Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 77

ایک خان سب پہ بھاری۔۔۔!

مذہب کارڈ جو لوگ بھی استعمال کررہے ہیں اور ان کے ارادے یا مقاصد کچھ بھی ہوں س ہتھکنڈے یا حربے سے نہ تو مذہب اسلام کو کوئی فائدہ پہنچے گا اور نہ ہی ریاست پاکستان کو۔۔۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کرہ ارض کا وہ واحد اسلامی ملک ہے جس کا وجود ہی اسلام پر ہے یعنی اسلام کے نام پر بننے والا ملک ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور ہر کوئی مسلمان ہونے کے ناطے دل کے اور روح کے ہاتھوں یہ کہنے پر مجبور ہے ”لبیک یا رسول اللہ“ یہ تو بنیادی باتیں ہیں اس کی یاد آوری یا یاد دہانی کے لئے نہ تو کسی یلغار کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی تحریک کی اور نہ ہی مارکیٹنگ کی۔۔۔؟ ٹارچ کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں تاریکی ہو، گھپ اندھیرا ہو، روشن کمرہ میں ٹارچ کا استعمال کرنے والا دیوانہ ہی ہو سکتا ہے، اس لئے اس طرح کی تحریکوں کی ضرورت اکھنڈ بھارت اور روہنگیا میں تو ہو سکتی ہے مگر پاکستان جیسے اسلامی ملک میں نہیں۔۔۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کی تحریکوں اور ان سے وابستہ سیاسی یا دینی جماعتوں کے بنانے کی ضرورت یا پھر نوبت کیوں پیش آئی تو اس کا سیدھا سادا سا جواب بقول تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کے یہ ہی ہو سکتا ہے کہ ملک کے سادہ لوح عوام کے جذبات سے کھیلتے ہوئے اپنے اپنے ووٹ بینک میں اضافہ کرنا اور ایک لڑاکا فورس تیار کرکے اپنی طاقت اپنی افرادی قوت کا مظاہرہ کرنا تاکہ حکمرانوں کو بلیک میل کرکے ان سے اپنے جائز اور ناجائز مطالبات منواسکے۔ اس کے سوا اس طرح کی مذہبی تحریکوں کا کوئی اور مصرف نظر نہیں آرہا لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خادم رضوی کی گرفتاری اور ان کی رحلت کے بعد جو آگ بجھ چکی تھی اور چنگاریاں تقریباً ٹھنڈی پڑ چکی تھیں پھر انہیں کس نے ہوا دے کر آگ کا شعلہ بنانے کی کوشش کی۔۔۔؟ کس نے؟؟ اس ایک سوال کی وجہ سے بہت ساری تھیوریاں اس وقت سیاسی میدان میں چل رہی ہے، کوئی اس کا ذمہ دار مسلم لیگ ن کو، کوئی عمرانخان کے اپنے ہی ساتھیوں کو اور کوئی دور بیٹھے تماش بین کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔
میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ جو کوئی بھی اس کا ذمہ دار ہے وہ کیوں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک اور مذہب دونوں کے لئے زہر قاتل ہے۔۔۔ ایک اور تھیوری بھی چل رہی ہے کہ یہ سب کچھ اعلیٰ حضرت مولانا فضل الرحمن کو گھیرنے اور انہیں سیاسی نقصان پہنچانے کے لئے کیا جارہا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ خادم رضوی کے بیٹے سعد رضوی کو راتوں رات بڑا مذہبی لیڈر بنانے سے مولانا فضل الرحمن کی صحت پر کیا اثر پڑے گا؟ اس سے کیا مولانا کا قد کم ہو جائے گا یا پھر ان کے وزن میں کمی آ جائے گی، کسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، چرب زبانی میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہو گا اور جو نقصان ان مذہبی ہنگاموں کی وجہ سے ہوا جو قیمتی جانیں اس میں ضائع ہوئی ہیں اس کا ازالہ کون کرے گا؟ اس طرح کی تحریکوں سے جس طرح کے لوگوں یا نعروں کو لے کر جو لوگ چلتے ہیں وہ ان کی مارکیٹنگ سے زیادہ خود ان کی رسوائی کا باعث بن رہے ہوتے ہیں، وہ اپنی ان جارحانہ اور مار دھاڑ کی تحریکوں سے اپنے مشن کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں جن کا انہیں شعور نہیں ہوتا۔ اس طرح کی تحریکوں کا حصہ بننے والوں کو ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہئے کہ وہ جو بھی کچھ کررہے ہیں وہ کیا انسانیت اور مذہب کے لئے ٹھیک ہے؟ اور کیا ان کی یہ ساری حرکات و سکنات اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے وہ جن بہروپیوں کی تقریروں سے متاثر ہو کر ڈنڈے برساتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہو، کاش اتنا ہی اثر قرآن مجید کے ارشادات کا لیا ہوا ہوتا تو آج پاکستانی معاشرے اور خود پاکستان کا یہ حال نہ ہوتا؟ اور نہ ہی کسی کو مذہبی دکانداری کرنے کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی کوئی ان بہروپیوں کی باتوں میں آتا جو انہیں ایندھن کی طرح سے استعمال کررہے ہیں۔ ایک بات جو مجھے ہضم نہیں ہو رہی ہے وہ یہ کہ یہ آناً فاناً اتنا بہت کچھ ہو گیا اور ہمارے ملک کے جو تحقیقاتی ادارے ہیں انہیں کانوں کان اس کی کوئی خبر نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ اس مذہبی شرپسندی میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی کر سکے۔ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے جسے ان کی ناکامی قرار دینا بھی ایک طرح سے انہیں قانونی تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہو گا۔ ملک کی تازہ ترین صورتحال سے واقف کار لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حربے یا ٹوٹکے حکمرانوں پر نفسیاتی دباﺅ بڑھانے کے لئے کئے جاتے ہیں تاکہ ان سے اپنے مطلوبہ کام کروالیا جائے اب یہ ہی معلوم ہو رہا ہے۔ حکومت کا پس پردہ جو قوتیں اس وقت سرگرم عمل ہیں وہ اس احتجاج کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔
سب کو معلوم ہے کہ احتجاج کا جواز بھی خود حکمرانوں نے فراہم کیا اگر وہ لبیک تنظیم کے مطالبات مان لیتے تو اتنا خون خرابہ نہ ہوتا۔ فرانس کے سفیر کو اگر ملک بدر کر دیا جاتا جو کہ آسان نہیں ہے مگر ایسا کرنے سے دوسری قوتوں کو اس طرح کا پرتشدد مذہبی شو کروانے کا موقع نہ ملتا جس سے بہت سارے لوگ ناحق مارے گئے۔ فرانس کے اس اہانت آمیز طرز عمل پر پورا عالم اسلام اگر سراپا احتجاج ہے تو پھر اسلام کا قلعہ کہلانے والا پاکستان اور اس کے جوشیلے مذہبی باشندے کس طرح سے خاموش رہ سکتے ہیں لیکن افسوس کہ ان کا طریقہ کار غیر اسلامی اور غیر جمہوری تھا جس سے اس کے پس پردہ قوتوں نے ایک تیر سے کہیں شکار کئے اب وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کہ اس نازک اور حساس ترین مسئلہ کو جوش کے بجائے ہوش اور فہم و ادراک سے حل کریں تاکہ ملک دشمن عناصر کو اپنا کھیل کھیلنے کا موقع نہ مل سکے۔ اسی میں پاکستان کی سلامتی مضمر ہے۔ چلتے چلتے عمران خان نے ایک اور حربہ فرانسیسی سفیر کے ملک سے نکالنے کا معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑتے ہوئے قرارداد پیش کردی اس سے ایک تیر سے کئی شکار کئے اور ”سانپ بھی مر جائے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے“ کے مصداق منافقوں کو بے نقاب بھی کردیا۔ اسی کو سیاست کہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں