تیری نظر پہ چھوڑا ہے فیصلہ 128

اک بڑا دانشور افسانہ نگار براڈ کاسٹر سلطان جمیل نسیم

سلطان جمیل نسیم اپنے دور کا بڑا افسانہ نگار اس کا جائزہ ان افسانوں لیا جاسکتا جو اب تک پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر سے شائع ہونے والے جرائد میں گزشتہ ستر سالوں مسلسل اردو ادب کے قارئین کے ذوق کی تسکین کررہے ہیں۔ جس کا اظہار ان کے ہم عصر دانشوروں نے مختلف مواقعوں کیا۔
٭….”آج کل ہمارا افسانہ نگار جدیدیت کے فیشن میں مبتلا ہے۔ ادب میں جدیدیت ممنوعہ شے نہیں ہے لیکن دائمی قدریں ہمیشہ فیشن زدگی سے الگ رہتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ سلطان جمیل اس علت کا شکار نہیں ہوئے، ان کی کہانیاں پڑھ کر مجھے ہمیشہ خوشی ہوتی ہے کہ ابھی ہمارے نوجوان لکھنے والوں میں ایسے افسانہ نگار موجود ہیں جن کا قلم مستقبل سے مایوس نہیں ہونے دیتا، میری دعا ہے کہ خدا ان کی عمر میں برکت اور فکر کو مزید قوت عطا فرمائے۔“
غلام عباس….1970ئ
٭….”سلطان جمیل نسیم کی کہانیاں مجھے اچھی لگیں، ان میں روایتی کہانی کے برعکس اختصار اور ایجاز کی خوبیاں ہیں۔ آپ نے ان کا مواد ہم عصر معاشرے اور اردگرد کی جیتی جاگتی زندگی سے کشید کیا ہے۔ ان میں ریڈیبلٹی ہے جو کسی کامیاب کہانی کی پہلی شرط ہوتی ہے بعض علامتی انداز کی کہانیاں نیا ذائقہ لئے ہوئے ہیں۔ میں ایسی ہی علامتیں پسند کرتا ہوں جو معنی کا دائرہ وسیع کردیں، تاثر میں شدت پیدا کردیں اور قاری کو لٹکنے نہ دیں۔ شناخت، جنریشن گیپ اور میرے لئے حقیقت نگاری کے اسلوب میں لکھی ہوئی نہایت عمدہ کہانیاں ہیں۔ مجموعی طور پر مجھے آپ کی سب ہی کہانیاں کامیاب اور اچھی معلوم ہوئی ہیں۔ تنوع نہ صرف آپ کے موضوعات میں ہے بلکہ آپ کا اسٹائل بھی جامد نہیں ہے اور یہ بڑی بات ہے۔“
محمد منشا شاد
٭….”سلطان جمیل نسیم ان قابل ذکر افسانہ نگاروں میں سے ہیں جو ”کہانی اور افسانہ“ کے فرق کی بابت شعوری ہوئے بغیر اپنی کاوشوں میں مگن ہیں۔ وہ پہلے سے طے شدہ مفروضات کی عینک سے ہم عصری حقیقتوں کا مشاہدہ نہیں کرتے۔ شاید یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ وہ ہئیت کے بارے میں متشدد ہونے کے بجائے اسے اپنے مواد پر چھوڑ دیتے ہیں۔ سلطان جمیل نسیم کے افسانوں میں حقیقت پسندی، اشاریت پسندی اور علائم نگاری کی تکنیک اپنی ضرورت کے مطابق نظر آتی ہے۔ وہ انسانی زندگی کے قابل مطالعہ رُخ کو اپنی آنکھوں اور ذہن سے بیک وقت دیکھتے ہیں۔ صرف یہی ان کا وصف نہیں بلکہ ان کی انفرادیت کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ مشاہدہ ہی میں مطالعہ اور محاکمہ کے عناصر کچھ اس طرح پرو دیتے ہیں کہ ان کی تخلیقات میں کہانی کا حسن بھی باقی رہتا ہے اور اس کے افسانہ نگار مجہول غیر جانب داری کے الزام سے بھی بری الذمہ ہو جاتا ہے۔“
ڈاکٹر محمد علی صدیقی
٭….”ایک اعلیٰ پائے کے افسانہ نگار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہونی چاہئے کہ وہ جب معمولی سے واقعہ کو بھی مس کرے تو وہ ایک جیتی جاگتی کہانی میں تبدیل ہو جائے۔ سلطان جمیل نسیم کو قدرت کی طرف سے یہی خوبی ودیعت ہوئی ہے۔ اسی لئے ان کے افسانوں میں ”کہانی پن“ اپنی ساری جاذبیت اور تنوع کے ساتھ ابھرا ہے۔ علامتی تجریدی افسانے کے اس دور میں جب کہانی محض ایک ہیولا سا بن رہی ہے، سلطان جمیل نسیم نے کہانی کو واقعاتی بنیاد مہیا کی ہے مگر ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے کہانی کو واقعہ کی سپاٹ سطح پر رہنے نہیں دیا بلکہ اسے اوپر اٹھا کر اس میں ایک نئی معنویت سمودی ہے۔ میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ اُردو افسانے کا مستقبل نہ تو محض واقعہ نگاری سے عبارت ہو گا اور محض علامتی تجریدی انداز اظہار سے بلکہ وہ اس خاص ادب میں اُبھرے گا جس میں افسانہ، واقعہ میں مضمر اس کی معنوی پرچھائیں کو جلو میں لے کر برآمد ہوتا ہے۔ سلطان جمیل نسیم کی افسانہ نگاری کا امتیازی وصف یہ ہے کہ اس میں اُردو افسانے کا یہ مستقبل لودینے لگا ہے۔“
وزیر آغا
٭….”سلطان جمیل نسیم ایک منجھے ہوئے افسانہ نگار ہیں، گزشتہ پچاس برس سے افسانہ لکھ رہے ہیں۔ ان کے قلم کی کاٹ بہت تیز ہے۔ اُردو ان کی مادری زبان ہے، ان کے پاس ایک وسیع ذخیرہ الفاظ ہے۔ وہ مقامی لفظ Colloqugal بھی استعمال کر جاتے ہیں۔ زبان پہ ان کی گرفت کچھ ایسی ہے کہ ناگفتنی بھی کہہ گزرتے ہیں۔ ورنہ اب تک مصلوب کردیئے جاتے۔ برصغیر کے ممتاز و معبر شاعر صبا اکبر آبادی کے صاحبزادے ہیں، زبان آگرے کی ہے، مجھی ہوئی، دھلی دھلائی، خوبصورت خوبصورت جسے کراچی کی کثیف فضا بھی آلودہ نہ کرسکی۔“
آغا گل
٭….”سلطان جمیل نسیم کے فن یا ان کی تخلیقات کے بارے میں یہ بات واضح طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ان کے افسانوں میں شہری زندگی کی بے شمار تصویریں مختلف زاویں اور نو بہ نو رنگوں کے ساتھ اس طرح بیان ہوتی ہیں کہ قاری سے مکالمہ کرنے لگتی ہیں اور یہ میرے نزدیک اس بات کی بھی دلیل ہیں کہ انہوں نے ذاتی تشہیر پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے اپنے فن کو مرکز فکر و نظر بنائے رکھا ہے۔ اگرچہ سلطان جمیل نسیم کے فن پر ایم اے کی سطح پر کئی مقالے تحریر کئے جا چکے ہیں، حال ہی میں جناب اکرم بریلوی نے سلطان جمیل نسیم کے افسانوں کو موضوع بنایا ہے۔ ایک بزرگ ناول نگار اور نقاد کی جانب سے اپنے عہد کے ایک اہم افسانہ نگار کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کے ساتھ دوسرے ناقدین کو اپنے عہد کے افسانے کی طرف توجہ مبذول کرانے کی ایک سعی کامیاب بھی کہی جا سکتی ہے۔“
نسیم درانی
٭….”فنکار اپنے ذہن کی تنہائیوں میں زندہ رہتا ہے۔ اس کے پاﺅں اپنی دھرتی سے جڑے ہوتے ہیں۔ سلطان جمیل نسیم کے افسانے پڑھ کر احساس ہوا کہ وہ فکشن کی بجائے Factual Fiction میں یقین رکھتا ہے۔ اس نے اپنے معاشرے کے تہذیبی، معاشی، سیاسی اور تاریخی تضادات کو بہت قریب سے محسوس کیا ہے بلکہ اپنی تخلیقات کا خام مواد بھی وہیں سے حاصل کیا ہے پھر اسے اپنی کہانیوں میں سموتے وقت خود سے ان گنت جنگیں لڑی ہیں، اپنا خون جلایا ہے تب کہیں ان کے افسانے اپنے رنگ روپ میں سنور کر منظرعام پر آئے ہیں۔ سلطان جمیل نسیم نے اپنی تخلیقی زبان، پختہ کرافٹ، بلند تخیل، منطقی جزیات اور فنی صلاحیتوں کے ساتھ اپنے افسانوں کو نہایت کامیابی سے لکھا ہے۔“
جتندر بلو۔۔۔ لندن
٭….”سلطان جمیل نسیم نظر اور نظریہ کے درمیان ایک نقطہ اتصال ہے۔ اس کے افسانے شعور اور وجدان ہم آہنگی سے جنم لیتے ہیں اور وہ اپنے تخلیقی سفر میں نہ اپنے تجربہ اور مشاہدہ سے انکار کرتا ہے اور نہ تجربہ اور مشاہدہ کے دوش بدوش بصیرت کی نظر نہ آنے والی لہر سے بے تعلق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے افسانے میں خوشگوار احساس تخیر کے ساتھ ہمیں زندگی کے بارے میں سنجیدہ غور و فکر کی طرف بھی مائل کرتے ہیں۔ ہمارے میں ایک سچے اور کامیاب افسانہ نگار کا مقصد اس کے سوا کچھ اور ہے بھی نہیں۔“
احمد ھمدانی
٭…. ”میں سلطان جمیل نسیم کے افسانوں کا پرانا قاری ہوں ان کے بعض افسانوں نے میرے ذہن میں کہرام بھی برپا کیا اور زندگی سے جو مجھے نظر آتی تھی اور جس اثبات جمیل نسیم کے افسانے پوری جرات سے کرتے تھے۔ سلطان جمیل نسیم نے قدیم افسانے کی روایت سے رشتہ منقطع کئے بغیر جدیدیت کی طرف پیش قدمی کی تو یہ قبول عام فیشن کرنے کی بدعادت نہیں تھی بلکہ مقصود معنی کے ہیولے اور واقعے کی حقیقت کو ایک نئے انداز میں پیش کرنا تھا۔ اس قسم کے افسانوں میں انہوں نے منظر کے پس پردہ عمل میں آنے والے ہنگامے کو دیکھنے اور کرداروں کے نقوش اور خدوخال سے الگ ہو کر افعال اور اعمال سے اپنا حقیقی تجربہ پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کا تاثر چونکہ گہرا ہے اس لیے سمجھتا ہوں کہ سلطان جمیل نسیم سے جو معاشرتی مقصد بلا اعلان حاصل کرنا چاہتے تھے وہ اس کے حصول میں پوری طرح کامیاب ہو گئے ہیں۔“
ڈاکٹر انور سدید
٭…. ”سلطان جمیل نسیم نے کہانی کی بنت اور اظہار کے لیے جو طریقہ اپنایا ہے وہ روایت سے گہری وابستگی رکھتے ہوئے بھی جدید انداز اور طرز احساس اور حسیت اظہار کے روایتی رویوں سے مل کر ان کے یہاں انفرادیت اور پہچان کی گواہی دیتے ہیں۔ ان کی کہانیاں جدید عہد کے مسائل، فرد کی آزادی اور آشوب شہر، شہروں کی میکانکی کیفیات اور کسی حد تک سیاسی سماجی صورت کا احاطہ کرتے ہوئے جدید عہد کے انسان کی بے سروسامانی اور دکھ درد کی تصویریں پیش کرتی ہیں۔ ان کا فرد آشوب زندگی میں جینے کی امنگ کے لیے مسلسل آگے بڑھنے اور زندہ رہنے کے عمل سے گزرتا ہے۔ روح عصر اور موضوع کی سماجی ہم آہنگی نے ان میں جدید طرز احساس کو ایک عجیب مزاج اور لہجے میں نمایاں کیا ہے اور یہی ان کی پہچان ہے۔“
رشید امجد
٭…. ”سلطان جمیل نسیم نے کہانیوں میں کراچی شہر اور پاکستان کا کچھ اس طرح نقشہ کھینچا ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کہانیوں میں فن اور زندگی کے سارے رشتے موجود ہیں جو ہمیں اس شہر کے مختلف باسیوں کے درد اور غم اور کرب سے متعارف کرواتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پچھلی چند دہائیوں میں امن اور سکون سے زندگی گزارنے والے کیسے دہشت اور وہشت میں گھر گئے ہیں۔
سلطان جمیل نسیم ہر صفحے پر قاری کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں اور اسے آئینہ دکھاتے ہیں لیکن وہ آئینہ چکنا چور ہو چکا ہے کیونکہ اس شہر کے باسیوں کی انائیں چکنا چور ہو چکی ہیں ان کی کرچیاں عوام و خواص کے لاشعور میں گھس چکی ہیں۔“
ڈاکٹر خالد سہیل
٭…. ”سلطان جمیل نسیم کے افسانے اُردو افسانہ نگاری کی اس عظیم روایت سے تعلق رکھتے ہیں جس کا آغاز منشی پریم چند سے ہوا اور جو افسانے میں تجریدیت کی حالیہ آندھی تک اردو ادب کا سرمایہ افتخار رہی۔ آج بعض لوگ، جو جدید کہلانا پسند کرتے ہیں، اس روایت کو ماضی کی فرسودہ روایت قرار دے کر خوش ہوتے ہیں مگر یہی تو وہ روایت ہے جو دنیا بھر میں فکشن کے غیر فانی شاہکاروں کی صورت میں محفوظ ہے اور آئندہ بھی سچے اور کھرے افسانے اور نادل کی عمارت اس روایت کی بنیاد پر اٹھائی جائے گی۔ افسانے میں تجریدیت کا تجربہ ایک تیز جھونکا تھا جو اس روایت کو مسخ کئے بغیر گزر گیا۔ میرے اس دعوے کا ایک روشن ثبوت سلطان جمیل نسیم کی یہ کہانیاں ہیں جو ”کھویا ہوا آدمی“ میں یکجا کردی گئی ہیں۔ یہ کہانیاں نہ صرف اردو فکشن کی متذکرہ عظیم روایت کی نمائندہ ہیں بلکہ مصنف نے اس روایت کو اپنی صاف ستھری حقیقت پسندی اور جرات مندانہ صداقت نگاری سے مزید نکھارا ہے۔ سلطان جمیل نسیم کی زبان سادہ اور رواں ہے اور مشاہدہ تیز اور ہمہ گیر ہے۔ اس کا اسلوب دل و دماغ کو افسانے کی ابتدا ہی سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور جب وہ افسانے کو سمیٹتا ہے تو قاری کا ذہن پوری طرح منور ہو چکا ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں