Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 122

انا کا بت

ہمارے دیس سے جب کوئی دوسرے دیس یعنی یوروپ یا امریکہ جاتا تھا تو عام طور پر لوگ کہا کرتے تھے کہ ولایت جارہا ہے اور جب وہ وہاں سے واپس آکر گوروں جیسی حرکت کرتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ اسے ولایت کی ہوا لگ گئی ہے باہر کی دنیا کے بارے میں لوگوں کو بہت زیادہ علم نہیں تھا لیکن آج کل پردیس کی ہوا لگنے کے لئے باہر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ٹی وی ،انٹر نیٹ،بشمول سیل فون وافر مقدار میں یہ ہوا فراہم کررہے ہیں اور ہمارا دیسی نظام بہت تیزی سے ولایتی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ایک زمانہ تھا جب کوئی شخص اپنی زوجہ سے طلاق کی بات بھی کرتا تھا تو اس کے پیروں تلے زمین نکل جاتی تھی روتی تھی چلّاتی تھی شوہر کے پیروں پڑ جاتی تھی کہ خدارا یہ ظلم نا کریں۔آج کی عورت طلاق ہوجانے کے بعد پارٹی دیتی ہے اور ہر سال طلاق کی سالگرہ مناتی ہے۔میں جب امریکہ آیا تو سب سے پہلی نوکری ڈنکن ڈونٹ میں ملی تھی جیسا کہ ہمارے ملک کی اکثریت کے ساتھ ہوتا ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ حالات بہتر ہوجانے کے بعد اور اپنا کچھ اچھا ٹھکانہ بنانے کے بعد ہمارے ہم وطن گزرے دور کو فراموش کردیتے ہیں اور کبھی تز کرہ بھی نہیں کرتے کہ انہوں نے امریکہ آنے کے بعد کبھی کوئی چھوٹی موٹی نوکری کی تھی۔ بہرحال ڈنکن ڈونٹ میں میری ڈیوٹی رات کے اوقات میں ہوتی تھی شام سے صبح تک میں وہاں اکیلا ہی ہوا کرتا تھا رات تقریبا” آٹھ اور نو بجے کے درمیان وہاں ایک ادھیڑ عمر عورت آتی کافی کا مگ اور ڈونٹ لے کر ایک مخصوص ٹیبل پر بیٹھ جاتی اور اخبار میگزین کا مطالعہ کرتی رہتی یہ اس کا روز کا معمول تھا ہیلو ہائے کرتے ہوئے آہستہ آہستہ ا س سے رسمی شناسائی سی ہوگئی تھی۔ ایک روزاسی طرح وہ اپنی ٹیبل پر بیٹھی مطالعہ میں مصروف تھی اس وقت وہاں کوئی کسٹمر بھی نہیں تھا اور میں کاو¿نٹر پر کھڑا کافی کے گھونٹ بھر رہا تھا اچانک اس نے آواز لگائی ،، تمھارا تعلق کس ملک سے ہے !!! میں چونک پڑا میں نے ادھر ادھر دیکھا کیونکہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ اس نے کسی کو مخاطب کیا ہو پھر میں نے کہا۔۔کیا آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟ وہ ہنسی اور کہنے لگی !! یہاں ہمارے علاوہ اور ہے کون میں نے یہ پوچھا ہے کہ تمھارا تعلق کس ملک سے ہے؟ میں نے کافی کا مگ اٹھایا اور اس کی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔میرا تعلق پاکستان سے ہے۔۔۔ہوں!! اس نے ہنکارہ بھرا۔۔۔کیا تم پاکستان کے بارے میں کچھ جانتی ہو ؟ ،،،ہاں ،، تھوڑا بہت !!لگتا ہے نئے نئے آئے ہو میں سمجھ چکا تھا کہ آج وہ باتیں کرنے کے موڈ میں ہے ۔ہاں میں تھوڑے عرصے پہلے ہی امریکہ آیا ہوں۔۔کیسا لگا ؟ اس نے اخبار پر جھکے جھکے سوال کیا۔۔ہنہ!! اچھا سوال ہے لیکن مجھے آئے ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا اس لئے قبل از وقت کچھ کہنا مشکل ہے ، ،،ہاں ویسے تمھاری دن یا میں اور اس دنیا میں بہت فرق ہے۔اس نے آہستہ سے کہا۔۔میں نے جواب میں کہا پہلی بات تو یہ کہ دنیا ایک ہی ہے صرف فاصلے ہیں اور کچھ لوگوں کے لئے صرف مسافت ہی نہیں بلکہ دلوں میں بھی فاصلے ہیں۔۔۔۔انٹریسٹنگ !! اس نے اخبار تہہ کرکے ایک طرف رکھا اور پوری طرح سے میری طرف متوجہ ہوگئی ،،، شادی شدہ ہو ؟ ہاں خیر سے شادی شدہ ہوں !! تمھارے یہاں عورت کو آزادی کیوں نہیں ہے ؟ اس نے اچانک یہ عجیب سا سوال کردیا۔میں نے نظر بھر کر اس کی طرف دیکھا اور جواب دیا ،،یہ صرف مغرب کا پروپیگنڈہ ہے۔۔۔کیا مطلب؟ اس نے حیرت سے پوچھا۔۔میں نے کہا دنیا اب اتنی چھوٹی ہوگئی ہے میم صاحب کہ کہاں کیا ہورہا ہے اب ساری دنیا کو معلوم ہوجاتا ہے ۔اس کے باوجود بھی اگر حقیقت سے آنکھیں چرائی جائیں تو اس کا کوئی حل نہیں ہے۔۔وہ کہنے لگی میں اب بھی تمھاری بات نہیں سمجھی۔۔۔ میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ بات یہ ہے کہ جتنی آزادی ہمارے ملک کی عورت کو ہے شائید اتنی آزادی کہیں بھی نا ہو۔۔اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔کیا بات کرتے ہو تمھارے یہاں عورت تو کیا مرد بھی اپنی مرضی سے شادی نہیں کرسکتا۔۔میں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی گفتگو جاری رکھی ہمارے یہاں کی عورت گھر کی مالک ہوتی ہے اپنی مرضی سے گھر کو سجاتی ہے اپنی پسند کی چیزیں گھر کے لئے لاتی ہے یہ دوسری بات ہے کہ شوہر سے پوچھتی بھی ہے لیکن اس یقین کے ساتھ کہ اس کا شوہر نا نہیں کرے گا۔۔۔لیکن تم نے میری بات کا چواب نہیں دیا۔۔۔۔اس نے تقریبا” چلّا کر کہا تمھارے یہاں شادی ماں باپ کی پسند سے ہوتی ہے یہاں تک کہ لڑکے اور لڑکی نے ایک دوسرے کو کبھی دیکھا بھی نہیں ہوتا۔ ایک دوسرے کو جانے بغیر کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ میں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری،،،کافی کا ایک گھونٹ لیا !۔۔۔ اور اس کی طرف دیکھا جو بہت بے تابی سے میرے جواب کی منتظر تھی۔۔ پھر میں گویا ہوا ! پہلی بات تو یہ کہ تم چالیس پچاس سال پہلے کا تز کرہ کررہی ہو۔ ہر جگہ تو نہیں لیکن زیادہ تر ایسا ہی ہوتا تھا اب وقت بدل گیا ہے اب زیادہ تر پسند کی شادیاں ہوتی ہیں اور اگر ماں باپ کی مرضی سے بھی ہوں تو پہلے لڑکا لڑکی سے پوچھا جاتا ہے ایک دوسرے کو دکھا دیا جاتا ہے یا ملا دیا جاتا ہے لیکن اگر ایک دوسرے کو پہلے سے نا دیکھا ہو ا ہو جیسا کہ پہلے ہوتا تھا تو اس میں بھی کیا برائی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کیا برائی ہے ؟ کیسی احمقانہ بات کررہے ہو۔۔ نا ایک دوسرے کو دیکھا ہوا ہو نا ایک دوسرے کی عادات اور پسند کے بارے میں کچھ معلوم ہو تو پھر کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہا جاسکتا ہے۔ میں نے جب شادی کی تھی تو شادی سے پہلے ہم دو سال ایک دوسرے کے ساتھ رہے تھے ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھ جانے کے بعد ہی ہم نے شادی کی تھی۔۔اور یہ شادی کتنے عرصے قائم رہی ؟ میں نے اچانک سوال کیا ۔۔پورے آٹھ سال اس نے فخر سے جواب دیا ،اور پھر اچانک چونک کر میری طرف دیکھنے لگی کیونکہ میں بہت زور سے ہنسا تھا ۔۔۔تم ہنس کیوں رہے ہو میں نے کوئی مزاحیہ بات تو نہیں کی ہے۔ اس کے چہرے پر نا گواری تھی۔ میم صاحب اب زرا غور سے میری بات سنیں ہمارے یہاں ایسی شادیاں جو ایک دوسرے کو دیکھے بغیر ہوتی تھیں اور شائید اب بھی ہوتی ہوں وہ شادیاں مرتے دم تک کر قائم رہتی تھیں ایک معمولی سی تعداد کے علاوہ یہ تمام شادیاں کامیاب ہوتی تھیں ہمارے یہاں طلاق ایک گناہ سمجھا جاتا تھا آپس میں ذہن نا ملنے کے باوجود ساری زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزارہ کیا جاتا تھا۔۔ اور آپ کے یہاں ایک دوسرے کے ساتھ رہ کر اور ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھ کر شادی کرنے کے باوجود وہ شادیاں کامیاب نہیں ہوتی ہیں اور بہت جلد طلاق تک نوبت آجاتی ہے۔مزید یہ کہ ہمارے یہاں ماں باپ دادا دادی سب ایک ساتھ رہتے ہیں تمھارے یہاں جوان ہوتے ہی ماں باپ سے بیزار ہوجاتے ہیں ذرا تصوّر کرو جب بچوں کی شادی کا وقت قریب آتا ہے سارا خاندان شادی کی تیّاریوں میں لگ جاتا ہے مائیں ،بہنیں ،دادی ،پھپھو ، خالہ سب اپنے ہاتھوں سے بیٹی کو دلہن بنانے میں لگ جاتے ہیں اور کتنی دعاو¿ں کے ساتھ بیٹی کو رخصت کرتے ہیں اور اسی گھر میں رہ کر دادا دادی پوتے پوتیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اب بتائو کون سا معاشرہ اچھا ہے ۔رشتوں کی پہچان قدر کس کے پاس ہے۔میں اپنی رو میں باتیں کئے جارہا تھا ایک لمحے کے لئے میں نے اس کی طرف دیکھا تو چونک پڑا اس کا چہرہ زرد ہوچکا تھا اور ہونٹ کانپ رہے تھے اور پھر اس نے زارو قطار رونا شروع کردیا میں نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی اس نے تیزی سے اپنے اخبار لپیٹے اور باہر نکل گئی میں سمجھ گیا کہ آج اسے حقیقت کا احاتس ہوا ہے۔اس کے ساتھ ہی اپنے اکیلے پن اور بے بسی کا بھی احساس ہوگیا ہے۔اس بات کو کافی وقت گزر گیا ہے اور جو کچھ میں نے اس سے کہاتھا آج وہ داستان بنتا جارہا ہے ایک خوبصورت خواب۔۔۔اور آج مجھے یہ خوف محسوس ہورہا ہے کہ اگر وہ یا اس جیسی کوئی اور عورت میرے سامنےیہی سوال لے کر آگئی تو میں کیا جواب دوں گا جس تیزی سے ہمارا معاشرہ مغرب کو اپنا رہا ہے تو کچھ عرصے میں کوئی فرق نہیں رہے گا جس تیزی سے ہمارے یہاں طلاقوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اسے دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان کو بھی پیچھے چھوڑ جائیں گے۔ قصور وار کوئی ایک نہیں مرد و عورت دونوں ہیں۔ کوئی بھی فیصلہ چاہے وہ شادی ہو یا طلاق بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے ورنہ بعد میں رونا ہی پڑتا ہے میں بڑے سکون سے ایسے لوگوں سے ان کی کہانیاں سنتا ہوں اور سوچتا ہوں اب پانی سر سے گزرجانے کے بعد یہ سب سنانے کا کیا فائدہ کاش فیصلہ کرنے سے پہلے بتاتے ۔سب کی انا کا بت پچھتاوے کے بعد ہی ٹوٹتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں