کراچی اِک شہر بے آب و گیاں 49

انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند

حکومت اور ملٹری کے موجودہ تناﺅ کی وجہ سیدھی سادھی ہے کہ ہر سویلین وزیر اعظم کسی نہ کسی موڑ پر اپنی طاقت کا اظہار کرنے کی کوشش کرتا ہے جب کہ تاریخ گواہ ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو، نواز شریف، آصف علی زرداری کئی موقعوں پر یہ بھول گئے کہ وہ عوام کی طاقت پر نہیں بلکہ فوج کی سپورٹ پر کرسی اقتدار پر براجمان ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ ملک ختم ہو سکتا ہے مگر پانچ لاکھ پچاس ہزار بندوق بردار فوجیوں کے ہوتے ہوئے ان کے جرنلز کی جانب کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا کیونکہ وہی پاکستان کے اصل حکمران ہیں اور اس ملک کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی وہی پیش کرتے چلے آرہے ہیں چنانچہ ملک کے تمام وسائل پر ان حب الوطنوں کا پہلا حق ہے یا پھر وہ لوگ جنہیں ان وردی والوں کی خوشنودی حاصل ہے۔ ماضی سے آج تک یہی فلم چل رہی ہے اور اگر اس سسٹم کو نہیں چلنے دیا گیا تو یہ بندوق والے حب الوطن اس پاکستان کے مزید ٹکڑے بخرے کروا دیں گے مگر اقتدار ایسے کسی فرد کو منتقل نہیں کریں گے جس کی منظوری ان کی کور نے نہ دی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان آج تک فوج کی وجہ سے قائم ہے وگرنہ تو یہ سیاسی پنڈت اب تک اس ملک کی گجگکھا چکے ہوتے۔ اب یہ سوال کون کرے کہ یہ تمام سیاستدان جو آج اقتدار میں ہیں یا اپوزیشن میں، انہیں For یا Against کے لئے کس نے تیار کیا ہے؟ گزشتہ 72 سالوں میں ہماری اسٹیلبشمنٹ پارٹی نے تمام ایوانوں میں اپنے بندے پہنچا دیئے ہیں اور یوں وہ جب چاہتے ہیں انگلی اٹھا دیتے ہیں اور یوں چلتا ہوا سسٹم اچانک دھڑام سے زمین بوس ہو جاتا ہے۔
اب آتے ہیں عمران خان کی حکومت کی جانب جنہوں نے ”اچھے بچے“ کی طرح تمام احکامات پر سر خم کئے رکھا۔ ان کے دور اقتدار میں گزشتہ دو بار آئی ایس آئی چیف کی تقرری ہوئی تو وہ راضی رہے۔ آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کا معالہ آیا تو بھی ان کی غیرت نہ جاگی مگر اس بار آئی ایس آئی چیف کی تقرری کا معاملہ آیا تو وہ اچانک کسی ڈراﺅنے خواب کے سبب جاگ گئے اور وہ اعتراض اٹھا دیا جس کے سبب محترمہ بے نظیر بھٹو اللہ میاں کے گھر بھجوا دی گئیں۔ نواز شریف کو لندن فرار ہونا پڑا، آصف علی زرداری صدر کی حیثیت سے فوج کو وزارت دفاع کے دائرہ اختیار میں دینے کا خواب دیکھتے دیکھتے گھر چلے گئے مگر فوج کی روش میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہ آئی۔ آج ایک بار پھر عمران خان نے علم بغاوت بلند کیا ہے۔ سویلین سپرمیسی کی بات کی ہے جب کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا اقتدار پنڈی والوں کا مرہون منت ہے۔ ان کی خوش قسمتی کہئیے کہ اس وقت وردی والے بھی بند گلی میں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ کسی حد تک آپ کی سننے پر مجبور ہیں مگر عمران خان نہیں جانتے کہ انہوں نے بھڑوں کے چھتہ کو ہاتھ لگا دیا ہے اور جلد یا بدیر مستقبل قریب میں انہیں نئی صورتحال کا سامنا کرنا ہوگا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ سویلین اقتدار ہو یا فوجی اقتدار دونوں میں لوٹ مار زوروں پر جاری ہے اور اب ان دو طاقتور اکائیوں کی ذاتی مفادات کی جنگ ملک کو ایک ایسے دوراہے پر لے آئی ہے کہ نہ فوج اپنا احترام برقرار رکھ پا رہی ہے اور سیاستدانوں کی فائلیں اور ویڈیوز سب کے سامنے ہیں۔ یوں عوام کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل بن گیا ہے کہ وہ ”کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں“ یوں اسلامی جمہوریہ پاکستان جمہور کی آواز سے کوسوں دور جا چکا ہے۔ یوں بھی ہماری جمہور تو بے بس و مجبور ہے۔ جہالت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ پورا ملک یا تو جادو ٹونہ کا مرہون منت ہو چکا ہے یا پھر تعلیم کے فقدان اور ذاتی مفادات نے عوام کو عوام کا گلا کاٹنے پر مجبور کردیا ہے۔ رہی سہی کسر باہمی لسانی نفرتوں اور مذہبی منافرت نے پوری کردی ہے۔
ریاست مدینہ کا راگ الاپنے والے وزیر اعظم کی فرمائش تو پوری ہونا ناممکن ہے ہاں التبہ ان کی بچوں والی خواہشیں اور غلط فہمی کہ ملک کے تمام فیصلہ وہی کرتے ہیں اور ایک نہایت طاقت ور حکمران ہیں جب کہ اس بات کا دعویٰ کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو جنہیں عوام نے آج بھی زندہ رکھا ہوا ہے اور جن کی جڑیں بھی عوام میں مضبوط تھیں، اپنی حسرتیں اپنے دل میں لئے لاکھوں چاہنے والے عوام اور ڈھیروں اسلامی ممالک کی آنکھ کا تارا ہونے کے باوجود تختہ دار پر لٹکا دیئے گئے چنانچہ عمران خان کو چاہئے کہ اگر وہ اپنے اقتدار کا سورج غروب ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے تو کچھ عرصہ کے لئے اپنی زبان بند رکھیں اور کھیلنے کے لئے چاند کی فرمائش نہ کریں ورنہ۔۔۔!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں