آرمی چیف کی تقرری کا طریقہءکار؟ 112

امپورٹڈ حکومت کے خلاف دُنیا بھر میں شدید احتجاج!

بالاخر کئی مہینوں کی انتھک کوششوں کے بعد سامراجی قوتوں کے بل بوتے پر متحدہ اپوزیشن اور پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کی مدد سے عمران خان حکومت کو بظاہر گرادیا گیا ہے۔ اس سارے عمل میں ہر شخص اور ادارہ کھل کر سامنے آگیا ہے نتیجتاً یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مافیا نے ایک منتخب حکومت کو چلتا کیا۔
چٹان جیسے ارادے اور حوصلے کا مالک عمران خان اپنے جانثار ساتھیوں کے ساتھ آخری وقت تک میدان میں مقابلہ کرتا رہا لیکن جب عدلیہ، فوج، الیکشن کمیشن اور بیرونی طاقتیں مل کر ایک شخص کو ہرانا چاہیں تو یہ کوئی بہادری کی بات نہیں ہے۔
عمران خان حکومت کے خاتمے کے بعد کل لوگوں نے پوری دنیا میں زبردست احتجاج کیا اور نہ صرف پاکستانی ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا بھر کے پاور سینٹرز بھی ششد رہ گئے۔ جس خوبصورت اور دلیری سے خان نے اپنا بیانیہ بنایا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ لیٹر گیٹ اسکینڈل کو بڑی سمجھداری سے پاکستان میں اور دنیا بھر میں لوگوں کو ازبر کروادیا ہے۔
دوسری طرف شہباز شریف اور خواجہ آصف کے بیانات کہ “Beggars can’t be choosers” نے دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کے تن بدن میں آگ لگا دی ہے۔ لوگ اس بات کا موازنہ کررہے ہیں کہ عمران خان پاکستانیوں کو ایک عظیم قوم کہتا ہے جب کہ شہباز شریف ہمیں فقیر کہہ رہا ہے۔
شہباز شریف کے اس جملے کو بلا تمیز رنگ و نسل و جماعت پاکستانیوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اس میں بزرگ، خواتین، مرد، بچے اور ہر طقبہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنی ہتھک محسوس کی ہے۔
عمران خان کے تین سال اور آٹھ ماہ کے دور حکومت میں بڑے ٹھوس منصوبے شروع کئے گئے جو کہ عام لوگوں کے لئے تو بہت فائدہ مند ثابت ہو رہے تھے مگر اشرافیہ کو یہ اقدامات پسند نہیں تھے۔ خان نے خارجہ محاذ پر پاکستان کی بہترین نمائندگی کی اور دنیا کو اسلام سمجھانے کی بہت کوشش کی جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے اسلاموفوبیا سے متعلق قرارداد منظور کرلی۔ یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔
اس سے پہلے کشمیر کے معاملے پر بھی خان کی کوششوں سے سیکیورٹی کونسل کا خصوصی اجلاس کئی دہائیوں بعد بلایا گیا جس کی عوام میں بہت پذیرائی ہوئی اور کشمیریوں نے عمران خان کو اپنا حقیقی نمائندہ سمجھا اور وہ ان کے سفیر کے طور پر دنیا بھر میں آواز اٹھاتا رہا۔ خان کے دورے حکومت کے اتنے شاندار کام ہیں کہ جنہیں آنے والے وقت میں محسوس کیا جائے گا۔
بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے خان حکومت نے بہت ساری سہولیات بہم پہنچائیں۔ پاکستانیوں کی عزت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ بیرون ملک مقیم ایک کروڑ پاکستانیوں نے حالیہ مظاہروں میں ثابت کردیا ہے کہ وہ خان کے ساتھ ہیں اور خون کے آخری قطرے تک ساتھ نبھائیں گے۔
پی ٹی آئیکے منحرف اراکین جنہوں نے پیسوں کے عوض اپنے ضمیر کے سودے کئے وہ اپنے حلقوں میں جانے کے قابل نہیں رہے اور آئندہ الیکشن میں ان کی ضمانتیں بھی ضبط ہوں گی اور لوگ ان سے نفرت بھی کریں گے۔ خان نے سوئی ہوئی قوم کو جھنجھوڑ کر جگا دیا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ہم ایک خوددار قوم ہیں، ہم آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے۔ اپنے فیصلے خود کریں گے۔
امید واثاق ہے کہ آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کو بہت بڑی اکثریت حاصل ہو گی اور اسے کسی بیساکھی کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔ عمران خان نے اپنی کئی غلطیوں کا اعتراف بھی کیا ہے اور آئندہ اسے نہ دہرانے کا عزم بھی کیا ہے اور آخر میں شہباز شریف نے آج وزیر اعظم کا حلف اٹھا لیا ہے۔ دیکھتے ہیں یہ حکومت کس طرح اور کتنے دن چلتی ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں