Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 64

بادبانی عدمِ اعتماد

بادبانی کشتی ہوا کے رخ پر چلتی ہے اور کشتی کے ناخدا بادبانوں کے ذریعے کشتی کا رخ موڑتے رہتے ہیں چونکہ یہ قدرتی ہوا سے کام لیتے ہیں جو کہ قدرت نے انسان کی بھلائی کے لئے ہی بنائی ہے اور اگر ان کی منزل نیک ہے نیت نیک ہے تو یہ اپنی منزل پر کامیاب و کامران پہونچتے ہیں۔ ہمارے یہاں کی سیاست اور سیاست دان بھی بادبانی کشتی کے اصول پر کام کرتے ہیں، کشتی ہمارے عوام ہوتے ہیں اور ناخدا ہمارے سیاست دان لیکن ان کی کشتی قدرتی ہوا کے رخ پر نہیں بلکہ سیاست کی ہوا پر چلتی ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ہی ضد ہیں۔ قدرتی ہوا کشتی کو اچھائی اور محفوظ مقام کی طرف لے کر جاتی ہے جب کہ سیاست کی ہوا سیاست دانوں کے لئے لالچ اور عوام کے لئے دھوکے اور فریب کی طرف لے کر جاتی ہے۔ سیاست کی ہوا کا رخ دیکھ کر سیاست دان کشتی کی سمت بدلتے رہتے ہیں اور جب منزل آجاتی ہے تو کشتی کو بے یارومددگار کنارے پر چھوڑ کر خود لعل و جواہر کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ کشتی دراصل عوام ہیں ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے سیاست کو بادبانی کشتی کی طرح ڈولتے پایا ہے۔ کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی علاقے اور زبان کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیلا گیا اور ان کے درمیان خون ریزی کرائی گئی۔ عوام کی جتنی ببھی کمزوریاں ہیں ان سے فائدہ اٹھایا گیا یہ سیاست دان کسی غربت زدہ علاقے میں جا کر لمبے لمبے سفر کرکے عام لوگوں کے درمیان ان کی حالت زار پر دھاڑیں مار مار کر روئیں گے جب کہ پانچ سال حکومت کرکے ان علاقوں کی اسی حالت میں چھوڑ گئے تھے اور جب ان کے درمیان سے واپس آئیں گے تو آرائش و آسائش سے آراستہ اپنے قیمتی گھروں میں محفلیں سجائیں گے۔ غریبوں کی بے بسی پر ہنسیں گے اور لاکھوں روپے اپنے محفل میں لٹا دیں گے، قول و فعل میں تضاد کو ہر عام شخص جانتا ہے اس کے باوجود ان کے جال مںی پھنس جاتے ہیں جو شخص اپنے پڑوسیوں کا حق ادا نہیں کر سکتا وہ دوسرں کا حق کس طرح ادا کرے گا۔ ٹی وی میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو بے ایمان فراڈی کہنا اور پھر اپنے مفاد کی خاطر مل جانا اپنے مذموم مقاصد میں عوام کو استعمال کرنا ان کے خون سے ہولی کھیلنا۔ تمام قتل و غارت گری اور تباہی کے پیچھے کوئی نا کوئی سیاست دان ہوتا ہے ایک دوسرے کو بلیک میل بھی کیا جاتا ہے یہ کوئی نئی کہانی نہیں ہے یہ کہانی تو ملک بننے کے فوراً بعد ہی شروع ہو گئی تھی کہ کرسی کس کے پاس ہو گی، ملک کس طرح چلانا ہے کس طرح بنانا ہے کسی کو فکر نہیں تھی، وسائل پر قبضوں کی فکر زیادہ تھی۔
جب کوئی شخص اپنا نیا گھر بناتا ہے تو گھر بنانے سے پہلے پورا نقشہ بنایا جاتا ہے۔ پلاننگ ہوتی ہے، سکون اور اطمینان کو مدنظر رکھا جاتا ہے، کس طرح گھر میں زیادہ سے زیادہ آسانیاں ہوں، سوچ و بچار ہوتی ہے، گھر کے تمام افراد اپنی اپنی رائے دیتے ہیں اور ہمارے ملک کا یہ حال ہوا کہ ابھی زمین ملی ہے، مکان تعمیر ہونا ہے، لیکن جھگڑا یہ شروع ہو گیا کہ حکم کس کا چلے گا۔ نتیجے میں کوئی بھی چیز پلاننگ سے نا ہو سکی، سیاست شروع ہو چکی تھی اور بادبانی کشتیاں پانی میں اتار دی گئیں تھیں اور ریس شروع ہو چکی تھی اس وجہ سے نا تعلیمی نظام بہتر ہو سکا نا ٹیکس، بجلی، پانی، سڑکیں کوئی بھی نظام آج تک بہتر نا ہو سکا ان تمام کوتاہیوں میں صرف ہمارے سیاست دانوں کی بازی گری نہیں ہے بلکہ بے چارے عوام کا بھی تھورا بہت قصور ہے۔ اپنے نئے ملک میں آنکھویں کھولتے ہی اپنی اپنی پسند اور زبانوں کے سیاست دانوں کے پیچھے دوڑ پڑے، یہ سیاست دان زیادہ تر وڈیرے، زمیندار، سرمایہ دار تھے جن کا کام اپنے علاقے کے لوگوں کو آتے جاتے کوڑے لگانا تھا تاکہ وہ قابو میں رہیں۔ لوگوں نے پورے ملک کی باگ و ڈور ان کے ہاتھ تھما دی جو کہ کچھ بھی کریں گے اب یہی کریں گے ان لوگوں نے عوام کو بادبانی کشتی بنا ڈالا جو ان کی ہوا پر چلتی تھی، وہ بازی گر کی طرح بچہ جمہورا کا کھیل دکھاتے رہے اور عوام دائرہ بنا کر ان کا کھیل دیکھنے میں مصرور رہے، یہ کھیل آج تک جاری ہے، آج بھی بہت بڑا سرکس ملک میں چل رہا ہے، یہ نہیں دیکھتے کہ ایک بڑا طوفان ان کو اپنی لیٹ میں لینے آسکتا ہے حالانکہ جانور تک طوفان کا رخ پہچان لیتے ہیں اور یہ لوگ لٹیروں کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی تقریروں پر تالیاں بجا رہے ہیں اور آنکھیں بند کرکے سیاست دانوں کے جھوٹے خوابوں پر یقین کرکے تصورات کی دنیا میں گم ہیں، ہو جائے گا سب ٹھیک ہو جائے گا مہنگائی اچانک ختم ہو جائے گی حکومت کو ختم کردو، پیٹرول، آٹا، چینی سب سستا ہو جائے گا۔ ترقی ہو جائے گی، کشمیر مل جائے گا، ترقی ہو جائے گی، بنیادی ضروریات کا مسئلہ فوراً حل ہو جائے گا، بس موجودہ حکومت ختم کرو اور کرسی ہمیں دے دو، فضلو اپنا گیم کھیل رہا ہے سب کو ڈبل کراس کرے گا۔ سب ہو جائے گا، کرلیں گے، اس سی ڈی کو لوگ پشت ہا پشت سے سنتے چلے آرہے ہیں، اور یہ ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، ہو جائے گا، کرلیں گے اور جو لوگ سب ٹھیک ہو جائے گا کہ چکر میں اور بدعنوان لوگوں کے کہنے پر اپنی جانیں دے رہے ہیں وہ جاتے جاتے یہ سوچتے ہیں کہ ہماری قربانی سے سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن ان بے چاروں کو کیا معلوم کہ ان کی قربانی رائیگاں جائے گی۔ یہ ان ہی بادبانی کشتیوں کی طرح ہیں جن سے کام نکل گیا اور وہ پانی میں ڈولتی ہوئی ڈوب گئیں، صرف جانیں دے دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے، پہلے مسائل کے بارے میں متحد ہو کر سوچ و بچار کرنا یہ دیکھنا کہ اس کے ذمہ دار کون ہیں، پھر کوئی عملی قدم اٹھانا، صرف ایک پارٹی یا چند لوگوں کے لئے نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے مثبت قدم اٹھایا یہ صرف اور صرف عوام کے ہاتھ میں ہے وہ کیسے رہنما چنتے ہیں اور کس طرح ملک کی اس کشتی کو صحیح رخ پر لے جاتے ہیں جو قوم زرداری، گیلانی، نواز شریف جیسوں کو اپنا سربراہ بنالے اس میں کیا شعور ہو گا، بددیانت سیاست دانوں کے ہاتھوں میں ایک بڑی تعداد کھیل رہی ہے وہ ان کے جھوٹ اور مکاری کے آنسوﺅں پر اگر یقین کرلیں تو ان کے ماتھے پر بدنصیبی کی مہر لگنے سے کوئی نہیں روک سکتا ان سیاست دانوں کے ساتھ وہ لوگ بھی ہیں جو اپنے آپ کو مذہبی رہنما کہتے ہیں لیکن سیاسی چالوں میں پوری طرح ملوث ہیں۔ عذر یہ ہے کہ ہم مذہبی رہنما جب تک سیاست میں آکر پاور حاصل نہیں کریں گے ملک میں شرعی نظام قائم کرنے کے لئے کچھ نہیں کر سکتے اس کے لئے تمام گھناﺅنے سیاسی ہتھکنڈے بھی استعمال کررہے ہیں۔ جب شرعی نظام قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں موقعہ فراہم کیا تو انہوں نے کچھ نا کیا صرف مراعات کے مزلے لوٹے، چار میں سے دو صوبوں میں ان کی حکومت تھی متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر 2002ءکے الیکشن میں قومی اسمبلی کی 67 سیٹیس حاصل کیں اور تمام صوبائی اسمبلیوں میں 81 نشستیں حاصل کیں جن میں سب سے زیادہ تعداد 48 نشستیں صوبہ سرحد کی تھیں۔ یہ بڑی کامیابی تھی ان کا خواب پورا ہو گیا لیکن جو مقصد بتایا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا کیوں کہ سیٹیں ملتے ہی بادبانی کشتیوں کا رخ موڑ دیا گیا یہ تمام لوگ مختلف طریقوں سے لوگوں کی نفسیات سے کھیلتے ہیں اس میں مذہب، معاشرہ ہر چیز کو استعمال کرتے ہیں سب سے بڑا مدارتی بھٹو تھا جو کہ لوگوں کی نفسیات سے کھیلتا تھا اور ان کو انگلیوں پر نچاتا تھا جس طرح بارش کے موسم میں ایک جلسے کا اسٹیج کھلا رکھا گیا، تقریر کرتے ہوئے بارش شروع ہو گئی پلان کے مطابق دو آدمی چھتری لے کر آگے بڑھے بھٹو صاحب نے چھتری چھین کر دور پھینکی اور چلائے ”یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے عوام بارش میں بھیگیں اور میں چھتری لگاﺅں“ چھتریاں پہلے سے تیار تھیں۔ فضاءجئے بھٹو کے نعروں سے گونج اٹھی، طارق عزیز مرحوم نے اپنی کتاب داستان میں بھٹو کی ڈرامے بازیوں کے کئی قصے لکھے ہیں جن کو پڑھ کر عوام کی سادہ لوہی پر ہنسی آتی ہے جیسے ایک جلسے میں اپنے بیٹے شاہنواز بھٹو کو آنے کی تاکید کی بلکہ حکم دیا ان کو اسٹیج پر بٹھانے کا انتظام کیا اور تقریر شروع کرتے وقت کہا تم اسٹیج پر کیوں بیٹھے ہو، نیچے جا کر زمین پر عوام کے ساتھ بیٹھو، صرف تم میرے بیٹے نہیں ہو یہ تمام عوام میرے بیٹے ہیں، تم ان کے درمیان بیٹھو اور شاہنواز بھٹو حیران رہ گئے۔
ابھی کچھ دن پہلے سیاست نے ایک نیا رخ موڑا ہے، عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک شروع ہو گئی ہے، جوڑ توڑ ہو رہی ہے، کھلم کھلا ٹی وی پر لوگوں کے بکنے وفاداریاں تبدیل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، حکومت اور اپوزیشن دونوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے ساتھ تعداد زیادہ ہے، متضاد خبریں آرہی ہیں، ٹی وی چینل اپنے اپنے پسند کے لوگوں کے مطابق خبریں بنا رہے ہیں، تمام پارٹیوں نے عوام کو الجھا کر رکھا ہوا ہے، جب تک یہ کالم شائع ہو گا شاید کچھ فیصلہ ہو چکا ہو، زرداری کے دور میں بھی عدم اعتماد کی تحریک شروع ہوئی تھی، ہر شخص انتظار میں تھا کہ کیا ہوتا ہے لیکن اندر ہی اندر معاملات طے پا گئے، عوام کو ہوا بھی نا لگی کہ کس طرح بادناوں کا رخ موڑا جا چکا ہے اور عدم اعتماد کی درخواست بھی مصلحت کی نذر ہو گئی۔ مسلم لیگ جو آج پیپلزپارٹی سمیت تمام پارٹیوں کے ساتھ اتحاد میں مشغول ہے، نواز شریف کی جانب سے بے نظیر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی۔ 1989ءمیں اس مقصد کے لئے اسمبلی کے آزاد ممبران کو بھی راضی کیا اور ان سے قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر تقسم کھانے کو کہا گیا کہ جب وہ اسمبلی میں تحریک اعتماد کی تحریک پیش کریں گے تو بے نظیر کی مخالفت میں ووٹ دیں گے۔ غیر مذہب کے رانا چندر سنگھ سے کہا گیا کہ آپ گیتا پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں تو انہوں نے انکار کردیا اور کہا میرے الفاظ کافی ہیں، میں الفاظ سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ رانا چندر اپنے الفاظ پر قائم رہے جب کہ قرآن شریف پر ہاتھ رکھنے ولاے اسمبلی جا کر بدل گئے اور بے نظیر کے حق میں ووٹ دیا، یہی لوگ بعد میں مختلف پارٹیوں میں چلے گئے اور میرا خیال ہے کہ عمران خان کی تحریک عدم اعتماد کا یہی حال ہونا ہے کیونکہ ان سیاست دانوں کے کوئی اصول نہیں ہوتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں