افغان یا پاکستانی طالبان، ایک سکہ کے دو رخ 25

افغان یا پاکستانی طالبان، ایک سکہ کے دو رخ

شکاگو/اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) پاکستان میں یہ مفروضہ عام ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ پاکستانی طالبان کا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہیں یا یوں کہیے کہ پنجابی طالبان اور افغان طالبان کا قبلہ مختلف ہے مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کے خلاف ماضی میں کئی کارروائیاں ہوئیں۔ ملا برادر سے لے کر ملا عبید اللہ اخوند تک ان کے رہنماﺅں کو گرفتار کیا گیا لیکن افغان طالبان پاکستان میں کسی کارروائی میں براہ راست ملوث نہیں پائے گئے مگر طالبان سب ایک ہیں۔

مولوی نیک محمد، عبداللہ محسود اور بیت اللہ محسود نے پاکستان کے مخالفت اس بنیاد پر شروع کی کہ پاکستان نے طالبان کی حکومت کو ختم کرنے کے لئے امریکہ کا ساتھ دیا۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے تمام رہنماﺅں کی جب بیعت ہو جاتی تھی تو وہ فوراً افغان طالبان کے امیر الومنین کو اپنا رہنما مان لیتے تھے۔ اب جب کہ طالبان کے مختلف دھڑے مفتی نور ولی کی قیادت میں اکھٹے ہوئے اور مشترکہ طور پر ان کی بیعت کی گئی تو اسی مجلس میں مفتی نور ولی اور ان کے ساتھیوں نے افغان طالبان کے امیر المومنین ملا ہیبت اللہ کو امیر المومنین تسلیم کیا۔

اس حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا کہ طالبان کہیں کے بھی ہوں سب ایک ہیں اور اگر کسی کو شک ہو تو وہ تحریک طالبان پاکستان کے موجودہ امیر مفتی نور ولی کی کتاب ”انقلاب محسود“ کا مطالعہ کرلے۔ اب جب کہ امریکی اور نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلاءمکمل ہونے کو ہے تو اس انخلاءسے قبل ہی افغان طالبان افغانستان پر اپنی حکومت قائم کر چکے ہیں۔

افغان طالبان نے پاکستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان میں بھی امن قائم ہو سکتا ہے بشرطیکہ ماضی کی غلطیوں کو نہ دھرایا جائے اور کسی سپرپاور کا آلہ کار نہ بنا جائے۔

ہمیں افغانستان میں اعلان کردہ ”معاف کرو اور مصالحت سے کام لو“ کی پالیسی پاکستان میں بھی اپنانا ہوگی اور اس حکمت عملی کے نتیجہ میں ہم امن اور سکون کی زندگی جی سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں