غلامی کی طرف 16

بلاتبصرہ

اگر پاکستان کی موجودہ صورت حال پر نظر ڈالی جائے تو ایک ایسی ممالکت کی تصور ابھرتی ہے جہاں ہر شعبہ افراتفری کا شکار ہے۔ نام نہاد جمہوریت کے چاروں ستون مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ اور میڈیا تنزلی اور انحطاط کی پست ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ 25 – 20 کروڑ آبادی اور دنای کی آبادی کے لحاظ سے بڑا ملک ایک تماشا بن کر رہ گیا ہے۔ سب کو علم ہے کہ نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری، اسفند یار ولی، فضل الرحمن اور ایم کیو ایم سمیت کسی کو کبھی بھی نہ تو عوام دوست یا محب وطن اور سامراج مخالف سیاستدان تسلیم کیا اور نہ ہی کبھی ان مطلب پرست اور مفاد پرست گروہوں کو جو ان کے گرد اکھٹے رہتے ہیں یا ایک منصوبے کے تحت کردیا جاتا ہے اور انہیں سیاسی جماعت کا نام دیدیا جاتا ہے۔ یہ تمام یا وفا پرست جنہیں روز اول ہی سے ریاست پر قابض، فیصلہ ساز، فوجی جرنلوں نے اپنے مفادات کے لئے تحفظ یا برائے نام شرکت کے لئے جی ایچ کیو کی تجربہ گاہ کے گملوں میں لگایا ہے۔
اس بدقسمت ریاست کے یہ تمام مداری ملک کے محل وقوع اور خطے میں ذرائع و وسائل کی چھینا جھبٹی کے اس کھیل میں ہمیشہ ریاست کے شریک رہے ہیں اور سمجھوتہ بازی ساز باز کے ذریعے نام نہاد اور برائے نام اقتدار کی ”میوزیکل چیئر“ کھیلتے رہے ہیں اور اب ریسات ایک ایسے سیاسی اقتصادی اور انتظامی بحران کا شکار ہو چکی ہے جس سے نکلنے کا کسی جرنیل یا نام نہاد سیاسی راہنماﺅں کے پاس کوئی مصوبہ، پلان یا پالیسی پروگرام نہیں ہے اور نہ ہی کوئی صلاحیت ہے۔ لوٹ کھسوٹ پر مشتمل طاقت کی بندربانٹ ہمیشہ جاری رہے گی مگر اب اس میں ایسے موڑ پر آ پہنچی ہے جہاں کسی کے پاس اصل قومی مسائل یعنی غربت، مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، صحت کی سہولتیں اور سے سے بڑھ کر معاشی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے اور معاملات کو یہاں تک پہنچانے کے ذمہ دار فوجی طالع آزماﺅں، جاگیرداروں اور نام نہاد کمزور اور غریب رکھی جانے والی عوام کو کبھی حقوق نہیں دیئے اور ہمیشہ تجوریاں بھرنے کے لئے اقتدار کے اس کھیل میں فوجی جنتا نے پھر پارلیمانی سمیت ریاست کے اداروں، عدلیہ، انتظامیہ، بیوروکریسی اور ذرائع ابلاغ کو بھی درپردہ ”کنٹرول“ میں رکھا مگر وہ احباب جن میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان یا ان کی جماعت مختلف اور محب وطن ہے یا ”نجات دھندہ“ بن سکتی ہے وہ بھی غلط فہمی دور کرلیں، یہ ایماندار یا غریب دوست ہیں۔ عمران خان اور ان کے اردگرد جمع ٹولہ بھی فوجی سیاسی جادوگری سے پیدا ہوا اور اب انہی ”شیلف لائف“ مکمل کر چکا تو واپس گودام بھیج دیا گیا۔
تاریخ میں حکومتوں کی تشکیل اور عمران خان سمیت ہر حکومت کے طرز حکمرانی دیکھ لیں، بات خود سمجھ میں آ جائے گی، اس لئے ان ”تبصروں“ کو کسی کی حمایت یا مخالفت نہ سمجھا جائے، یہ اس نظام پر تنقید ہیں جس میں بالادست طبقات پر مشتمل اشرافیہ کے اس ”کھیل“ میں سب شریک ہیں اور بائیس کروڑ غریب ایک وقت کی روٹی اور صاف پانی کو ترس رہے ہیں۔ اس بے لاگ تبصرے کے بعد جس میں کسی جماعت یا فرد کو نشانہ بنانے کے بجائے موجودہ گھمبیر حالات کا احاطہ کیا ہے، اگر بغور جائزہ لیں تو ملک میں جاری اس سیاسی شعبدہ بازی میں جو حصول اقتدار، ملکی دولت پر قبضہ اور ذاتی مفادات کا حصول شامل ہے کسی نے بھی پھوٹے منہ سے ان عوام کی بات کی جو آج ان طالع آزماﺅں کے ہاتھوں ایسی زندگی گزار رہے ہیں جو بسر کرنے کے لئے انہیں ہر لمحہ اذیت سے گزرنا پڑتا ہے اور جن کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ مظلوم عوام اس تماشے کو دیکھ رہے ہیں مگر ان کے روز و شب محض زندہ رہنے کی جدوجہد کرنے پر مرکوز ہیں اب ان کو یہ بھی احساس ختم ہو چکا ہے کہ وہ اس ملک کے باسی بھی ہیں یا نہیں کیونکہ ان کی فکر کسی کو نہیں ہے۔ یہ بچارے اپنی روٹی کی فکر سے ہی آزاد نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں