۔۔۔ آئندہ قسط: انتظار فرمائیے 81

ایک نظر اِدھر بھی۔۔۔

بڑے تجارتی ادارے کے مالک گھر سے تمام دن کی مصروفیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے گھر سے نکلے، آج ان کی ملاقاتیں بڑے بڑے بزنس ایگزیکٹو سے طے تھیں وہ اس خیال سے مسرور تھے کہ ان کا تجارتی ادارہ آج عالمی شہرت کا حامل ہے اور ابھی انہیں اور آگے جانا ہے انہوں نے اپنی جدید بی ایم ڈبلیو کو ذرا آہستہ کرکے فیصلہ کیا کہ وہ وقت مقررہ سے کچھ لیٹ ہو گئے ہیں لہذا انہوں نے طویل راستے کو ترک کرتے ہوئے ایک شارٹ کٹ اختیار کیا جو ایک پس ماندہ بستی سے گزرتا تھا وہ اپنی گاڑی کو سڑک کے گڑہوں سے بچاتے ہوئے سفر طے کررہے تھے اور اپنے خیالات میں کھوئے ہوئے تھے کہ اچانک ایک زور دار آواز اور وہ آواز ایک اینٹ کے مارنے سے پیدا ہوئی تھی جسے ایک لڑکے نے کھینچ کر مارا تھا ان کا غصے کے بارے برا حال ہو گیا اور انہوں نے گاڑی کو ایک طرف روک کر دروازہ کھولا اور اس لڑکے کو جا کر پکڑ لیا جس کی عمر دس گیارہ سال کی تھی اور اسے جھنجھوڑ کر سختی سے پوچھا کہ اس نے یہ گندی حرکت کیوں کی جس سے گاڑی کے دروازے پر ایک گہرا گڑھا پڑ گیا تھا قبل اس کے ان کا ہاتھ اس لڑکے پر اٹھتا اس لڑکے نے جس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے نے کہا کہ اس کا باپ سامنے والی گلی میں گرا پڑا ہوا ہے جو کہ چلتے پھرنے سے معذور ہے اور بہت دیر سے ہر ایک سے منت خوشامد کررہا ہے کہ اس کی کوئی مدد کرے مگر کوئی اس کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے اس نے مایوس ہو کر یہ حرکت کی ہے۔
صاحب نے ایک لمحہ کے لئے لڑکے کو دیکھا اور اس کے ہاتھ پکڑ کر اس طرف لے گئے جس طرف لڑکے نے اشارہ کیا تھا انہوں نے دیکھا ایک چڑھائی پر ایک وہیل چیئر الٹی پڑی ہے اور ایک شخص زمین پر پڑا ہوا ہے یہ دیکھ کر انہیں سخت شرمندگی محسوس ہوئی اور انہوں نے اپنے قیمتی سوٹ کی پروا کئے بغیر اس کی وہیل چیئر کو سیدھا کیا اور اس معذور آدمی کو کرسی پر بٹھا دیا اور اس لڑکے سے وہیں رکنے کا کہہ کر اپنی گاڑی کی طرف اور بٹوے سے دس ہزار روپیہ لے کر اس معذور آدمی کی جیب میں رکھے اور وہیل چیئر کو اس چڑھائی پر دھکیل کر اس شخص کے گھر پہنچا کر آئے۔
اس واقعہ کا ان کے اوپر اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے اس دن کی ساری مصروفیات منسوخ کرکے اپنے دفتر میں بیٹھ کر اپنی زندگی کا جائزہ لیا کہ انہوں نے زندگی بھر محض دولت کمانے میں صرف کردی اور لوگ کن حالات میں زندگیاں گزار رہے ہیں کہ ایک بچے کو مدد لینے کے لئے یہ حرکت کرنی پڑی۔ اس دن کے بعد سے انہوں نے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر اس مفلوک حال بستی میں جو جھگیوں پر مشتمل تھی ایک بڑی جھگی لے کر اسکول قائم کیا اور اس بستی کے علاوہ دیگر علاقوں میں رفاعی کاموں کی ابتداءکی۔ انہوں نے غور کیا کہ اللہ نے کس طرح ان سے یہ کام لینے کے لئے لڑکے کو وسیلہ بنایا اور انہیں بنی نوع انسانیت کی خدمت کا موقع دلایا۔ انہوں نے اپنی گاڑی پر اینٹ سے لگے گڑھے کی کبھی مرمت نہیں کرائی اور جب کوئی پوچھتا کہ یہ کیا ہے؟ تو وہ جواب دیتے کہ میرے اللہ کی طرف سے یہ ہدایت ہے جو انہیں نصیب ہوئی۔
آج ہمارے ملک پاکستان میں بھی صورت حال یہی ہے کہ کوئی فرد کسی کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہے، نفسا نفسی کا عالم ہے، اہل ثروت اپنی دھن میں مست ہیں، انہیں احساس نہیں ہے کہ کتنے لوگ مفلسی کے ہاتھوں اپنی اپنی وہیل چیئرز سے زمین پر پڑے ہوئے ہیں، انہیں کوئی اٹھانے والا نہیں ہے، حکمران عوام کی داد رسی کے لئے تیار نہیں ہیں۔ نام نہاد عوامی راہنما اپنی کرسیوں کو بچانے میں مصروف ہیں جب کہ خلق خدا مر رہی ہے، ان کے پیارے سسک سسک کر اپنی جانیں دے رہے ہیں، آج لوگ اپنی سفید پوشی برقرار رکھنے کی جدوجہد میں جانوں سے گزرے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، کروڑوں افراد غریبی کی لکیر تو اب تحت الثریٰ میں پڑے ہوئے زندگی کے دن گزار رہے ہیں مگر حکمران ہوں یا لیڈر کروڑوں کی گاڑیوں میں مسلح محافظوں کے نرغے میں زوں زوں کرکے سڑکوں سے گزر رہے ہیں جہاں حیران و پریشان غریب شہری حسرت سے انہیں دیکھ رہے ہیں ان کے شاہان جلوس کی راہ میں ایمبولینسوں کی قطار بیٹھی ہوئی ہے جن میں مریض اپنی جانیں دے رہے ہیں مگر یہ بے حس کاسے نشینوں کے بچے ان کیڑے مکوڑوں کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے مگر شاید وہ وقت آیا ہی چاہتا ہے کہ جب یہ خاموش اکثریت یہ دبے ہوئے کچلے ہوئے لوگ ہاتھوں میں پتھر اٹھا کر ان گاڑیوں کو متوجہ کرنے کے لئے ان پر پتھروں کی بوچھاڑ کر دیں اور انہیں بتائیں کہ اپنی طرف متوجہ کرنے کا ایک یہی طریقہ ہے اور ہو سکتا ہے کہ مہربان قدرت اپنا عمل شروع کر دے اور ان پر بیماریوں، وباﺅں اور آفتوں سے نادیدہ پتھر آسمان سے برسنے شروع ہو جائیں جیسے کہ ان سے پہلے بہت سے قوموں کو ان کے جرائم کی سزا میں انہیں سنگسار کردیا گیا اور جب پوچھا گیا کہ اے اللہ جرم تو ان مٹھی بھر افراد نے کیا تھا اس کی سزا ہمیں کیوں ملی تو جواب آئے گا ”یہ سب ان جرائم کے خاموش تماشائی بنے رہے اور یہ برابر کے مجرم ہیں“۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں