29

بائیں بازوں کا ثقافتی انقلاب امریکا کی بنیادیں ہلا رہا ہے، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کنفیڈریشن کے رہنماو¿ں اور دیگر تاریخی شخصیات کے مجسمے گرانے کی کوشش کرنے والے ہجوم پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مظاہرین ملک کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے قومی دن کے موقع پر ماو¿نٹ رشمور میں ہزاروں حامیوں سے خطاب کیا جہاں کورونا وائرس سے ملک میں ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد ہلاکتوں کے باوجود عوام کی بڑی تعداد جمع ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق تقریب میں 7 ہزار 500 سے زائد افراد شریک تھے جن میں سے اکثر نے ماسک بھی نہیں پہنا ہوا تھا اور کورونا سے متعلق دی گئیں ہدایات کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے تقریر میں مظاہرین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عدم مساوات کے خلاف ہونے والے احتجاج سے ملک کے سیاسی نظام کی بنیادوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘کوئی غلطی نہیں کرنا، بائیں بازو کا یہ ثقافتی انقلاب امریکی انقلاب کو نکال باہر کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے’۔ امریکی صدر نے کہا کہ ‘ہمارے بچوں کو اسکولوں میں اپنے ملک سے نفرت کرنے کا سبق پڑھایا جارہا ہے’۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ‘نیشنل گارڈن آف امریکن ہیروز’ بنائیں گے جہاں امریکا کے عظیم لوگوں کے مجسمے ہوں گے اور بڑا پارک ہوگا۔
یاد رہے کہ مظاہرین نے وائٹ ہاو¿س کے باہر مقبول پالیسیوں کے باعث مشہور امریکا کے ساتویں صدر اینڈریو جیکسن کا مجسمہ گرانے کی کوشش کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ‘ہجوم ہمارے بانیان کے مجسموں کو گرانے اور ہماری یادگاروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘وہ سمجھتے ہیں کہ امریکا کے لوگ نرم اور کمزور ہیں لیکن امریکا کے عوام مضبوط اور قابل فخر ہیں اور وہ ہمارے ملک، اس کے اقدار اور ثقافت کو ان سے چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے’۔ خیال رہے کہ 25 مئی کو ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار نے اس کی گردن پر اس سختی سے اپنا گھٹنا رکھا ہوا تھا کہ وہ آخر کار سانس نہ آنے کی وجہ سے دم توڑ گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد مینیا پولس شہر میں ہنگامہ مچ گیا اور مشتعل مظاہرین گھروں سے نکل آئے، پولیس اسٹیشنز سمیت کئی عمارتوں کو آگ لگائی، کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور اسٹورز کو لوٹ لیا گیا۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگادی اور براہِ راست پتھراو¿ بھی کیا جبکہ پولیس کی جانب سے ان پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیلز برسائے گئے۔ بعد ازاں احتجاج کا یہ سلسلہ امریکا کی کئی ریاستوں تک پھیل گیا اور بے امنی کے واقعات کے پیشِ نظر حکام نے نہ صرف نیشنل گارڈز کو متحرک کیا بلکہ کئی شہروں میں کرفیو بھی نافذ کردیا گیا۔
پرتشدد مظاہروں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاج کرنے والے شہریوں کو مقامی دہشت گرد سے تعبیر کرتے ہوئے ان پر لوٹ مار کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ بعد ازاں شہری کے قتل میں ملوث پولیس اہلکار کو گرفتار کر کے دوسرے درجے کے قتل کی فرد جرم عائد کردی گئی جبکہ ان کے 3 ساتھیوں کو بھی فرد جرم کا سامنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں