اہم ممالک اس میں زیادہ وقت لگانے کے خواہاں ہیں۔ واقعتاً کیا ہوگا اس پر صرف قیاس کیا جاسکتا ہے۔ طالبان نے خواتین کو بھی فی الوقت گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے۔ حال ہی میں ایک خبر آئی ہے کہ افغانستان میں موسیقی کے اہم ادارہ نے اپنے آلات توڑد یے ہیں اور ادارے کو ختم کر دیا ہے۔
جہاں تک افغانستا ن کی معیشت کا تعلق ہے ، امریکہ نے اپنے بنکوں میں اس کی اربوں ڈالرکی رقم منجمد کردی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مالی معاونت کے عالمی ادار ے IMF نے افغانستا ن ے کی مدد معطل کرد ی ہے۔ جس کے نتیجہ میں فی الوقت طالبانی یا کسی بھی افغانی حکومت کو معاشی سختیاں جھیلنا ہوں گی۔ قوی امکان ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک بھی ایسا ہی کریں گے۔ اب سے پہلے کے افغان جہادوں میں مجاہدین یا طالبان کو سعودی حکومت کی مالی امداد حاصل تھی۔ موجود سعودی حکومت اس معاملہ میں خاموش ہے، اور امکان یہی ہے کہ وہ بھی اس کی مدد نہیں کرے گی۔جہاں تک روس اور چین کا تعلق ہے۔ وہ افغانستان میں زبانی جمع خرچ تو کریں گے ، صرف اپنے مفادات کے تحفظ تک، لیکن ان میں سے کوئی بھی افغانستان کی مالی مدد نہیں کرے گا۔ وہ ایسا کہیں بھی نہیں کرتے۔
بغلیں بجاتے پاکستانیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہاں اب بھی چود ہ لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں۔پاکستان کے ساتھ افغانستان کی طویل سرحد ہے۔ وہاں سختیوں کے نتیجہ میں وہاں کے شہری اب بھی پاکستان میں پناہ ڈھونڈیں گے، اور پاکستان انہیں روک نہیں پائے گا۔ اب سے پہلے اسے مہاجرین کے نام پر امداد ملتی تھی، اب وہ بھی نہیں ملے گی۔ پاکستا ن کی اندرونی غیر محفوظ صورتِ حال میں امکانا ً وہاں طالبان کے حمایت یافتہ گروہوں کا تشد د اور بڑھے گا۔
افغانستان میں ایک نام نہاد شرعی حکومت کا بالجبر نفاذ پاکستان پر بھی اثر انداز ہوگا۔ یہاں ریاست ِ مدینہ کا خواب دکھانے والے اور دیکھنے والے بعض پاکستانی بھی، افغانی شریعتی حکومت کی نقالی میں یہاں ایسے تجربات کا شور مچایئں گے۔ ایسے میں کیا مناسب نہیں ہو گا کہ ہم سب بغلیں بجانے کے بجائے اپنی خیر منایئں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں