افکار پریشاں 14

افکار پریشاں

مغل شہنشاہوں کے ادوار پر نظر ڈالیں تو ان کی وسیع سلطنت کی ہر چیز ان کی ملکیت ہوتی تھی وہ اپنا وقت لہولباب میں گزارتے بات پر خوش ہو کر لوگوں کو جاگیریں، علاقے، گاﺅں کے گاﺅں اور بعضوں کو صوبے بخش دیتے، یہ حکمران اگر ایک طرف اپنی زندگی عیش و آرام کے ساتھ گزارتے تو دوسری طرف عوام کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کے کام بھےی کرتے، یہی وجہ ہے کہ ہزاروں میل دور رہنے والے عوام بھی ان حکمرانوں کے نام کی مالا جپتے اور ان کی درازی عمر کی دعائیں کرتے گو کہ وہ زمانہ سوشل میڈیا اور میڈیا کا نہیں تھا مگر اس کے باوجود انہیں اس بات کا احساس ہوتا کہ ان کے حکمران ان کے حالات سے بے خبر نہیں ہیں اس وقت جب کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چونچلے نہیں تھے مگر پھر بھی عوام کو انصاف میسر تھا اور پھر جہانگیر کا انصاف کا گھنٹہ تو ضرب المثل بن گیا ہے غرض اس دور میں جسے پس ماندہ دور کہا جاتا ہے ایک مثالی معاشرہ قائم تھا، یہی نہیں بلکہ جب ہندوستان پر برطانیہ عظمی نے اپنا راج قائم کیا تو اس نے ہندوستان کی دولت سمیٹنے کے ساتھ ساتھ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بھی مثالی اقدامات کئے چونکہ اس دور میں بھی ایک معمولی آدمی کو بھی عدالتوں سے انصاف ملتا تھا اور لوگ ذرا سی بات پر تڑی لگاتے تھے میں تجھے عدالت میں دیکھ لوں گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان ”غاصبوں“ نے ہندوستان میں جو ترقیاتی کام کئے وہ آج بھی عوام کے سامنے موجود ہیں، اس زمانے میں قانون کی حکمرانی کے ساتھ ادارے بھی انتہائی مثالی تھے اور بلا امتیاز لوگوں کی خدمات انجام دے رہے تھے۔
آج ہندوستان پاکستان میں نظام آب پاشی، ریلوے سسٹم، جدید ترین مواصلاتی نظام، شاہراہیں، ڈیم اور بیراجز سب کچھ انہی انگریزوں کی دین ہے جب کہ آزادی کے بعد ہندوستان میں جو حکمران آئے انہوں نے اس آزادی کو جسے انہوں نے قید و بند کی صعبتوں اور تکالیف کے بعد حاصل کیا تھا، ملک میں جمہوریت کی بنیاد رکھی اور اس نعمت سے عوام بہرور کیا انہوں نے ہندوستان میں اپنی قومی زبان ہندی کی ترویج کی اسے ذریعہ تعلیم بنا کر آج ساری دنیا میں ہندوستانیوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے جو دنیا کے بہترین اداروں کے سربراہ ہیں، امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں میں پالیسی میکر ہیں اور اپنے ملک کی ترقی کے لئے کام کررہے ہیں۔
ہندوستان نے انگریزوں سے ملی ترقی کو ہزار گناہ آگے بڑھا دیا ہے ان کی شاہراہیں اور ان کی ریلوے لائنز آزادی کے بعد ہزار گنا ترقی کر چکی ہیں جب کہ انہیں یہ احساس دلا دیا گیا ہے کہ وہ ایک ہندوستانی ہیں، جو دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں سب سے بلند ہیں آج ہندوستانی ایشیا میں چین سے ہمسری کا دعویدار ہے اور مغربی ممالک اور یوروپ کے ساتھ ساتھ روس اور چین کے لئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ادھر آ جائے پاکستان، یہاں جو لوگ رات کو غلام سوتے اور صبح اٹھے تو آزادی کی دیوی کے درشن کئے اس حاصل کردہ حصہ کے افراد جو کہ جدوجہد آزادی میں مٹھی بھر شریک تھے انہوں نے اس آزادی کو مال غنیمت سمجھا اور تصور کیا کہ یہ سب کچھ ان کی ذاتی ملکیت ہے، کھاﺅ پیو اور عیش کرو۔ وہ چند درد مند لوگ جنہوں نے آزادی کی جدوجہد کی تھی انہیں راستے سے ہٹا دیا گیا۔ کچھ اللہ کو پیارے ہو گئے اور اب جو لوگ سربرائے مملکت ہوئے انہوں نے اس ملک کو ذاتی جاگیر سمجھا اور شیر مادر کی طرح اسے غٹاغٹ پینا شروع کردیا۔ آدھے ملک کو ان سیاہ پسندوں نے ایک نہ بھرنا والا کنواں کہہ کر اس سے جان چھڑالی کہ بنگالی سیاسی طور پر بالغ قوم تھی ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تھی تو انہیں غدار قرار دے کر اپنا اقتدار 46 فیصد علاقہ پر قائم کر لیا جہاں وہ اپنی من مانی کرنے کے لئے آزاد تھے اور اس میں سارے یونٹ کبھی بھی دل سے آزادی کے قدردان نہیں بلکہ اپنے اپنے مفادات کے لئے اکٹھا ہو گئے تھے۔ یہی افراد خود کو ملک کا مالک اور اپنے خاندان کی میراث سمجھنے لگے اور ان کے ساتھ وہ ادارے بھی ان کے ساتھ ہو گئے جن کے خاندان ریاست کے ہر اداروں میں براجمان تھے جن کا کام ملک و قوم کی حفاظت کرنا تھا انہیں اس ”جاہل عوام“ نے یہ یقین دلا دیا کہ آپ نہ ہوں گے تو ملک ختم ہو جائے گا آپ ہی ہمارے پالن ہار ہیں آپ ہی ہماری نیا پار لگانے والے ہیں، سول حکومتیں جن کا ایجنڈا محض ملک کی دولت کو لوٹنا تھا وہ ہر مصیب کے وقت سیلاب ہو، زلزلہ ہو، کوئی حادثہ، کوئی وبائی مرض ان سب کے لئے انہی وردی والوں کی طرف دیکھنے لگے سو ان کے دماغ میں بھی یہی خناس سما گیا کہ ہم ہی اس ملک کے مسیحا ہیں اور یہ ”بلڈی سویلین“ اس قابل نہیں ہیں کہ حکمرانی کر سکیں، سو موقعہ بموقعہ یہ کرپٹ سیاست دانوں کو دھکیل کر تخت پر براجمان ہوتے رہے جب کہ دو تین خاندان جو حکمرانی کو اپنا حق سمجھتے تھے ان کے جوتوں کو چوم کر وقتی اقتدار حاصل کرتے رہے اور وہ بھی عوام وغیرہ کے لئے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے اور اس بہتی گنگا میں نہ صرف ”بلڈی سویلن“ ڈبکیاں لگاتے رہے بلکہ ”خاکی“ انسانوں نے بھی جی بھر مٹی کا قرض ادا کرنے کے بجائے خود بھی وہی سب کچھ کیا جو سویلین حکمران کررہے تھے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر وہ سویلین کو آنکھیں دکھائے تو جوابا سویلین بھی ان پر تہمت لگانے پر دیر نہیں کرتے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ اگر سویلین سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور امریکہ میں اربوں، کھربوں روپیہ لوٹ کر جمع کر چکے ہیں اور جائیدادیں بنا چکے ہیں تو ”مقدس گائے“ والے بھی بڑے بڑے جزیروں کے مالک ہیں یہ اور ان کی اولادیں دیگر ممالک میں بادشاہوں کی زندگی گزار رہے ہیں، کبھی ان پر پاپا جونز کا ٹھپا لگ جاتا ہے، کبھی سعودی عرب کی غلامی کا لیبل لگایا جاتا ہے، یہ امریکہ کے زرخرید غلام ہیں، اس کے ایک اشارے پر ایک نحیف حکومت کو گھر بھیج کر لٹریوں، ڈاکوﺅں، مجرموں اور قاتلوں کو برسر اقتدار لے آتے ہیں اور اب یہ سب مل کر قائد اعظم کی آدھی سے کم امانت کا بوجھ بھی اتارنے کی تیاری کررہے ہیں اور جس طرح ڈوبتے جہاز سے چوہے پہلے کود جاتے ہیں یہ بھی اس ڈوبتی نیا کے ناخدا نہیں بلکہ یہاں سے چھلانگ لگانے والے بن گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں