عدالتیں یا ڈاک خانے؟ 110

بادشاہ گر؟

ویسے تو عمران خان کے بہت سے کارنامے ہیں لیکن میرے نزدیک ان کا سب سے بڑا کارنامہ خواب غفلت میں مبتلا پاکستانیوں کو بیدار کرکے ان کو ان کی اہمیت کا احساس دلانے کے لحاظ سے باشعور کرنا ہے اور انہیں اپنی آزادی اور خودمختاری کی اہمیت کا بھی ادراک کروانا ہے، دوسرا وہ پاکستانی سیاست میں ایک اس طرح کے ٹرانسپیرنٹ مشین بن کر آئے ہیں کہ ان کے ذریعے پاکستان کی 24 کروڑ سے زائد عوام نے پاکستان کی اصل صورتحال دیھ لی اور طرز حکمرانی کو بھی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سقوط ڈھاکہ یعنی پاکستان کے دولخت ہونے کے افسوسناک واقعہ کو حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کئے بغیر ہی پڑھ لیا اور اچھی طرح سے سمجھ لیا کہ پاکستان کے دولخت کئے جانے کے اصل قصور وار یا پھر ذمہ دار کون لوگ تھے۔
میرے خیال میں تو عمران خان کا یہ ایک بہت بڑا احسان اپنی قوم پر ہے کہ انہوں نے گھر میں موجود نادان دوست نما دشمنوں کی پہچان قوم سے کروادی ہے حالانکہ ان دشمنوں سے پاکستان کے سبھی سیاستدان اور بیوروکریٹس اچھی طرح سے واقف ہیں مگر کسی میں بھی اتنی جرات اور ہمت نہیں کہ وہ ان کی مخالفت کرے اور انہیں آئینہ دکھانے کی غلطی کریں کیونکہ پاکستان کے تقریباً سبھی سیاستدان کانے ہیں سب کی کمزوریاں کسی نہ کسی شکل میں ان لوگوں کے پاس ہیں جو اس حکمرانی کے گورکھ دھندے میں بالواسطہ یا براہ راست طور پر قیام پاکستان سے ملوث ہوتے چلے آرہے ہیں۔ حقیقی معنوں میں تو یہ ہی لوگ ”سسلین مافیا“ اور ”گاڈ فادر“ ہیں یہ لوگ ہی ”بادشاہ گر“ ہیں، یہ چاہے تو کسی کو بھی بادشاہ بنواسکتے ہیں۔ حالات کے دھارے کو موڑنا ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔
قارئین اندازہ لگائیں کہ یہ کتنے پاور فل لوگ ہیں جن سے عمران خان نے نہ صرف ٹکر لی ہے بلکہ پوری قوم کو ان کا مکروہ اور گناہ آلود چہرہ بھی دکھادیا۔
عمران خان نے روز اول سے قانون کی حکمرانی کا نعرہ کیوں لگایا اور اپنی پارٹی کا نام انصاف کیوں رکھا؟ اور کیوں اپنے ہر جلسے میں لوگوں کو ”خوف کا بت“ توڑنے کی ترغیب دی جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے جس کا زندہ ثبوت سینٹر اعظم سواتی، فواد چوہدری اور ڈاکٹر شہباز گل کی بار بار گرفتاری اور تشدد کے باوجود ان قوتوں سے خوفزدہ ہونے کے باوجود بہادری اور دلیری کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹ جانا ہے۔ اسی طرح سے پولیس گروپ ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر نے یہ کام اس لئے نہیں کیا کہ ان کا تعلق کوئی عمران خان یا ان کی پارٹی سے ہے بلکہ وہ بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والے افسروں میں شمار کئے جاتے ہیں جو اپنے اختیارات میں دوسروں کی شمولیت کے سخت خلاف ہیں۔ عمران خان کا یہ پاکستانیوں پر ایک بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے اپنی حکومت کی پرواہ کئے بغیر قوم کو اچھے اور برے کی تمیز کرادی اور یہ اعلان کردیا کہ جب تک پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں آتی اس وقت تک نہ تو پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان معاشی اور سیاسی لحاظ سے مستحکم ہو سکتا ہے اور قانون کی حکمرانی کون لوگ نہیں چاہتے؟ کون قانون کی حکمرانی کی راہ میں دیوار بنے ہوئے ہیں، وہی ”بادشاہ گر“ وہی سسلین مافیا اور وہی گاڈ فادر جو حکومتی مشینری کو اپنی انگلی کے اشارے پر چلانے کے عادی ہو چکے ہیں اگر ان سرکاری افسروں کی غیرت یا ضمیر جس روز جاگ گیا اور جس روز ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کی طرح سے ہر سرکاری افسر نے ان بادشاہ گروں کے احکامات ماننے سے انکار کردیا، یقین جانئیے اس روز پاکستان میں نہ صرف قانون کی حکمرانی ہو جائے گی بلکہ اس روز پاکستان حقیقی معنوں میں آزاد بھی ہو جائے اور پاکستان میں امن کے ساتھ معاشی خوشحالی بھی آجائے گی۔
عمران خان نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر پاکستانیوں کو کالے انگریزوں کی غلامی سے نکالنے کی ہی تو جدوجہد کررہا ہے وہ دراصل بانی پاکستان قائد اعظم کے ادھورے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کررہا ہے ہم سب کو اس آزادی کی جنگ میں عمران خان کا سپاہی بن کر ان کا ساتھ دینا چاہئے اور اس خارخیر میں سرکاری افسروں کی شمولیت اہمیت کی حامل ہو گی۔ اسی میں پاکستان کی بقاءاور اس کی سلامتی و ترقی مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں