اور لائن کٹ گئی 35

ایشیا کپ جیتنے پر سری لنکا کو مبارکباد!

دبئی میں کھیلا جانے والا کرکٹ کا ایشیا کپ ٹورنامنٹ سری لنکا نے پاکستان کو فائنل میں ہرا کر جیت لیا ہے۔ اس پر سری لنکن کرکٹ ٹیم اور سری لنکن عوام مبارکباد کی مستحق ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے سری لنکا میں حکومت مخالف مظاہروں اور ملکی دیوالیہ کی خبریں آرہی تھیں۔ جس سے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سری لنکن مایوس اور متفکر تھے جیسے ہم پاکستانی اپنے ملک کے دگرگوں حالات دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں۔ یہ قدرتی امر ہے۔
ایشیا کپ جیتنے سے سری لنکا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور لوگوں نے عرصے بعد خوشی کی نوید سنی۔ سری لنکا ہمارا بہت اچھا دوست ملک ہے اور ہمںی اس کی جیت پر خوشی ہے۔ جب دو ٹیمیں میدان میں اترتی ہیں تو ایک ہی کو جیتنا ہوتا ہے اور پھر خاص طور پر ٹی ٹونٹی میچز کی اگر بات کی جائے تو یہ ایسا کھیل بن چکا ہے کہ جو ٹیم اس دن اچھا پرفارم کرے گی وہ جیت جائے گی خواہ وہ ٹیم ہارنے والی ٹیم سے کمزور ہی کیوں نہ ہو۔
دبئی کے سٹہ بازوں نے پاکستان کو فیورٹ قرار دے رکھا تھا کیوں کہ ہماری ٹیم ان سے بہتر تھی اور پھر سابقہ ریکارڈز کے مطابق بھی ہم نے ان سے بہت زیادہ میچز جیتے ہوئے ہیں۔ بہرکیف آج کا میچ بڑا دلچسپ رہا، سری لنکا کے پانچ کھلاری بہت جلد آﺅٹ ہو گئے اور پاکستانی بالرز سے توقع تھی کہ وہ باقی کھلاڑیوں کو سو کے اندر اندر آﺅٹ کرلیں گے لیکن انہوں نے غیر متوقع طور پر اچھا کھیل پیش کیا اور پاکستان کو 170 کا ٹارگٹ دیا جو کہ بہت زیادہ مشکل نہیں تھا لیکن پاکستان کی اننگز کی شروعات ہی بہت بری رہی۔ کپتان بابر اعظم اور فخر زمان بالترتیب 6 اور صفر اسکور بنا کر آﺅٹ ہو گئے البتہ رضوا نے بعد میں اسکور کو 80 تک پہنچا دیا۔ اس وقت تک وسیم بھی 32 رنز بنا چکا تھا یعنی آپ اس سے اندازہ لگائیں کے 82 پر 2 آﺅٹ تھے اور 148 پر تمام ٹیم آﺅٹ ہو گئی یعنی سری لنکا 22 رنز سے فائنل جیت گیا۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کا یہی المیہ رہا ہے کہ ہماری ٹیم میں بیش بہا تبدیلیاں کی جاتی ہیں، سفارشی لڑکوں کو کھلایا جاتا ہے، ٹیم میں کھلاڑیوں کا تسلسل نہیں رہتا، عموماً نئے کھلاڑیوں کے ساتھ تجربات کئے جاتے ہیں جو بعض اوقات کامیاب ہو جاتے ہیں اور اکثر اوقات ناکام رہتے ہیں۔
ہماری سری لنکا کے ہاتھوں ہار کا اس قدر دکھ نہیں ہوا جس قدر انڈیا سے ہارنے پر ہوتا ہے کیوں کہ انڈیا کے عوام اور متعصب میڈیا اس کو بہت اچھالتا ہے اور منفی پراپیگنڈہ کرتا ہے۔ ہم کسی ٹورنامنٹ میں اگر انڈیا کو ہرا دیں تو ہمارے ہاں تصور پایا جاتا ہے کہ ہم نے ٹورنامنٹ جیت لیا ہے، اسی ٹورنامنٹ میں پاکستان نے انڈیا کو ہرا کر ٹورنامنٹ سے باہر کردیا تھا جس پر بھارتی ٹیم اور قوم مطمئن تھی کہ ہم انڈیا کو ہرا کر ٹورنامنٹ جیت چکے ہیں مگر جیت جیت اور ہار ہار ہوتی ہے بہرحال سری لنکا نے ہمیں دونوں میچوں میں ہرا کر ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک اچھی ٹیم ہے اور جو اچھا کھیلے گا اسے جیتنا چاہئے اور مبارکباد بھی دینی چاہئے۔ پاکستان کو اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں