تیری نظر پہ چھوڑا ہے فیصلہ 54

انتشار قوم

تحریک پاکستان یا تحریک آزادی وہ واحد تحریک تھی جس کے مقاصد کامیابی کی صورت سے ہمکنار ہوئے اور اقتدار کی تبدیلی ممکن ہوئی اس کی واحد وجہ اس کے مقاصد اور رہنما سچے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد جو بھی تبدیلی کی تحریک شروع ہوئی اس کا انجام منفی رہا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ کبھی مقاصد صحیح نہیں تھے اور رہنما کبھی۔
جواہر لال نہرو نے ایک پاکستانی سیاستدانوں پر تبصرہ کرے ہوئے کہا کہ میں اتنی تیزی سے دھوتیاں نہیں بدلتا جس تیزی سے پاکستان میں حکمراں۔ اس طرح حکمرانوں کی تیزی سے تبدیلی کو روکنے کے لئے جو تبدیلی آئی وہ ایوب خان کے فوجی انقلاب کی شکل میں نمودار ہوئی اور جب ایوب خان ملک میں ترقی کا جشن بپا کئے ہوئے تھے تو ان کے خلاف ایک تحریک شروع ہوئی کیونکہ انہوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کی بدولت ہونے والی تبدیلی کو قبول نہیں کیا اگر وہ صدارتی نظام کے تحت ہی ہونے والے انتخابات کو منطقی انداز میں مکمل ہونے دیتا اور اپنے مدمقابل محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف منفی نہ استعمال کرتا تو اس کو اس طرح کی تبدیلی کے عمل سے نہ گزرنا پڑھتا مگر اس نے تبدیلی کے اپنے بنائے ہوئے نظام کو قبول نہیں کیا یوں جب ایوب خان کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو اس میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے تقریباً تمام رہنما شریک تھے جن میں مولانا بھاشانی، مجیب الرحمن، ذوالفقار علی بھٹو، اصغر خان، مولانا مودودی، شاہ احمد نورانی، ولی خان، نواب زادہ نصر اللہ خان بھی شامل تھے۔ یہ تحریک اپنے مقاصد میں تو کامیاب ہوئی کہ ایوب خان کو اقتدار چھوڑنا بڑا نتیجہ جو ظاہر ہوا اس میں پہلے یحییٰ خان کی صورت اور اس کے بعد سانحہ مشرقی پاکستان ہوا پھر اس کے بعد 1977ءمیں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک شروع ہوئی جس میں مفتی محمود، نواب زادہ نصر اللہ، مولانا مودودی، شاہ احمد نورانی، اصغر خان پیش پیش تھے۔ یہ تحریک بھی ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے ہٹھا دینے کا باعث ہوئی مگر نتیجہ میں ضیاءالحق کی منحوس آمریت جو جبر و استبداد پر مبنی تھی جس کے نتیجہ میں پاکستان نے امریکہ کے اتحادی کی حیثیت سے افغانستان کی جنگ کا آغاز کیا جو کہ دنیا بھر کے جنگجوﺅں کی جنت میں تبدیل ہو گیا اور پاکستان تباہی کے عالم برزخ میں چلا گیا ، بعد میں ضیاءجنم رسید ہوا۔ یہ وہ تبدیلی تھی جو قدرت کی طرف سے ہوئی اور اس کے مثبت اثرات یہ ہوئے کہ پاکستان کی افواج کا قبلہ درست ہو گیا اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک پاکستان کی فوج کے افسروں کی تربیت کے لئے امریکہ پر انحضار نہ کرنا پڑا جس کی وجہ سے فوج ملکی مفاد کو پیش نظر رکھا گیا۔ 1988ءکے بعد ملکی دفاعی اداروں میں جو مثبت تبدیلی شروع ہوئی تھی اس کی وجہ سے ملک میں ایک سیاسی نظام وجود میں آنا شروع ہوا اور پاکستان افغانستان کی لگائی ہوئی جنگ سے بچتا رہا یوں جب پاکستان کی مسلح افواج نے 1999ءمیں ضیاءکی پالیسیوں سے مکمل یوٹرن لیا تو مغربی طاقتوں کو یہ تبدیلی ایک آنکھ نہ بھائی اور امریکہ کے صدر کلنٹن نے بھارت کا دورہ مکمل کرنے کے بعد جب پاکستان کا مختصر دورہ کیا تو اس نے پاکستان کی فوجی قیادت سے ہاتھ ملانا تک گوارہ نہ کیا پھر جب 9/11 کے بعد امریکہ نے اپنی پالیسیوں میں یوٹرن لیا تو اس کو پاکستان کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی پھر جب حکم ہوا کہ ہمارے ساتھ دو تو نہیں تو پتھر کے زمانے میں جانے کو تیار ہو جاﺅ جیسا کہ افغانستان پتھر کے زمانے میں چلا گیا اور یہ ہی حشر بعد میں عراق اور لیبیا کا ہوا پھر امریکا کا ساتھ دینے کی صورت میں پاکستان کی باری سب سے آخیر میں لگی جو کہ امریکی نقطہ نظر کے تحت سب سے پہلے پاکستان کی باری ہونی چاہئے تھی۔ یوں پاکستان 9/11 کے بعد تقریباً آٹھ نو سال تک پتھر کے زمانے میں جانے سے بچا رہا مگر جب وکلاءکی تحریک کی صورت اس وقت کے حکمرانوں کو اقتدار رضا کارانہ چھوڑنا پڑا تو ملک تیزی سے پتھر کے زمانے کی طرف دھکیلا گیا۔ وکلاءکی تحریک کے تحت جو تبدیلی نمودار ہوئی اس میں پاکستان کرپشن کا چیمپئن بن کر ابھرا اب جب کہ نواز شریف کے خلاف عمران خان کی تحریک اور ساتھ ساتھ علامہ طاہر القادری کی تحریک سے بھی یہ ہی نتیجہ ماخوذ کیا جا سکتا ہے جیسا کہ پاکستان میں تبدیلیوں کے خلاف چلائی ہوئی تحریکوں سے کبھی مثبت تبدیلی کے بجائے منفی تبدیلی ہی نمودار ہوئی۔
پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں کوئی نظام اپنی مکمل شکل نہیں اختیار کر سکا جب بھی جمہوریت آئی ادھوری نامکمل رہی جب آمریت آئی تو وہ بھی ادھوری اور نامکمل۔ آمروں نے اپنی آمریت میں جمہوریت کا پیوند لگایا اور جمہوریت میں حکمراں آمر بننے کی کوشش میں مارے گئے، نامکمل آمریت آسکی اور نہ ہی مکمل جمہوریت۔
ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں جمہوریت آہستہ آہستہ چلتی رہی اب اس کے مثبت اثرات نمودار ہونا شروع ہو گئے، ہمارے دوسرے پڑوس چین میں مکمل تربیت رہی، وہاں پر بھی ترقی کے ثمرات سے دنیا انگش بداں ہے اور ہمارے قریب کی عرب ریاستوں میں چاہے اس کو بادشاہ کہیں یا آمریت، سعودی عرب سے لے کر دبئی، ابوظہبی بہترین، قطرہ کویت اپنی اپنی مطلق عنائی کے باوجود ترقی کے منازل طے کررہے ہیں جب عراق میں آمریت کے خلاف پوری دنیا متحد ہوئی تو اور اس ملک میں انتشار پھیلنا شروع ہوا تو اس کے اثرات تمام خطے میں پڑنے لگے۔ لیبیا میں قذافی کی آمریت میں بہت ترقی کرتا رہا آج وہاں وار لارڈ کا قبضہ ہے۔ اب ہمارے لوگوں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ کوئی ایک نظام اس کی حقیقی شکل میں اختیار کرلیں۔ حکمراں جمہوریت چاہتے ہیں تو اپنے طرز عمل میں جمہوری اقتدار کو اختیار اس کے لئے اپنے اپنے ذاتی ایجنڈے کو خیرباد کہنا ہو گا جس حب وطنی کا درس دیتے ہیں اس پر من و عن عمل بھی کرکے دکھانا ہوگا۔
اگر جمہوری نظام کو اپنانے کا فیصلہ کرنا ہے تو اپنے اپنے انداز فکر اور اقدامات میں جمہوری انداز اختیار کرنے ہوں گے اس کے لئے باہم اعتماد کرکے ایک صاف ستھرا الیکشن کرائیں پہلے اپنی اپنی جماعتوں میں پھر ملکی انتخابات میں تاکہ جتنا بھی مینڈیت ملے شفاف ملے جیسا کہ ترکی میں منتخب ہونے والے حکمراں شفاف مینڈیٹ لے کر اقتدار میں آئے جب وہ حکمراں تمام نقائص سے پاک ہوں گے تو ان کے مینڈیٹ کو عوام بھی قبول کریں گے اور فوج سمیت ملک کے تمام ادارے اگر ایسا نہیں کر سکتے تو مل کو تقریباً 30 سال کے لئے آمریت کے حوالے کر دیا جائے تاکہ عام لوگوں کو چین سے زندگی گزارنے کے لئے کچھ سکون کا سانس ملے۔ اور اس انتشار قوم سے نجات ملے۔
حالات اب وہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ انتشار ملکی سیاست اور اقتدار اعلیٰ سے بھی آگے بڑھ کر معاشرے کے ہر شعبہ میں سرائیت کر چکا ہے۔ اقتدار کے کھیل میں جو انتشار نظر آرہا ہے اس کے اثرات معاشرے کے ہر طبقے پر نمایاں ہو رہے ہیں۔
ان اثرات سے ملک کے اہم ادارے اور محکمہ بھی محفوظ نہیں جن میں عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ بھی شامل ہیں سب کا حال کسی سے چھپا نہیں ہے۔ اس ہی طرح نچلی سطح پر اس کے مضر اثرات زیادی بھیانک انداز میں وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ تعلیم کے شعبہ کا حال بھی عریاں دکھائی دے رہا ہے۔ پروفیسر، ٹیچر اور مدرسہ کے استاد کی داستانیں میڈیا پر ظاہر ہو رہی ہیں۔ یہ حال ڈاکٹروں اور مسیحاﺅں کا ہے کہ ان سے طالب علم یا فریقین بھی محفوظ نہیں۔ جس کا جہاں داﺅ چل رہا ہے وہں وہ اپنا کام دکھا رہا ہے۔ اس کا حل گزیٹڈ ڈائیلاگ وقت کی ضرورت ہے ملک کے تمام ادارے اور محکمہ باہم سر جوڑ کر ایک ایسا لائحہ عمل مرتب کیرں جس سے ملک میں کم از کم بیس سال کے لئے ایمرجنسی نافذ کرکے اقتدار کا تسلسل قائم کیا جائے جیسا کہ ہمارے تمام برادر ملکوں میں یہ طریقہ رائج ہے مثلاً ترکی میں گزشتہ طویل عرصہ سے طیب اردگان کی حکومت قائم ہے یا روس میں ولادی میر پوٹن کا اقتدار قائم ہے یا چین کی طرح اداروں میں اقتدار تسلسل سے جاری ہے جس کو آمریت بھی کہہ سکتے ہیں۔ عرب امارات کی طرح ملک میں طویل سرداری نظام یا کوئی بھی ایسا حل جو مستقل بنیادوں میں اقتدار کو قائم رکھے۔
اب اس ہی طرح انتشار کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اب یہ سلسلہ ختم ہونا بہت ضروری ہے تاکہ معاشرہ اور ملک استحکام کا حاصل ہو سکے
اہل دنیا سے سہارے نہیں مانگے ہم نے
اپنی ہی ذات پہ سیکھا ہے بھروسا کرنا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں