”جلے ہوئے آسمان کے پرندے“ کا ادبی تجزیہ! 42

ایک شام ڈاکٹر عارفہ سیدہ کے نام!

بہت کوشش کے باوجود تھوڑی سی دیر سے پہنچنے کی تکلیف اپنی جگہ لیکن ہال میں داخل ہوتے ہی نوجوانوں اور ان کی تربیت کے مسائل کا تذکرہ سن کے خیال آیا کہ آپ ہمیشہ سے نوجوانوں کیلئے اتنی ہی شفیق اور مہربان تھیں۔ آپ کے لہجے کی شفقت اور مہربان چہرے کی مسکراہٹ میرے ذہن کے کسی گوشے میں کہیں قید رہ گئی تھی تبھی سوشل میڈیا پر پہلی بار آپکو بولتے دیکھا تو وہی مہربان چہرہ ، عاجزی اور شفقت وہ چیزیں تھیں جنھوں نے آپ سے برسوں بعد پھر ملوایا اس سے پہلے آپ کو اکثر کالج کے کوریڈورز میں ، آفس میں، مختلف سیشنز اور پروگرامز میں اپنی مخصوص مسکراہٹ اور شفقت بھرے انداز میں دیکھنا روزمرہ کا معمول تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ اپنے کالج کی طالبات کیلئے ایک انتہائی مثبت اور شفیق درسگاہ تھیں۔ ان ہی سوچوں کے ساتھ میں ہال میں داخل ہوئی تو آپ ہال کے شرکا سے اپنے مخصوص انداز میں مخاطب تھیں
پاکستان ٹائمز کینیڈا کے زیر اہتمام منعقد کی جانے والی ایک شام یقیناً ایک خوبصورت یادگار رہے گی۔
میرے لئے آپ سے اتنے سالوں بعد یوں پاکستان سے اتنی دور دنیا کی سب سے پیاری جگہ اور میرے گھر کینیڈا میں ملنا بہت بڑا اعزاز تھا۔ مجھے یاد ہے کہ آپ کا انتہائی متانت بھرا لہجہ آپ کی ذات کا سب سے مثبت پہلو ہے جس کی بدولت آپ کو کالج میں بھی ہمیشہ غور سے سنا اور اوائل اگست کی اک شام میں یہاں ٹورنٹو کے ہال میں بیٹھے جس وقت آپ تربیت کے بارے میں انتہائی بنیادی اصولوں پر بات کررہی تھیں مجھے لگا کئی سال پہلے کا وقت ہے ابو ناشتے پہ بیٹھے ہمیں یہ اصول روزانہ کی بنیاد پہ بتائے جاتے تھے یہی وجہ ہے کہ بہت کچھ بھول گیا مگر وہ سارے اصول یاد رہ گئے اور ان کی اصولوں عملی صورت ہماری اپنی ذات ہوتی ہے کہ ہم کس حد تک اپنی ذات کو ان اصولوں میں ڈھالنے کے قابل ہوسکے ہیں۔
محترمہ کہتی ہیں کہ کوئی آپ کا لاکھ ہاتھ جھٹکے مگر آپ پھر بھی بار بار اس کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھاتے ہیں تو یہ تربیت ہے یہ اصول ہے۔ یہی بنیادی باتیں ہمیں ہر روز گھر سے سننے کو ملتیں ، یہی بات آپ کرتیں اور یہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو بچوں اور نوجوانوں کے اندر برداشت اور ہمدردی جیسے جذبات کو فروغ دیتی ہیں۔
آپ نے ہمدردی، انسانیت ، برداشت پہ بات کی۔ میرے خیال میں آپ نے بہت بنیادی انسانی اصولوں پہ بات کی جن کا سمجھنا ایک ایوریج انسان کیلئے ہر طرح سے ممکن ہے آپ ایک ماہرِ تعلیم ہیں ہمیشہ سے اور آج جہاں جہاں پاکستانی ہیں آپ بہت باعزت طریقے سے پہچانی جاتی ہیں جو ہم سب کیلئے بڑے اعزاز کی بات کہ عمر کے اس حصے میں جہاں انسان اپنی ہی کہی ہوئی باتیں بھولنے لگتا ہے یا ایک ہی بات کو بار بار دہرانے لگتا ہے آپ پوری دنیا میں آج بھی تربیت سے متعلقہ مسائل پہ بات کررہی ہیں
آپ نے مائیک تھام کر بولنے اور دنیا کو بھولنے والا کام بالکل بھی نہیں کیا جو اتنے مصروف شیڈول اور سارا دن نوکری کرکے آنے والوں ہم جیسوں کیلئے سب سے زیادہ پرسکون بات تھی۔ آپ نے سب کو سوال کرنے کا بھرپور موقع دیا ورنہ اکثر ہماری سیلیبریٹیز اس جھنجھٹ سے جلدی جان چھڑانے کی کوشش کرتی ہیں جتنے بھی لوگ سوال کیلئے کھڑے ہوئے آپ نے انتہائی مودبانہ انداز میں سب سے بیٹھنے کیلئے کہا اور یہ خاصیت ہمیشہ سے آپکی ذات کا حصہ ہے۔
ویسے تو میں کبھی کسی سیلیبریٹی سے ملنے یا تصویر کھنچوانے آگے نہیں بڑھتی کیونکہ انتہائی عجیب لگتا ہے یہ جب سب محض تصویر کیلئے بھاگ رہے ہوں اور ایک نا ختم ہونے والا اور تھکا دینے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ آپ نے بہت اطمینان سے تصویریں کھنچوائیں۔ پوری عاجزی کے ساتھ۔
میرے لئے دوسرا بڑا اعزاز کہ جس جگہ جہاں میں بیٹھی ہوئی تھی اس کے ساتھ والی کرسی آپ کی تھی مجھے کالج کے آفس والی کرسی یاد آگئی۔ میں آپ کے ادب میں کھڑی ہوئی تو آپ نے کہا کہ آپ بیٹھئے ، اس وقت میں نے بتایا کہ آپ مجھے کھڑا رہنے دیں میرا آپ کے ادب میں کھڑے ہونا بنتا ہے میں آپ کی شاگرد رہ چکی ہوں آپ میرے کالج کی پرنسپل تھیں۔ بھرپور مسکراہٹ سے آپ کا چہرہ چمکا ، آپ نے سال پوچھا مجھ سے۔ ایک ادب ، ایک اعزاز سے سر جھک رہا تھا کہ آپ میری استاد ہیں اور میں اس وقت آپ کے برابر بیٹھی ہوں۔ اپنے اسی ادب کی بنا پر میں جلد ہی کرسی سے اٹھ بھی گئی کہ بحیثت آپ کی شاگرد مجھ میں واقعی ہمت نہیں ہورہی تھی آپ کے برابر میں بیٹھنے کی لیکن جتنی دیر بیٹھی رہی آپ اردو اور شعرائ کی باتیں کرتی رہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سفر اور تمام تر تھکن کے باوجود بھی آپ کا جذبہ عروج پہ تھا
آپ ہماری استاد ہیں، ایک ماہرِ تعلیم ہیں ، آپ نے تعلیم کے فروغ ، تربیت کی اہمیت کیلئے بہت کام کیا۔ حکومتی عہدوں پر بھی رہیں۔ آپ کی باتوں کو سننا پوری توجہ سے ہمارے ادب کا حصہ ہے لیکن بحیثیت ایک آزاد انسان، آزاد شہری یقیناً آپ کی ہر بات سے متفق ہونا کسی کیلئے بھی ضروری نہیں۔ آپ کی بہت سی باتیں اس تقریر میں یا اور بہت سے تقریروں میں شاید بہت عام یا بالکل بنیادی حیثیت کی ہوں اور عام زندگی میں شاید ان کی کوئی خاص اہمیت بھی نہ ہو یا شاید بہت سارے باتیں ہمارے مزاج سی مطابقت نہ رکھتی ہوں لیکن چند باتوں کے باعث آپ کی تعلیمی خدمات، آپ کے تجربے ، آپ کے خلوص سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کی تمام تر کوشش کے ساتھ ساتھ سننے والوں کو یہ احساس بھی ہونا چاہئے کہ آپ ہماری بزرگ بھی ہیں آپ کوئی سیاسی کارکن نہیں نہ ہی کسی جماعت کی ایمبیسیڈر ، ہم ہر جگہ سیاست کو بیچ میں نہیں لاسکتے نہ ہی دوسرے عوامل کو۔ہر انسان کی اپنی سوچ اور اپنی اپروچ ہے اسے بالکل اس طرح قبول کرنا بھی اصول ہے اصولِ زندگی ہے کہ ہر کوئی بحیثیتِ انسان مکمل آزاد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں