اور لائن کٹ گئی 61

اور لائن کٹ گئی

کچھ ہی ہفتے پہلے میری سب سے چھوٹی خالہ کوٹہ میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ انہوں نے سات دھائیوں سے زیادہ عمر پائی۔ وہ کچھ سالوں سے مختلف بیماریوں سے نبردآزما رہیں۔ بڑی ہمت سے انہوں نے مقابلہ کیا۔ سب قارئین سے استدعا ہے کہ تمام مرحومین کے لئے اور بالخصوص میری والدہ جیسی خالہ کی روح کے ایصال ثواب کے لئے دعا فرمائیں۔
ان کی وراثت میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں جو کہ الحمدللہ سب شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو صبر عطا فرمائے اور بعداز مرگ بھی ماں کے لئے دعائے خیر کہنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
قارئین کرام پچھلے پانچ سال میں قیام کینیڈا کے دوران کئی ایک قریبی رشتہ دار اور دوست احباب اس دار فانی سے رخصت کر گئے مگر ہم پردیس میں ہونے کی وجہ سے ان کے غم میں شریک نہ ہو سکے جس کا بہت رنج ہے، جب میں پیدا ہوا تو میری دونوں خالائیں غیر شادی شدہ تھیں اور میں اپنے ننھیال میں پہلا بچہ تھا اس لئے میری بڑی ناز و نعمت سے پرورش ہوئی۔ میری نانی اماں سمیت خالاﺅں نے مجھے ماں جیسی محبت، توجہ اور شفقت دی۔ اسی لئے میرے بچپن میں ہی رشتہ دار اور اڑوس پڑوس کی خواتین کہا کرتی تھیں کہ منور کی چار مائیں ہیں۔ جب میں پاﺅں پاﺅں چلنے لگا تو میرے لئے مختلف قسم کے کھلونوں کا اہتمام کیا جاتا، مجھے خوش کرنے کے لئے کوئی پیالہ یا گلاس پکڑا دیا جاتا اور کہتیں کہ اسے پھینکو، جب میں وہ پیالہ پھینکتا اور اس کے ٹوٹنے سے جو آواز پیدا ہوتی اس سے میں ایک دم خوفزدہ بھی ہوتا لیکن فوری خوش بھی ہوتا۔ اور وہ سب تالیاں بجاتیں۔ میرے نانا ابو ان دنوں سنگاپور میں گوروں کی پلٹن میں کام کرتے تھے۔ تو وہ جب بھی پاکستان آتے میرے لئے اس زمانے کے حساب سے بہترین کپڑے لے کر آتے۔
نانی اماں سے لے کر خالاﺅں تک نے مجھے بڑے ناز و نعم سے پرورش کیا، میری بلائیں لی جاتیں، صدقے اتارے جاتے، کچھ سالوں بعد میری چھوٹی خالہ کی شادی ہو گئی مگر بدقسمتی کے ان کے ہاں کوئی اولاد نہ ہو سکی اور ان کا فوکس مجھ پر ہی رہا، حالانکہ میری ولادت کے بعد دو دو سال کے بعد دو بھائی پیدا ہوئے، مگر ننھیال میں جو میری قدر و منزلت تھی وہ شاید کسی بچے کی نہیں تھی حالانکہ وہ باقی بچوں سے بھی وہ پیار کرتے لیکن جو والہانہ محبت میرے ساتھ ہوئی اس کا شاید میں حق ادا نہیں کر سکتا۔
نانی اماں نے مجھے بہت بنا رکھا تھا کیوں کہ ان کے ہاں کوئی نرینہ اولاد نہ ہوئی، صرف تین بیٹیاں ہی تھیں جن میں میری والدہ سب سے بڑی تھیں، بعدازاں چھوٹی خالہ کی بھی شادی ہو گئی اور وہ اپنے خاوند کے ساتھ کوئٹہ منتقل ہو گئیں۔ ایسا کوئٹہ گئیں کہ پھر وہیں کی ہو رہیں۔ سب بچے وہیں پیدا ہوئے، اور ان کی تعلیم اور شادیاں بھی وہیں ہوئیں، دونوں بیٹے سرکاری نوکری بھی وہیں کرتے ہیں، سالوں بعد ماں سے ملنے سیالکوٹ آئیں اور کچھ ہفتے قیام کے بعد دوبارہ گھر روانہ ہو جاتیں۔ مجھے 1973ءمیں والد کے ساتھ پہلی دفعہ کوئٹہ جانے کا اتفاق ہوا اس وقت ان کی رہائش خداداد خان روڈ کوئٹہ تھی۔ بچے بھی کم اور چھوٹے تھے۔ میرے خالوں انتہائی پڑھے لکھے اور زیرک انسان تھے، جب ان کی وفات ہوئی تو وہ ڈپٹی الیکشن کمشنر قلات تھے۔
دونوں خالاﺅں کے ساتھ ہماری محبت بے حد تھی، میں دنیا میں جہاں کہیں بھی رہا، انہیں فون کرکے حال احوال پوچھتا اور کئی بار ایسا ہوا کہ وہ اپنے بڑے بیٹے اویس کو آواز مارتیں تو ان کے منہ سے بے ساختہ پہلے منور نکل جاتا کیوں کہ منور ان کی زندگی میں بھانجے اور بیٹے کی صورت میں شادی سے پہلے موجود تھا۔ ننھیال کا پیار بڑا پرخلوص ہوتا ہے اور وہ حقیقی معنوں میں اپنے نواسے نواسیوں سے محبت کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو اپنی اولاد سے ان کے بچے زیادہ پیارے لگنے لگتے ہیں۔
پچھلے چند سالوں میں ان کو ہارٹ کی تکلیف رہی اور اسٹنٹ بھی پڑ چکا تھا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی عمر کی وجہ سے کئی اندرونی بیماریاں حملہ آور تھیں۔ علاج معالجہ کی غرض سے وہ کئی بار لاہور آئیں جس سے کچھ افاقہ بھی ہوتا رہا۔ اور ہم لوگوں کو ان کی خدمت کا موقع بھی ملتا رہا۔ میری چھوٹی بہنوں نے بھی ان کی جتنی ہو سکی خدمت کی۔ ہمارے پاکستان میں قیام کے دوران میری زوجہ نے بھی ان کی بھرپور خدمت کی۔ میری موجودگی میں ان کا قیام ہمارے ہاں ہی ہوتا تھا۔ چند سال پہلے ان کی چھوٹی بیٹی کی شادی میں شرکت کرنے کے لئے میں اپنی زوجہ کے ساتھ کوئٹہ گیا۔ ہمارا قیام تین دن کا تھا، اس دوران ساری فیملی نے ہمیں بے پناہ عزت دی اور شادی کی رسومات کے ساتھ ساتھ اویس اور خالہ نے کوئٹہ کے مضافات کی سیاحت بھی کروائی۔ خاص طور پر ہنہ جھیل مجھے یاد ہے جو کہ بہت مشہور مانی جاتی ہے۔
لیکن پچھلے پانچ سالوں میں ہم کسی رشتہ دار یا دوست کی خوشی یا غم میں بذات خود شرکت نہیں کر سکے جو کہ بہت بڑی قربانی ہے جو پردیسیوں کو مجبوراً دینا پڑتی ہے ہمیں اس پر شدید ملال ہے۔
ہاں یہاں خالہ کی اولاد اور ان کی بہوﺅں کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گا، کیوں کہ ہم نے دیکھا کہ ان سب نے دن رات والدہ کی بے پناہ خدمت کی۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے، آمین۔ پچھلے سو سال کے دوران میرا دھیال ختم ہو چکا ہے تمام افراد اللہ کو پیارے ہو چکے اور ننھیال میں صرف یہ خالہ تھیں جو کہ ان کی آخری نشانی تھیں۔ ان کی وفات سے ننھیال کا ایک عہد بھی اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ دنیا کا دستور ہے کہ جو انسان دنیا میں آیا ہے اسے اپنا وقت مکمل کرکے اپنی اصل کی طرف لوٹنا ہے۔ دعا ہے کہ ہم سب کا خاتمہ ایمان کے ساتھ ہو، کچھ دن پہلے ہی میں نے اپنے فون کی ڈائریکٹری سے ان کا نمبر Delete کردیا ہے اور اس طرح لائن کٹ گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں