کھلا تضاد 165

اقرا باسم ربک الذی خلق

رب کائنات نے جب کائنات تخلیق کی تو سب سے پہلے قلم بنایا، اپنے بندے اور پہلے نبی سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا، اپنے آخری نبی آخر الزماں اور محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت سے سرفراز فرمایا تو پہلی وحی جو نازل کی وہ اقرا باسم ربک الذی خلق۔ یعنی پڑھ اپنے رب کے نام سے یعنی کائنات کی تخلیق اپنے پہلے نبی حضرت آدمؑ سے لے کر نبی آخر الزماں تک علم حاصل کرنے پر زور دیا کیونکہ اگر آپ علم نہیں رکھتے تو اللہ جیسے عالم کی کتاب حکمت کو کیونکر سمجھیں گے پھر انسان کو حکم دیا کہ اس دنیا کو دیکھو اور غور و فکر کرو۔ یہ تمام کام علم کے بغیر انسان کے بس میں کہاں۔ اگر اسلامی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں مسلمانوں میں بڑے بڑے سائنسدان، کیمیا گر اور مفکرین کی داستانیں ملتی ہیں۔ جنہیں قتل کیا گیا اور ان کی ریسرچ چرا لی گئیں۔ مسلمانوں کو دولت اور عورت کے جنوں میں مبتلا کرکے مغربی ممالک تعلیمات حاصل کرنے میں لگ گئے اور یوں مسلمان زیر تسلط آگیا اور آج یہ صورتحال ہے کہ مسلمانوں میں جہالت کا دور دورہ ہے اور ہم نے نہ صرف اپنے نبی کی تعلیمات کو بھلا دیا بلکہ ان کے دیئے ہوئے تحفہ قرآن حکیم کو بھی جزدان میں لپیٹ کر رکھ دیا۔ اسے پڑھنے کے بجائے اسے چومنا شروع کردیا اور یوں ہم اپنے اللہ، اس کے رسول^ اور دین کی اصل روح سے محروم ہو گئے۔
ہمارے حکمرانوں نے اپنی دولت سے تاج محل بنوائے، اپنے حرم میں عورتوں کی بھرمار میں مدہوش ہو گئے اور طاقت کے نشہ میں بھول بیٹھے کہ ہماری بحیثیت رسول اللہ کے امتی کیا ذمہ داریاں ہیں، یوں ہمارے وہ دشمن جن کے بارے میں قرآن نے واضح طور پر اور کئی بار کھول کھول کر بیان کردیا کہ یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے مگر ہم نے انہی سے نہ صرف دوستی کرلی بلکہ ان کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے کیونکہ ہم جہالت کے اندھیروں میں گھرے ہوئے ہیں جب کہ ہمارا دشمن علم کی دولت سے مالا مال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا بشمول مسلمان ان لوگوں کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں جن کے لئے قرآن نے ہزاروں سال قبل متنبہ کیا تھا کہ یہ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ کرونا وائرس نے جہاں پوری دنیا کو بدل کے رکھ دیا وہاں مسلمان بھی اپنے ایمان کی کمزوری اور علم کی کمی کے سبب WHO کی ہدایت کے مطابق عمل کررہا ہے جس کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے معاملہ میں WHO کی ہدایات پر عمل کریں خواہ Testing Kit ہوں، لاک ڈاﺅن ہو یا ویکسین کی فراہمی مگر چین دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے WHO کی بات پر کان نہیں دھرا بلکہ اپنے ملک کے اندر اندرونی احتیاطی تدابیر کرکے اس وائرس سے چھٹکارا حاصل کرلیا۔ اس کی وجہ چین میں تعلیم اور محنت ہے۔ جس کی بدولت انہوں نے خود کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کیا اور امریکہ جیسی سپرپاور کو چاروں شانے چت کردیا انہوں نے وائرس کے معاملے میں اپنی ریسرچ پر انحصار کیا، اپنی مصنوعات کے ذریعہ نہ صرف اپنے ملک میں کورونا پر قابو پایا بلکہ انہوں نے دیگر ممالک کی بھی امداد کی۔ اگر آج مسلمان علم کے ان درجوں پر فائز ہوتا جس کا اشارہ ہمارے رب العالمین نے قلم بنا کر اور اپنے نبی کو اقراءکا پیغام دے کر دیا تھا تو یوں دنیا بھر میں رسوا نہ ہوتا۔ وہ امریکہ جو دنیا بھر میں بدمعاشی کے ذریعہ اپنی بات منواتا آیا ہے، چین کے سامنے بھیگی بلی بنا بیٹھا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کے دفاعی ادارے پینٹاگون نے حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں چین سے جنگ کا مت سوچنا ورنہ امریکہ کو بدترن شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ امریکہ کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ پینٹاگون نے جنگ کو امریکہ کے لئے مضر قرار دیا ہے۔ چین نے دنیا بھر میں اپنی محنت کے ذریعہ اپنی مصنوعات کا جال اسی انداز میں بچھا دیا ہے کہ سوئی سے لے کر توپ تک چائنا پوری دنیا کو بنا کر دے رہا ہے اور پوری دنیا آج چائنا کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔ امریکہ کی معیشت آج اس کرونا کے سبب ہچکولے کھا رہی ہے جب کہ چائنا آج بھی پوری دنیا سے کاروبار کررہا ہے۔ کاش کہ ہم آج بھی اپنے پروردگار کا ہمارے نبی کو بھیجا گیا پہلا پیغام ”اقرائ“ کو سمجھ لیں تو ہماری آئندہ آنے والی نسلیں، آئندہ یہود و نصاریٰ کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گی وگرنہ پوری دنیا کی طرح مسلمان ممالک بھی روبوٹ کی طرح میرے اللہ کو نہ ماننے والوں کی تمام باتوں کو ماننے پر مجبور کر دیئے جائیں گے۔ چنانچہ آنکھیں کھول لیں اور علم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں کہ یہی وہ راستہ ہے جو آپ کو اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو سمجھنے کی صلاحیت عطا کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں