عمران خان نے کشمیر بھی فتح کرلیا! 102

اوورسیز پاکستانی سوشل میڈیا کی وزیر اعظم سے ملاقات کی خواہش۔۔۔سوشل میڈیا کے نو آموز صحافیوں کی وزیر اعظم سے ملاقات!

نہایت خوش آئند بات ہے کہ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر کام کرنے والے نئے اور پرانے صحافیوں کو وزیر اعظم نے عزت بخشی اور ان کو وزیر اعظم سیکریٹریٹ مدعو کیا ان سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہیں حکومتی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ پی ٹی آئی کے منشور پر عملدرآمد کے حوالے سے انہیں اپنی مشکلات سے آگاہ کیا اور ایک مرتبہ پھر اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پچھلی حکومتوں کے کرپٹ سیاستدانوں کو کسی صورت این آر او نہیں دیا جائے گا۔ کرپٹ سیاست دانوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے راستے میں بہت ساری قانونی پیچیدگیاں ہائل ہیں۔ جن پر وزیر اعظم نے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ مدعو کئے گئے صحافیوں نے مختلف سوالات بھی کئے اور بعض نے بڑی عمدہ تجاویز بھی دیں۔ جنہیں وزیر اعظم نے نوٹ کرنے کو کہا۔
اس سے پہلے بھی وزیر اعظم سوشل میڈیا کے صحافیوں سے بالمشافہ ملاقات کر چکے ہیں جو کہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عمران خان کو روایتی سسٹم سے نکل کر آئے ہوئے صحافیوں کے ساتھ ساتھ غیر روایتی طریقے سے ابھر کر آنے والے نو آموز صحافیوں کی بھی پرواہ ہے۔ عمران خان کے ویژن میں بڑے واضح طور پر نظر آتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ ہو، ادارے ہوں، کھیل کے میدان ہوں یا صحافت کا میدان ہو، نئے خون کو آگے لانا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہمارے ملکی سسٹم کے اندر بار بار (Clout) بن کے جم جانے والے خون کی جگہ فریش بلڈ یعنی نوجوان نسل کو نئے جدید خیالات کے ساتھ آگے آنا چاہئے کیوں کہ عمران خان کی اصل Strength ہی Youth کی سپورٹ ہے۔ جس کے لئے وزیر اعظم آئے دن نئے سے نیا پروگرام متعارف کروا رہے ہیں۔
اسی طرح ان کا خیال ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا سے چمٹی پرانی جونکوں سے جان چھڑائی جائے، جنہیں جدید آلات کا استعمال تک نہیں آتا۔ وہ صرف موبائل فون سننا اور بند کرنا ہی جانتے ہیں اس کے تکنیکی پہلوﺅں سے متعارف نہیں ہیں۔ پرانے صحافی صرف اور صرف تجربہ کی وجہ سے میدان صحافت میں موجود ہیں وگرنہ آج کے جدید دور کے یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ صحافی نوجوان ہر میدان میں ان سے آگے ہیں۔
اگر مین اسٹریم پرائیویٹ میڈیا کی بھی بات کی جائے تو اس میں کام کرنے والے اینکروں کی اکثریت کوالیفائیڈ صحافی نہیں ہیں اور پھر ان کے پاس ریسرچرز کی ٹیم میسر ہوتی ہے جو انہیں کرنٹ افیئرز سے Related مواد تیار کرکے دیتی ہے آج کے دور کی جدید ایجاد Teleprompter کا استعمال بھی بہت محدود معاون ثابت ہوتا ہے ایک گھنٹہ کے پروگرام میں تین، چار وقفے لئے جاتے ہیں جس سے اینکر حضرات کو بہت آسانی ہو جاتی ہے۔ یہی اینکر چینلوں سے لاکھوں روپے تنخواہیں لے رہے ہیں اور مراعات اس کے علاوہ۔ حکومت کے افسران اور وزراءان سے خائف رہتے ہیں ان کی بہت ساری سفارشیں ان کو ماننتی پڑتی ہیں۔ ہر جائز ناجائز کام کروانے پر ملکہ رکھتے ہیں جب کہ سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی دلچسپی اور شوق کی خاطر یہ فریضہ انجام دیتے ہیں۔ عام طور پر ان کو کسی طرف سے مالی سپورٹ نہیں ملتی سوائے ان لوگوں کے جن کے چینل دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ان کو یوٹیوب کی طرف سے پیسے ادا کئے جاتے ہیں لیکن یہ لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ باقی ماندہ اپنی روح کی تسکین اور بیرون ملک بیٹھے ہوئے جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر اظہار خیال کرتے ہیں اور پھر یہ خداداد صلاحیت ہے اس کو Create کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
میں نے اپنے یوٹیوب چینل (VOC Urdu) سے وزیر اعظم عمران خان کو تجویز کیا ہے کہ وہ اندرون ملک سے چلانے والے سوشل میڈیا کے لوگوں سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں مگر انہوں نے بیرون ملک سے چلائے جانے والے سوشل میڈیا کے لوگوں سے کوئی ایسی ملاقات کا اہتمام نہیں کیا ہے۔ میں نے تجویز کیا ہے کہ ایسے پاکستانی صحافی جو یہاں پرنٹ میڈیا میں آرٹیکل لکھ کر ملک و قوم کی خدمت کررہے ہیں اور خصوصی طور پر پی ٹی آئی کی پالیسیز کی حمایت کرتے ہیں ان کو سراہا جانا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد جو یوٹیوب چینلوں کے ذریعے حکومتی پالیسیوں کو مثبت انداز میں پیش کررہے ہیں اور اپوزیشن کی کرپٹ لیڈرشپ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں ان سے بھی ورچوئل ملاقات کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔
وزیر اعظم کو میڈیا کی اہمیت کا با خوبی احساس ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح غیر ملکی پاکستانی عمران خان اور پاکستان کے لئے بہت عظیم سرمایہ اور قوت ہیں ان کو بھی آن بورڈ لینا چاہئے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو سکے اور وہ لوگ زیادہ پرجوش طریقے سے وطن عزیز کی خدمت قلم اور زبان سے کرسکیں۔
امید ہے کہ یہ تجویز وزیر اعظم اور ان کے رفقاءتک پہنچائی جائے گی۔ اس سے گراس روٹ لیول تک عمران خان کا پیغام پہنچایا جائے گا۔ اوورسیز پاکستانیز پہلے ہی عمران خان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اس کو پاکستان کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں