اقتدار کے بھوکوں کی جنگ میں عوام بدحال 79

اقتدار کے بھوکوں کی جنگ میں عوام بدحال

اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) پاکستان اور پاکستانی عوام کی بدقسمتی کہیے کہ نہ ماضی کے حکمرانوں نے اور نہ ہی موجودہ حکمرانوں نے عوام کے مسائل کو حل کرنے میں سچائی سے کام لیا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان خود کو ایماندار ثابت کرنے کے باوجود مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ حکومت میں موجود اور حکومت سے باہر سب اقتدار کے بھوکے دکھائی دیتے ہیں اور اپنی اپنی چالیں ملک کے استحکام کے لئے نہیں بلکہ اپنے مفادات کے لئے چل رہے ہیں جب کہ اسٹیبلشمنٹ جس کا یہ سب کیا دھرا ہے۔ آج خاموش تماشائی بنی عوام کو یہ ثابت کرنے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے کہ جمہوریت کے چیمپئن دراصل ملک میں جمہوریت اپنے مفادات کے لئے چاہتے ہیں نہ کہ عوام کی حکومت عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے۔ دنیا کی سیاست تیزی سے بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ عمران خان نے اپنے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے مگر وعدے تو ماضی میں بھی پورے نہیں کئے گئے مگر امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں کسی نے پہلی بار ڈالی تھیں۔ گزشتہ 72 سالوں میں امریکہ کے ٹکڑوں پر پلنے کے بعد اپنے آقا کو آنکھیں دکھانا ملک میں موجود مفادات پرستوں کے لئے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس اور چائنا کے بعد سعودی عرب نے اپنا لہجہ تبدیل کر لیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کی اہمیت بڑھ چکی ہے اور ایک بار پھر بیرونی قوتوں کی جانب سے ڈالروں کی بھرمار کا وقت قریب ہے، یوں تمام جمہوریت کے چیمپئن جان کی بازی لگا رہے ہیں کہ اگلی صف میں کھڑے ہو جائیں تاکہ بندر بانٹ میں اُن کا حصہ زیادہ ہو جائے۔ عوام کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور ملک میں اندرونی خلفشار کے سبب کوئی مثبت کام ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ کاش کے اپنے اختلافات کو بھلا کر تمام پاکستانی موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے لئے درست سمت کا تعین کرلیتے نہ کے باہمی جھگڑوں کی نذر کر بیٹھے اور امریکہ کو ایک بار پھر اپنی چالیں چلنے کا موقع ہاتھ آگیا۔ حکومت نے بھی دشمنی میں اس قدر تیزی دکھائی کہ واپسی اور بات چیت کے تمام راستے بند کرکے اختلاف رائے کو دشمنی میں تبدیل کردیا اور یوں آج ہمارے اپنے حکمران ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو کر بیرونی قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں