پاکستانی سیاست، فوجی جنرلز اور تلخ حقیقت 63

انوکھا لاڈلا۔۔۔ میں نہ مانوں کی گردان

اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں روز اوّل سے جمہوریت اسٹیبلشمنٹ کی مرہون منت رہی ہے۔ آپ خواہ کچھ بھی سمجھیں لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس مملکت خداداد میں جسے ہم پاکستان کے نام سے پکارتے ہیں، پاک کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں تمام لاڈلے پنڈی کی پیداوار ہیں۔ یوں پاکستان کبھی فوجی آمروں یا پھر سول آمروں کے ہاتھوں میں کھلونا بنا رہا۔ عمران خان آئے تو بلند و بانگ دعوے کرکے مگر اپنے احسان مندوں کو بھول گئے، یہ بھی بھول گئے کہ انہیں کن دوستوں نے بیساکھی مہیا کی اور کون سے کارکن دن و رات محنت کرکے ان کے ”نیا پاکستان“ کے خواب کی تکمیل میں دربدر ہو گئے، جیسے کہا جاتا ہے کہ انسان اپنی پیدائش کو اور اپنے پیدا کرنے والے کو بھی بھول جاتا ہے اسی طرح عمران بھی اپنے ساتھیوں کو بھول گئے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ پہلے کہا کرتے تھے کہ مجھے اقتدار کی کوئی لالچ نہیں، میں تو آرام سے گھر بیٹھ جاﺅں گا یا اپوزیشن کروں گا۔ اپنے ارکان سے کہتے تھے کہ سب آزاد ہیں جو مجھ سے ناخوش ہو مجھے چھوڑ کر چلا جائے مگر آج جانے والوں کو دھمکیاں دے رے ہیں۔ اپنے بیانات سے خوفزدہ کرکے انہیں روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جنرل باجوہ اور پوری اسٹیبلشمنٹ جم کر عمران خان کے پیچھے کھڑی رہی مگر دوسری جانب بار بار احتساب کی باتیں کرنے والے، حلق میں سے عوام کا پیسہ نکالنے کے دعوے کرنے والے عمران خان چیختے رہ گئے مگر ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا بلکہ ان کے بیانات سے اُن کے اپنے دوستوں کو نقصان پہنچ گیا اور وہ لوگ جو روز اوّل سے ان کے ساتھ تھے آج انہیں چھوڑ چکے ہیں مگر عمران خان کی اکڑی گردن انہیں جھکنے سے آج بھی روک رہی ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ اگر احتجاج کے آغاز میں ہی وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر لیتے، اپنی حمایتی جماعتوں سے میل ملاپ بڑھا لیتے۔ ان کے مسائل کو سنتے، اُن سے تکبرانہ انداز اپنانے کے بجائے جھک کر ملتے۔ اپنی جماعت کے ممبران سے فرداً فرداً ملاقاتیں کرتے رہتے تو شاید معاملات اتنے نہ بگڑتے پھر ناراض ہو کر چلے جانے والے ارکان اسمبلی کے باپ بننے کے بجائے خود اُن سے جھک کر مل لیتے، انہیں نظر انداز کئے جانے پر اُن سے معافی مانگ لیتے، اپنے وزیروں اور خوشامدیوں کو فضول بیانات دینے سے روکتے اور بردباری سے تمام معاملات کو حل کرتے تو یقیناً وہ اپوزیشن کو منہ توڑ جواب دے سکتے تھے۔ مگر وہ باپ بن کے للکار اٹھے کہ انہوں نے باغی ارکان کو معاف کیا اور وہ واپس آ جائیں انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔
کوئی محترم عمران خان کو سمجھاتا کہ باپ بننے کے بجائے چھوٹے بن جائیں اور کن بنیادوں پر آپ انہیں معاف کرنے کی باتیں کررہے ہیں جب کہ معافی تو آپ کو مانگنا چاہئے کہ آپ نے اپنے ہی ارکان کو ان کے حلقوں میں جانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ دوسری جانب مستقل اپوزیشن کو نہ چھوڑنے کی دھمکیاں جب کہ دوسری جانب اپوزیشن ارکان کی تمام الزامات سے با عزت رہائی، کیا یہ عمران خان کے منہ پر طمانچہ نہیں تھا مگر عمران بھولے بادشاہ ہیں، کچھ بھی نہیں سمجھ سکے، سیاسی چالوں کو نہ سمجھ پائے اور آخر میں وہی غلطی کر بیٹھے جو قائد اعظم، محترمہ فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے کی۔ یہ تو وہ لوگ تھے جن کی جڑیں عوام میں تھیں جو انٹرنیشنل سیاست میں بہت بڑا قد رکھتے تھے مگر لانے والوں نے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا اور آپ ”پدی نہ پدی کا شوربہ“ نہ جانے کس بات پر اکڑ رہے ہیں۔
کاش لہجہ میں نرمی پیدا کر لیتے اور جھک جاتے، اپوزیشن کے آگے نہیں بلکہ اپنے پی ٹی آئی ارکان کے آگے، حمایتی جماعتوں کے آگے، اپنے دوستوں اور محسنوں کے آگے اور اس اسٹیبلشمنٹ کے آگے جس نے آپ کو دودھ پلا کر جوان کیا، آپ کو وزارت عظمیٰ سے سرفراز کیا اور آپ کے شانہ بشانہ چلتے رہے مگر آپ غلط فہمی کا شکار ہو گئے۔ تکبر میں مبتلا ہو گئے اور تکبر اللہ کو بالکل پسند نہیں۔ بھٹو نے بھی کرسی پر ہاتھ مار کر کہا تھا کہ ”یہ کرسی مضبوط ہے“، مگر وہ کرسی ان کے لئے ریت کا ڈھیر ثابت ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں