فنکاروں کی سرکاری حوصلہ افزائی 50

بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات ان کا سدباب کیوں کر ہو؟

کراچی اور ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات پر ایسا لگتا ہے کہ شہر کی انتظامیہ نے چ±پ سادھ رکھی ہے۔ ا±ن کے نزدیک کوئی سڑک پر سسک کر مرتا ہے تو مرے انہیں کیا؟ ترقی یافتہ اقوام کی ترقی صرف اقتصادی ہی نہیں بلکہ معاشرتی قوانین کے نفا ذ اور ا±س پر سختی سے عمل درآمد کی صورت میں بھی ہے۔ ان ممالک میں ہر بالغ شخص خواہ شہری ہو یا دیہاتی تمام معاشرتی قوانین کا علم ضرور رکھتا ہے۔ وہ اپنی ہر حیثیت کے مطابق طوعاََ کرہاََ ان پر عمل بھی کرتا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کا انجام صرف ایک ہے یعنی سزا !! سب کے لئے ایک ہی قانون ! ! خواہ وہ مالی اعتبار سے کوئی خستہ حال شخص ہو یا دنیاوی اعتبار سے گورنر کی بیٹی اور صدر کی بھتیجی… دوسری طرف ہماری بدقسمتی کی انتہا کہ ہمارے وہ افراد جو کسی وجہ سے تعلیم حاصل کر سکے نہ کوئی ہ±نر۔۔۔ وہ ڈرائیونگ سیکھ کر براہِ راست بڑی گاڑیوں کے مالکان کے ہاں ملازمت کر لیتے ہیں۔ مثلاََ ٹرک ، ڈمپر وغیرہ۔ جب مالکان کو کم تنخواہ پر ملازم مل جاتا ہے تو ا±سے ا±ن کی مہارت اور قوانین کے علم ہونے یا نہ ہونے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔دوسری طرف ڈرائیور بھی اس گاڑی کو مالِ م±فت سمجھ کر اپنے کرتب دکھاتا ہے۔خصوصاََ ڈمپر کے ڈرائیور…ڈمپر ڈرائیور کا خصوصی ذکر اس لئے کیا کہ دن میں بھاری گاڑیوں کے شہر میں داخلے کے باوجود یہ سڑکوں پر موت بانٹتے دندناتے پھرتے ہیں۔ تیز رفتار ڈمپر ڈرائیور خونی حادثے کے بعد فرار ہو جاتے یا کروا دئیے جاتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ گاڑی جس کی تھی وہ پیسے اور اثر و رسوخ والا ہو گا جو دے دلا کر گاڑی واپس لے جائے گا۔ میں نے ڈمپروں کے حادثات کی تحقیق کی تو تمام خبروں کا مشترکہ نکتہ ایک تھا… ڈرائیور کی غفلت اور موقع سے اکثر اوقات فرار ہو جانا۔ پانی کے ٹینکر الگ مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔اِن خبروں کے مطابق جو ہلاکتیں ہوئیں اور زخمی ہوئے ا±ن کا کوئی پ±رسانِ حال ہی نہیں۔ میرے ایک عزیز دوست جو لاہور میں نامور وکیل ہیں ا±ن سے بات ہو رہی تھی کہ ڈمپروں کے کچلنے پر کون سی دفعات پولیس لگاتی ہے ؟ تو انہوں نے نہایت ہی افسوس سے بتایا کہ ایسے سنگین حادثے کے ذمہ دار ڈمپر ڈرائیور پر تعزیراتِ پاکستان دفعہ 302 قتلِ عمد لگنے کے بجائے پولیس والے ارادتاََ دفعہ 320 اور 322 لگا تے ہیں۔ابھی ڈمپر تلے کچلے گئے شخص کی تدفین بھی نہیں ہوتی کہ موت تقسیم کرنے والا ڈمپر ڈرائیور ضمانت پر باہر آکر دوبارہ ڈمپر چلا رہا ہو تا ہے جبکہ کوئی ایسا شخص جس کی پشت پر کوئی سفارش نہ ہو اور ہو بھی مال دار تو ا±س پر فوراََ 302 کا کیس بنا دیتے ہیں۔اسی حوالے سے انہوں نے ایک واقعہ سنایاکہ گزشتہ دنوں ا±ن کا کوئی ملنے والاشخص مملکتِ آسٹریلیا سے لاہور آیا۔ یہ آسٹریلین شہریت کا حامل ہے۔وہ خود گاڑی چلاتے ہوئے رات کو موٹر وے سے ا±تر کر لاہور کی بند روڈ پر چڑھا ہی تھا کہ اچانک ایک شخص سڑک پر آ گیا۔ حالاں کہ ا±س جگہ سے 500 گز کے فاصلے پر پیدل سڑک کراس کرنے کا پ±ل بھی بنا ہوا تھا لیکن … موٹر وے سے گاڑیوں کے پیچھے گاڑیاں ا±تر رہی تھیں ایک دم بریک لگانے کا مطلب خود اپنی موت … بہرحال وہ شخص گاڑی سے ٹکرا گیا۔ایک ذمہ دار شخص کی حیثیت سے آسٹریلوی نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس آئی۔ جب انہیں علم ہوا کہ وہ آسٹریلوی شہریت یافتہ ہے تو ’ سودے بازی ‘ کا دانہ پھینکا کہ جناب یہ تو 302 قتلِ عمد کا کیس ہے سزائے موت ہو جائے گی…جب وہ شخص ا±ن کے قابو نہ آیا تو انتقاماََ مال پانی بنانے کے لئے دفعہ 302 قتلِ عمد کا پرچہ کاٹ دیا۔بڑی مشکل سے ا±س شخص کی ضمانت ہوئی اور وہ آئندہ کبھی پاکستان نہ آنے کاکہہ کر واپس چلا گیا اور ابھی تک وہ اِس صدمے سے باہر نہیں نکلا۔یہ پولیس کی کیسی ستم ظریفی اور کیسا تضاد ہے؟ میری حکامِ بالا ، صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران سے درخواست ہے کہ یہ ایک بہت ا ہم مسئلہ ہے۔ خدا را !! قانون سازی کر کے غفلت کے مرتکب ایسے تمام افراد پر تعزیراتِ پاکستان دفعہ 302 قتلِ عمد کی حد لگائی جائے۔ آج تک کسی ایسے واقعے میں ملوث ڈمپر ڈرائیور پر یہ دفعہ نہیں لگی۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں دن کے اوقات میں بڑی گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہے تو یہ ڈمپر دن میں کس کی اجازت سے داخل ہوتے ہیں؟ یہ صرف کراچی شہر کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک میں آئے دن ایسے واقعات ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے…… ڈنڈے کے زور پر قانون کا نفاذ۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی ، نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کراچی اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں کی ٹریفک پولیس کے ذمہ داروں کو آج تک یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ کوئی جامع تحقیق کرواتے کہ ہمارے شہروں کی چھوٹی بڑی سڑکوں اور ہائی ویز پر حادثات کیوں ہوتے ہیں اور اِن کا سدِ باب کیا ہے… مستقبل میں پیش آنے والے ٹریفک مسائل سے نبٹنے کے لئے 1979 میں کے ڈی اے نے ناظم آباد چورنگی میں ٹریفک انجئنینرنگ بیورو قائم کیا تھا۔پھر 1980 کی دہائی میں اِس کو نئے ولولے کے ساتھ کے ڈی اے سِوِک سینٹر ،حسن اسکوائر میں فعال کیا گیا۔ا±س وقت کراچی کی مصروف ترین سڑکوں پر رش کے اوقات میں ٹریفک کے بہاﺅ کے تعین کے لئے جگہ جگہ سروے ٹیمیں کام کرتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ یقیناََ پھر ایک ’ ضخیم ‘ رپورٹ لکھی گئی ہو گی۔ اِس کی کاپیاں نکالنے کے لئے جدید ترین ہیوی ڈیوٹی فوٹو کاپی مشینیں خریدی گئی ہوں گی۔ سیکڑوں کی تعداد میں فوٹو کاپی کے ’ رِ م ‘ خریدے گئے ہوں گے۔ سرکاری میٹنگوں میں ہزاروں لاکھوں روپوﺅں کے چائے سموسے کھائے گئے ہوں گے۔ میں نے خود کے ڈی اے سِوِک سینٹر میں ایسے اجلاس کی ’ کوریج ‘ کی تھی… بات سڑکوں پر ٹریفک حادثات کی ہو رہی ہے۔صوبائی اور قومی اسمبلیوں سے ٹریفک حادثات کے ذمہ دار ڈرائیوروں کے لئے سخت اور موثر ترین سزاﺅں کی قانون سازی وقت کی انتہائی اہم ضرورت ہے۔جان ہے تو جہان ہے۔ باقی کے تمام مسائل ترجیحات کی فہرست میں اس کے بعد آتے ہیں۔ دوسری قسم کے حادثات لمبے روٹوں پر چلنے والی مسافر بسوں اور ویگنوں کے ہیں۔اِن کی کیسی فٹنس اور کیسا سرٹیفیکیٹ !! پیسہ پھینک تماشہ دیکھ… اَن فِٹ گاڑیوں کا روڈ پر ہونابھی ایسے حادثوں کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔ یہ سلسلہ جب تک بند نہیں ہوتا حادثے ہوتے رہیں گے۔ حادثات کاایک اور سبب ڈرائیوروں سے ضرورت سے زیادہ کام لینا ہے۔ میں خود ایک عرصہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہا ہوں۔ وہاں کی شاہراہوں پر رات اور دن کے سفر کئے۔ ادھر مسافر بس یا مال بردار ٹرک کے ڈرائیور معینہ گھنٹوں سے زیادہ مسلسل گاڑی نہیں چلا سکتے۔ طوہاََ و کرہاََ سب ہی کو سختی کے ساتھ اس قانون پر عمل کر نا پڑتا ہے۔وہاں سزاﺅں کی سختی کا خوف ہے۔ ہمارے ہاں کیا ہو رہا ہے؟ مسافر بس، ویگن ، پانی کے ٹینکر ، ڈمپر ، لمبے سفر پر جانے والے ٹرک ، حتیٰ کہ کراچی یا دیگر شہروں میں چلنے والی ویگنیں، سوزوکیاں اور رکشوں کے مالکان اِن ڈرائیور کو محض ایک پ±رزہ سمجھتے ہیں۔
وہ ان کی بساط سے بڑھ کر مسلسل بغیر آرام کئے کام لیتے ہیں۔بعض ڈرائیور نیند کی ’ جھپکی ‘ سے مقابلے کے لئے دیگر ممنوعہ اشیاءکا سہارا لیتے ہیں۔ اپنی اور دوسروں کی جان خطرے میں ڈالتے ہوئے موٹر سائیکل والوں نے اب اپنا حق سمجھ لیا ہے کہ وہ ’ وَن وے ‘ کو توڑتے ہوئے ٹریفک بہاﺅ کے مخالف چلیں۔میرے جامعہ کراچی کے ہم جماعت اور خود ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ ، کے ڈی اے سے ریٹائر سید سہیل اختر علوی بتلا رہے تھے کہ ابوالحسن اصفہانی روڈ پر اسی طرح ون وے کو توڑتے ہوئے ایک موٹر سائیکل والا ان سے ٹکرا گیا۔یعنی اب پیدل چلنے والا یہ بھی سوچے کہ ون وے سڑک پر مخالف سمت سے بھی کوئی آسکتا ہے۔ لا حول ولا قوة۔۔۔ ٹریفک کی بد نظمی کے عوام نہیں خود ٹریفک پولیس اور شہر کی انتظامیہ ذمہ دار ہے۔ جب ٹریفک کے قوانین موجود ہیں تو کیا وہ صرف کتابوں کے صفحات کے لئے بنائے گئے تھے؟ اِن پر عمل آخر کیوں نہیں کرایا جاتا ؟ چوری ، ڈکیتی، لوٹ مار، زمینوں پر قبضہ ، ملاوٹ، اسمگلنگ، منی لانڈرنگ، کرپشن ، ملک سے غداری وغیرہ پر ایسا کیوں نہیں ہوتا؟… اس لئے کہ حکومت کی رِٹ ختم ہو جائے گی۔تمام کام ہی ٹھپ ہو کر رہ جائیں گے۔ کراچی میں ٹریفک پولیس کی کوئی رِٹ نہیں۔ یہاں کا نظام چوپٹ ہے۔ کراچی کے ٹریفک پر ایک محاورہ صادر آتا ہے ’ جوتیوں میں دال بٹنا ‘۔ آپ دیکھ لیجئے کوئی نظم کوئی تنظیم نہیں۔ماضی میں ٹریفک کے قوانین کے نفاذ کے لئے نہ جانے کتنی مہمات چلیں۔ نتائج؟ …صفر !! بارہا مہمات چلائی گئیں۔ کوئی نتیجہ سامنے آیا؟ مہم معینہ ہو یا غیر معینہ اس کو ختم ہونا ہی ہوتا ہے۔ ٹریفک پولیس اور شہر کی انتظامیہ کو یہ بات کون سمجھائے کہ آگہی/ آگاہی مہم اور چیزہے اور قوانین کا نفاذ اور!! کراچی میں عملاََ اِن دونوں کو ایک کر دیا گیا ہے۔ آگہی مہم ختم تو گویا ا±س کا نفاذ بھی ختم۔ البتہ کبھی کبھار کسی کمزور کی گردن دبا کر کارروائی دکھا دی جاتی ہے۔یہ کیسے قوانین ہیں جو کڑی کے ا±بال کی طرح سے آتے ہیں … وہ بھی کھٹی … ہونا تو یہ چاہیئے کہ حجت تمام کرنے کے لئے عوام کو بتلا دیا جائے کہ فلاں تاریخ سے دیگر ملکی قوانین کی طرح تمام ٹریفک قوانین سختی کے ساتھ نافذ ہوں گے۔ لفظ، مہم کا استعمال کرنا چھوڑ دیا جائے۔ میں ایک دفعہ پھر کہوں گا کہ کسی بھی ضابطے، قانون کا جب تک پورا نفاذ نہ کیا جائے وہ کارآمد نہیں ہو سکتا۔یہی حال ٹریفک قوانین کا ہے۔ ہم اور آپ کئی دہائیوں سے اِن قوانین کی دھجیاں بکھرتی ہوئی دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ سڑک پر آنے والے سے توقع ہونا چاہیئے کہ وہ الف سے یے تک ٹریفک کے اصول جانتا ہو۔ا±س کے پاس قانونی ڈرائیونگ لائسنس ہو۔ ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جیسے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ لائسنس کے چند پائنٹ ہوں۔ ٹریفک اصول کی خلاف ورزی کرنے والا جرمانہ بھی دے گا اورا±س کے لائسنس میں سے ایک پائنٹ کم کردیا جائے گا۔جب تمام پائنٹ ختم ہو جائیں تو ایسے شخص کا لائسنس کچھ مدت کے لئے غیر فعال کر دیا جائے۔اس دوران اگر وہ گاڑی چلاتا پایا گیا تو سیدھا لمبی مدت جیل میں۔ ایسا ترقی یافتہ ممالک میں عرصہ سے ہو رہا ہے۔ نادراکے لئے یہ کون سا بڑا کام ہو گا ! ! اسی طرح سے ڈرائیونگ لائسنس بن سکتے ہیں۔جن پر ٹریفک خلاف ورزی پر پائنٹ کاٹے جانے کا سسٹم ہو۔یہ کئی دہایاں پہلے میں نے خود امریکہ میں ہوتے دیکھا تھا۔ قانون سب کے لئے اگر یکساں ہوتو یقین کیجئے اس سختی پر شور مچانے والے عناصر خاموش ہو جائیں گے۔ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ اسی طرح بتدریج ٹریفک قوانین کو 100 فی صد نافذ کیا جائے گا۔
آخر کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ اسٹیٹ بینک کے قوانین کیا سختی کے ساتھ نافذ نہیں؟ کیا بغیر ٹکٹ پاکستان ریلوے میں سفر کرنے پر ج±رمانہ نہیں؟ عوام کا ذہن بن چکا ہے کہ ٹریفک قوانین محض کتابوں کی باتیں ہیں۔ان کا مکمل نفاذ ممکن ہی نہیں! ایڈیشنل آئی جی صاحب ! کیا آپ اس ان ہونی کو ہونی بنا سکتے ہیں؟ یقین کیجئے! اگر آپ نے اس کام کو اللہ کا نام لے کر شروع کر دیا تو صرف اسی اقدام کی وجہ سے آپ کا نام کراچی کے محسنوں میں لکھا جائے گا۔یہ مشکل کام ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں! کہنے کا مقصد ہے کہ سزا کا خوف تمام ڈرائیوروں میں بٹھانا ہو گا۔خوف کیسے پیدا ہوتا ہے… قانون سب کے لئے یکساں اور سزا پر فوری عمل… یہ ہی وہ فارمولا ہے جو تو عوام اور خواص کے لئے دل سے قابلِ قبول ہونا چاہیے ورنہ… ورنہ پھر آخری علاج حجاج بن یوسف کی صورت میں آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں