”لہو پکارے گا آستیں کا“ 101

”بنانا ری پبلک“

یہ مشہور زمانہ اصطلاح ایک مشہور امریکی لکھنے والے O. Henry نے 1904ءمیں ایجاد کی۔ اس سے مراد ایک ایسی ریاست یا حکومت جو بری طرح نا اہل اور غیر فعال ہو چکی ہو اور جس کے چاروں ستون یعنی عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ اور صحافت اپنی اقدار سے بے بہرہ ہو چکے ہوں اور حکومت اپنی اشرافیہ کے ہاتھوں بربادی کی طرف رواں دواں ہو چونکہ O. Henry کا تعلق ایک ایسے ملک سے تھا جس کی معیشت کا انحصار ”کیلے“ کی تجارت پر تھا اس مناسبت سے اس نے اس کو ”بنانا رپبلک“ کا نام دیا۔ پچھلے تقریباً ایک صدی سے اس اصطلاح کو لے کر دنیا بھر میں بحث و مباحثوں کا سلسلہ جاری ہے مگر مشکور ہونا چاہئے پاکستانیوں کو اپنے اداروں، حکومتی مشینری اور سیاستدانوں کا کہ انہیں اس اصطلاح کے نہ صرف وضاحت سے معنی سمجھا دیئے بلکہ ان کے ملک کو اس کی زندہ مثال بنانے میں کامیاب ہونے کی کوشش میں پیہم مصروف رہے۔
مملکت پاکستان کا بنیادی تصور یہ ہی قرار پایا تھا کہ اس کا دستور و آئین اسلامی اصولوں کی بنیاد پر استوار کیا جائے گا اس میں حلف اٹھانے والے اس ریاست کے ہر معاملے میں ایمانداری، نیک نیتی اور اسلامی اقدار کی سربلندی کی پاسداری کے ذمہ دار ہوں گے۔ قانون کی بالادستی مستحکم ترین ہوگی۔ ہر شہری نہ صرف قانون کا احترام کرے گا بلکہ قانون خود بلاتفریق مذہب، زبان اور نسل اس کی حفاظت کا ہر ضمن میں ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔
اسلام آباد میں گزشتہ دنوں میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس میں مختلف ممالک کے عدالتی نمائندوں نے قوانین اور ان کے اطلاق سے متعلق جو تجویزات زیر بحث لائیں اور عالمی سطح پر قانون کی حفاظت اور پاسداریوں کی جن ذمہ داریوں کی تشریح کی وہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی فکر انگیز ہے۔ پاکستانی عدالت کے سربراہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے خطاب میں اس نکتہ پر زور دیا کہ ایک خوشحال اور مضبوط پاکستان کے لئے قانون کی حکمرانی اور اس کا نفاذ ناگزیر ہے بلکہ کسی بھی ریاست کے لئے اہم ترین ہے کہ ”بلا تفریق ہر شہری کو انصاف تک رسائی میسر ہو“۔ مگر ہماری عدالتوں میں فیصلے نظریہ ضرورت کے تحت کئے جاتے ہوں۔ جہاں عدالتوں میں مطلوب ضمانتوں پر آزاد اشخاص ایک منظم کارروائی کے تحت اعلیٰ عہدوں پر فائز کئے جائیں اور وہ جن پر جس دن فردجرم عائد ہونے والی ہو اسی دن وزیراعظم کے منصب پر متمکن کردیئے جائیں اور آئین کی پاسداری کے ذمہ داران خاموش رہ جائیں تو پھر ایسی کتابی باتیں بے معنی رہ جاتی ہیں اور یقینی طور سے انصاف کرنے والے اداروں پر اعتماد کی بنیادیں کھوکھلی ہونے لگتی ہیں جہاں کھلے عام ریاست کا اہم ترین ستون ”مقننہ“ انفرادی مسائل سے متعلق بددیانتوں کے سہولت کار کا کردار انجام دینے لگے تو پھر مساوی قانون کے حق کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے اور جب انتظامیہ کا اعلیٰ ترین عہدیدار آئین کی شقوں سے انحراف کرتے ہوئے ریاستی معاملات میں ایک ایسے فرد کو شامل کرے جو کہ عدالتی طور پر مفرور قرار دیا گیا ہو اور اس پورے عمل سے قانون پر عملدرآمد کرنے والے صرف نظر کریں تو ایسی حکومت اور ریاست کیا کہلائے گی؟
پاکستان کی فوج عالمی سطح پر بہترین تسلیم کی جاتی ہے اس کا سربراہ نہ صرف پاکستان بلکہ علاقائی اور عالمی طور پر بھی ایک اہم اور مضبوط حیثیت رکھتا ہے اس کی تقرری کو تنازعہ بنا دینا اور سینیارٹی اور میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے ذاتی پسند کو فوقیت دینا نہ صرف اس ادارے بلکہ ان تمام افراد کے لئے باعث توہین ہے جو اپنی پوری زندگی ملک و قوم کی حفاظت کو وقف کرتے ہوئے اس ادارے ڈسپلن کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے اس منصب کے اہل ہونے کے قابل بنتے ہیں۔ فکر یہ ہی ہے کہ کیا واقعی یہ ملک ”بنانا ریپبلک“ کا نمونہ بننے جارہا ہے جہاں اس اعلیٰ ترین منصب کی تقرری ان افراد کی رضامندی سے مشروط ہے جو نہ صرف اس ادارے پر تنقید کرتے رہے بلکہ بیرون ملک اس ادارے کو ملکی ترقی اور علاقائی سالمیت کے لئے رکاوٹ ثابت کرنے میں ملوث رہے۔ کارگل کا واقعہ ابھی قوم کی یادوں سے محو نہیں ہوا ہے۔ اس وقت پرائم منسٹر ہاﺅس سے جو آڈیو لیک سامنے آئی ہے وہ اس قوم کے شعور اور غیرت پر ایک بھرپور تازیانہ ہے۔ نہ صرف اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی باہم گفتگو بلکہ ن لیگ کی نائب صدر کی وزیر اعظم شہباز شریف سے فرمائشیں بھی اگر آنکھیں کھولنے کو کافی نہیں تو پھر اس قوم اور اس کے اداروں کے قائم رہنے کا کوئی جواز رہ نہیں جاتا۔ یہ آڈیو لیک ہوئی ہیں یہ کروائی گئی ہیں یہ بھی ایک اہم سوال ہے، کیا اندرون خانہ کچھ اور کارروائی کی تیاری ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ شہباز شریف ”مواقعاتی“ وزیر اعظم بنے ہیں۔ یہ عمل اب دوبارہ نہیں انجام پانے والا۔ اسحاق ڈار کی واپسی معیشت نہیں بلکہ ان شبہات پر مبنی زیادہ نظر آتی ہے کہ موجودہ وزیر اعظم برادر خورد کی واپسی کے انتظامات میں تندہی کا مظاہرہ نہیں کر پائے۔ اسحاق ڈار نہ صرف وزیر خزانہ بلکہ یقینی طور پر نواز شریف کی ایماءپر حکومتی امور کے تمام فیصلوں پر اثر انداز ہوں گے۔
جس قسم کی لاقانونیت اس وقت ملک کے طول و عرض میں دیکھنے میں آرہی ہے وہ ناقابل یقین صورت حال ہے۔ نہ صرف اسٹریٹ کرائمز بلکہ جرائم میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ ناجائز قبضہ گروپ پورے ملک میں جہاں چاہے اپنا جھنڈا گاڑ دیں، کوئی اسے للکار نہیں سکتا۔ بیروزگاری اور مایوسیت انتہا پر ہے۔ سیلاب زدگان حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ حکومتی معاونین میڈیا پر اطلاع دے رہے ہیں کہ امداد کے لئے آنے والا سامان غائب ہونا شروع ہوگیا۔ معیشت بدحال ہو چکی ہے، روزمرہ کی زندگی ایک عام انسان اور اس کے خاندان کے لئے وبال ہوتی جاتی ہے۔ وہ صرف زندہ رہنے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے اور حکومتی مشینری ان تمام مسائل سے لاتعلق اور بے پرواہ نظر آتی ہے۔ جس ”شان“ سے پاکستانی وزیر اعظم اور ان کے وفد نے جنرل اسمبلی میں شرکت کے دوران نیویارک کے مہنگے علاقوں میں قیام کیا اور جس ”التجا“ سے عالمی برادری سے معاشی امداد کی درخواست کی اس کا ادراک شاید خود ان کو تو نہیں مگر ہر ذی شعور فرد اور امداد فراہم کرنے والے اداروں اور ممالک کے زیر نظر ضرور آیا مگر جس ملک کی انتظامیہ تمام عوامی مسائل سے چشم پوشی کرتے ہوئے صرف اس امر پر متوجہ ہو کہ اظہار رائے کی آزادی کے مطابق احجاج کرنے والوں کو کیسے سبق سکھانا ہے۔ وزارت داخلہ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خود اپنے ہی شہریوں کے خلاف صف آراءکرنے کی تیاریوں میں مصروف ہو اور ریاست کے باقی ستون آئینی ذمہ داریاں فراموش کرچکے ہوں تو پھر سیاست بھی ایک عجیب و غریب کھیل کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ عوام کا مطمع نظر بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ حقوق اور فرائض کی بازگشت میں تیزی آ جاتی ہے۔
پاکستانی عوام پچھلے 75 سالوں سے بیرونی فتنوں کے زیر اثر حالات سے اکتانے کا اعلان کرتے نظر آرہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایک مستحکم مستقبل اور ریاست کی خواہش زور پکڑ رہی ہے۔ ریاست کی بنیاد جس آئین اور دستور پر رکھی جاتی ہے اس کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حکومت اس کا حلف اٹھاتی ہے۔ اس سے روگردانی ایک مجرمانہ فعل قرار دیا جارہا ہے۔
پاکستان کی بدقسمتی رہی کہ پچھلے کئی دہائیوں سے حکومت کرنے والوں نے عوامی مسائل سے زیادہ پاکستان کو اپنی جاگیر سے تعبیر کیا اور سیاست کی خود مختاری اور آزادی کو داﺅ پر لگانے میں تامل نہیں کیا۔ دنیا میں بیشتر ترقی پذیر ممالک میں موروثی حکومتوں سے ہٹ کر افراد ریاست کی بنیاد پر حکومتی امور میں شمولیت حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت پڑوسی ہندوستان کا وزیر اعظم بھی ایک انتہائی معمولی گھرانے سے سیاست میں داخل ہوا۔ پاکستان کے چاروں ستونوں کو بھی اپنی شناخت کو برقرار رکھنا ہوگا۔ ریاست پاکستان کی سلامتی کے لئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں