منظر نامہ 31

بحیثیت قوم کیا ہم اختتام پذیر ہوچکے ہیں؟

کیا ہم سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی، پنجابی اور مہاجر ہونے کے بعد اب لیگی، جماعتی، جیالے اور کھلاڑی میں بھی تبدیل ہو چکے، سوالوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے، جس سے آج پاکستانی معاشرہ کا ہر ذہن دوچار ہے اور کیا اس کے ساتھ ساتھ ہم اخلاقیات کی تمام سرحدوں کو پار کرچکے۔ ہم نے نہ اپنے ماضی بعید اور نہ ہی ماضی قریب سے کچھ سیکھا ہے۔ ہم اپنے حال کو بد سے بدتر بنانے کی سعدی میں مصروف ہیں اور آنے والی نسلیں ہمیں کن الفاظ میں یاد رکھیں گی اس کی فکر سے آزاد۔
جمہوریت کا کھیل کھیلتے ہم اس مقام تک آ چکے ہیں جہاں سے قانون اور آئین کی حکمرانی ختم ہو کر ذاتی بغض و عناد اور اقربا پروری اور بد دیانتی کی زمین شروع ہو جاتی ہے۔
ہم ایک جمہوریت پسند قوم ہیں۔ ہمیں جمہوریت پر قائم رہنا ہے ہمیں جمہوریت کے لئے جدوجہد پر قائم رہنا ہے۔ ہم جمہوریت کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں مگر ہم خود اقتدار میں رہنے کے لئے جمہوری طور طریقوں سے مبرا ہیں۔ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ موروثیت پر یقین رکھتے ہیں۔ باپ کے بعد بیٹی اور ماں کے بعد بیٹا اس کے حق دار ہیں مگر عوام کو ضرور جمہوریت ملنی چاہئے ان کا کام اور منصب یہ ہے کہ جب ہم آواز دیں تو وہ لاٹھیاں کھانے اور جیل جانے کے لئے ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں۔
پچھلی کئی دہائیوں سے یہی ہے وہ سبق جو اس مملکت پاکستان کے سیاستدان اس ناعاقبت اندیش عوام کو سمجھاتے چلے آرہے ہیں مگر یہ قوم بھی سمجھ کے دینے کو تیار نہیں نظر آتی۔ ہاں یہ ضرور مشاہدہ میں رہا کہ جب جب مارشل لاءلگا ایک اطمینان کی لمبی سانس لی گئی۔ مٹھائیاں بھی بانٹی گئیں اور پھر کچھ عرصہ بعد پرانا جمہوری کھیل شروع کردیا گیا اور قوم پھر سویلین حکومت کی امیدوں اور آرزوﺅں کے جھولے میں جھولنے لگی۔
اس وقت پاکستان میں جمہوریت عروج پر ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں آزادی رائے جو کہ جمہوری اوصاف میں سے ایک بہترین وصف پر سرگرم عمل ہیں اور یہ بھی خاصہ ہے کہ جمہوریت میں صرف بندوں کو گنا جاتا ہے، تولنے کی شرط نہیں ہے۔ موجودہ پاکستانی ڈیموکریٹک یا جمہوری موومنٹ ”پی ڈی ایم“ جس میں حکومت مخالف گیارہ جماعتیں شامل ہیں سوائے جماعت اسلامی کے اپنے دو جلسوں کا انعقاد کر چکی ہے، ایک گجرانوالہ اور دوسرے شہر قائد کراچی میں۔ انہیں بہت بڑے اجتماع کا درجہ تو نہیں دیا جا سکتا مگر پھر بھی تحریک کا آغاز ضرور کہا جا سکتا ہے۔ تمام جماعتوں کے سربراہان نے اپنی تقریروں میں حکومت اور اداروں پر اعتراض کا سلسلہ جاری رکھا۔ پہلے جلسے میں میاں نواز شریف نے بھی لندن سے خطاب کیا۔ ان کی تقریر براہ راست تو نشر نہیں کی گئی مگر اس کی بازگشت ہر طرف بھرپور طریقے سے سنائی دی گئی۔ اس دفعہ انہوں نے باقاعدہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو مخاطب کرکے متنبہ کیا کہ ان کو کٹہرے میں کھرا کیا جا سکتا ہے۔ خود ان کی حکومت کو ختم کرنے اور موجودہ حکومت کو برسر اقتدار لانے کے سلسلہ میں۔ نواز شریف کے خطاب سے واضح طور پر یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ن لیگ بظاہر اپنے انجام کی طرف پیش قدم ہونا چاہ رہی ہے۔ ویسے بھی سابق وزیر اعظم کا رویہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ اگر میں نہیں تو کوئی بھی نہیں۔ وہ ہمیشہ سے اپنے لئے دروازہ کھول کر دوسروں کے لئے دروازے بند کرنے کے قائل رہے ہیں۔ ماضی میں کئی قریبی ساتھی ان کے اس رویہ کا شکار ہو چکے ہیں۔ مریم نواز مقدموں میں گھری ہوئی ہیں، ن لیگ میں اب ٹوٹ پھوٹ کی خبریں آرہی ہیں اور اس وقت یوں بھی لگتا ہے کہ وہ ”ن لیگ“ کو ”ش لیگ“ میں تبدیل ہوتا دیکھ رہے ہیں اور یہ ان کی قوت برداشت سے باہر ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جو لب و لہجہ ایک بار پھر اختیار کیا وہ ن لیگ کے مقتدر حلقوں کے لئے کس قدر قابل قبول ہے۔ کیا تمام ن لیگ اسی نظریہ کی حامی ہے۔ حکومت سے اختلافات اپنی جگہ پر۔ حکومت کی نا اہلی اور نا تجربہ کاری، مہنگائی کا طوفان اور عوام کی مشکلات بھی بالکل درست مگر کیا یہ اجازت نامہ ہے۔ سیاستدانوں کے لئے کہ وہ بالکل کھلی چھٹی پر نکل جائیں۔ اس وقت نواز شریف کے بیان ہندوستانی میڈیا میں نہ صرف پذیرائی حاصل کی ہے بلکہ فوج کے خلاف ان کی گفتگو نے ہندوستان کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ پاکستان کی طرف جارحیت کے نیا سلسلہ قائم کرے اور شاید یہی وجہ ہے کہ دوسرے جلسے میں انہیں خطاب کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
پی پی پی مقدمات کا سامنا کررہی ہے۔ آصف زرداری کی گرفتاری کا حکم نکل چکا ہے۔ سندھ حکومت، اس کے وزیر اعلیٰ اور کئی وزراءنیب کے نشان پر ہیں۔ بلاول بھٹو نے پہلے جلسے میں جو زبان اختیار کی اور پھر کراچی میں اپنے خطاب میں جو لہجہ اختیار کیا وہ ایک ایسے شخص کو جس کا کریڈٹ صرف موروثیت کے علاوہ کچھ نہ ہو کو زیب نہیں دیتا۔ موجودہ پاکستانی سیاست کا تو المیہ ہی یہ ہے کہ وہ تمام سیاسی ارکان جو کئی دہائیوں سے اپنی اپنی جماعتوں کے لئے برسر پیکار رہے ہیں اس وقت صرف جان کی امان لئے حضوریت کی کیفیت میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ کیا انہیں واقعی اپنی بے حیثیتی کا احساس نہیں ہوتا؟ کیا ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو یہ سوال اٹھا سکے کہ جماعتوں میں جمہوریت کب آئے گی؟
ادھر وزیر اعظم نے نواز شریف کے جواب میں اپنی تقریر میں جو لب و لہجہ اختیار کیا وہ ان کے منصب کے شایان نہیں۔ حکومت مسائل کا حل ڈھونڈنے میں یقینی طور پر مصروف ہے مگر عام آدمی جن مشکلات سے دوچار ہے، اپوزیشن ان کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ جب بھی اپوزیشن ارکان سے ان کے لیڈروں کے بیان پر بازپرس کی جاتی ہے وہ اس کا رخ موجودہ معاشی حالات کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ اس وقت بلاول نے کراچی کی نسبت سے وفاقی حکومت پر جو سوال اٹھائے ہیں ان میں وزن ہے۔ حکومت کی بد انتظامی نے اس وقت ان گیارہ جماعتوں کو یکجا ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔
کراچی کے جلسہ کے بعد قائد اعظم کے مزار پر رونما ہونے والے واقعے نے بری طرح پاکستانیوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ مریم نواز کے شوہر جس طریقے سے وہاں ہنگامہ مچاتے رہے اپنے کارکنوں کے ساتھ وہ ایک انتہائی غیر اخلاقی اور غیر مہذبانہ طریقہ تھا۔ مقبروں پر حاضری کی ایک اپنی تہذیب ہوتی ہے۔ ایک وقار ہوتا ہے اور یہ تو بانی پاکستان کی قبر تھی جس کے پاس ہنگامہ مچایا گیا۔ اور اس سے بھی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ صفدر اعوان کی گرفتاری پر سندھ حکومت نے معذرت آمیز رویہ اختیار کیا۔ شاید سیاست اتنی ہی بے ضمیر اور احسان فراموش ہوتی ہے۔ پاکستان نہ ہوتا تو آپ بھی نہ ہوتے اور کبھی ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگانے کا موقع نہ ملتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں