Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 131

بہتا لہو

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا۔ کسی زمانے میں یہ شعر جوش و جذبہ اور احساس جگانے کے لئے کہا اور لکھا جاتا تھا۔ آج کل صرف بے وقوف بنانے کے لئے لکھا اور کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ظلم گھٹنے کا نام نہیں لے رہا اور خون ٹپک نہیں رہا بلکہ پانی کی طرح بہہ رہا ہے۔ جج مجرم، حاکم اور عوام سب نے مرنا ہے۔ پر یقین کسی کو نہیں ہے، سڑکوں پر خون بہنے پر حکومت کی ناراضگی اور دہشت گردی کے خاتمے کا عزم سیاسی لیڈروں کے ایسے واقعات پر آنسو، اظہار افسوس، اظہار ہمدردی سب ناٹک ہے ناٹک۔ سیاسی لیڈروں کے ہاتھ تو ایک بہانہ آ جاتا ہے۔ حکومت وقت کو برا بھلا کہنے اور عوام کو بددل کرنے کے لئے ناٹک رچاتے ہیں اور اپنے آپ کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ظالم مظلوم دونوں یہ شعر پڑھ رہے ہیں۔
بہرحال آج کا میرا موضوع اس خون سے متعلق نہیں ہے جو سڑکوں پر بے بھاﺅ بہہ رہا ہے کیونکہ اس خون کو لہو کہنا زیادہ مناسب ہے۔ میرے ذکر میں وہ خون بھی نہیں جو غربت سے تنگ آکر کوئی باپ اپنے بچوں کا کردیتا ہے اور پھر اپنا بھی خون کرلیتا ہے۔ یہ وہ بھی نہیں جو سگے خون کا جائیداد کے چکر میں کردیا جاتا ہے، یہ اس خون کا ذکر بھی نہیں جو ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو کافر کہہ کر سڑک پر بہا رہا ہے اور اس کی نظروں کے سامنے اصل کافر اس خون سے جوتے بچاتا ہوا اور اس کی جہالت پر افسوس کرتا اسے اپنے کیمرے میں محفوظ کرکے بے خوفی سے سڑک پا کررہا ہے۔ یہ ان بے شمار لوگوں کا خون بھی نہیں ہے جنہوں نے کسی پارٹی کے سربراہ کو برا کہا یا پارٹی کی بے ایمانہ پالیسی سے اختلاف کیا اور نتیجے میں جان سے ہاتھ دھوئے۔ ہم اس خون کی بات بھی نہیں کررہے ہیں جس کا فیصلہ عدالت سے نہیں بلکہ سیاست سے ہوتا ہے اس خون کا تعلق تحریک آزادی کے جیالوں کے بہتے ہوئے لہو سے بھی نہیں ہے جنہوں نے ہماری آزادی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کے۔ یہ اس شخص کا لہو بھی نہیں ہے جس نے آزادی کے بعد وقت اور حالات سے شکست کھا کر اپنے آپ کو گولی مارلی اور یہ ان مسلمانوں کا خون بھی نہیں ہے جس کو بہانے کے لئے قاتلوں کا ساتھ بھی مسلمانوں نے دیا ہے۔ جس میں اسلامی ممالک کے ان تمام بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کا خون شامل ہے جسے بہانے کے لئے اسلامی دنیا کے سرتاج ملک کے علاوہ کئی مسلمان ممالک کا تعاون شامل رہا۔ یہ ان بچوں کے مستقبل کا خون بھی نہیں ہے جن کے اوپر تعلیم کے دروازے ہمیشہ بند رہے، ان معصوم خواہشات کے خون کا ذکر بھی نہیں ہے جن کے سر سے شفقت کا سایہ اور ماں کی گود چھین لی گئی اور نا ہی یہ وہ خون ہے جو بوڑھی آنکھوں سے جوان بیٹے کی لاش پر ٹپک رہا ہے جس سے اس کا واحد سہارا چھین لیا گیا۔
پھر یہ کون سا خون ہے؟
یہ دراصل وہ خون ہے جس کا ذکر خاندانی شرافت اچھے اور برے کردار کی بنیاد پر خاندانی پس منظر کے حوالے سے کیا جاتا ہے یہ اس خون کے اثر کا ذکر ہے جس کے بارے میں مختلف کہانیوں اور قیاس آرائیوں نے جنم لیا، ہم نے اپنے آباﺅ اجداد سے خون کی مختلف قسمیں اور ان کے اثرات کے بارے میں سنا ہے، نیک و شریف خون، خاندانی خون، گندہ خون وغیرہ وغیرہ۔ شریف اور خاندانی گروپ تو اب کم ہوتا جارہا ہے البتہ خون میں کمینگی وافر مقدار میں موجود ہے، پتہ نہیں یہ خاندانی سے کیا مراد ہے، آج کل تو جو چوروں کے خاندان سے بھی تعلق رکھتا ہے، وہ ایک بڑا خاندان ہونے کی وجہ سے خاندانی کہلاتا ہے، خاندانی پہلوان بھی ہوتے ہیں، اسی طرح مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے خاندانی پیشہ ور کہلاتے ہیں۔ کئی لوگوں کا اس بات پر یقین ہے کہ خون کے اثرات ضرور ہوتے ہیں۔ اس بارے میں ایک کہانی یاد آگئی، یہ کہانی جب میرے علم میں آئی تھی اس کے بعد میں نے خون سے متعلق نئے سرے سے تمام واقعات قصے کہانیاں خون کے اثرات خون کی پہچان پر تحقیق کی اور نتیجہ حیران کن تھا لیکن ضروری نہیں کہ میرا مشاہدہ یا میری تحقیق سو فیصد رست ہو۔ پہلے یہ کہانی پڑھ لیں۔
واجد مرزا ایک بہت بڑے کاروباری صنعت کار تھے اور یہ بھی خاندانی مشہور تھے ان کے آفس میں بے شمار افراد کا کام کرتے تھے ان کا اصول یہ تھا کہ کسی کو بھی نوکری دینے سے پہلے اس کا خاندانی پس منظر ضرور دیکھتے تھے چاہے وہ کسی چپراسی کی نوکری ہو یا کسی افسر کی اور اس کے کاندانی ماضی کی چھان بین کے لئے پیسہ بھی خرچ کرتے تھے۔ باپ دادا کا ماضی داغدار نا ہو اسی طرح جیسے جیسے کسی کو ترقی دینے کا وقت آتا تو مزید اس کی پچھلی نسلوں کی تحقیق کی جاتی تھی۔ شکیب احمد واجد مرزا کے آفس میں بطور کلرک ملازم ہوئے تھے، اپنی محنت ایماندار اور کردار و شرافت سے ترقی کرتے ہوئے کمپنی کے جنرل مینجر ہو گئے تھے۔ اگلا عہدہ نائب صدر کی کرسی تھی۔ واجد مرزا کی کئی کمپنیوں میں سے یہ ایک کمپنی تھی۔ واجد مرزا شکیب احمد سے کافی متاثر تھے، ابھی تک ان کی پچھلی نسلوں میں کوئی قابل گرفت بات نہیں آئی تھی لیکن اصول اپنی جگہ قائم تھے۔ واجد مرزا اور شکیب احمد کو یقین تھا کہ اس مرتبہ کی تحقیقات بھی مثبت نتیجہ لائیں گی پھر وہ دن بھی آگیا جب سکیب احمد کا بلاوہ آگیا۔ واجد مرزا کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے ہر شخص مبارک باد دے رہا تھا۔ شکیب احمد واجد مرزا کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہ کوئی موٹی سی فائل کا مطالعہ کررہے تھے۔ شکیب احمد کی آمد پر انہوں نے فائل بند کی اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ واجد مرزا نے فائل ان کے آگے کردی اور کہنے لگے مجھے افسوس ہے شکیب تمہاری ترقی نہیں ہو سکتی۔ شکیب احمد کا چہرہ فق ہو گیا اور ان کو یقین نہیں آیا۔ واجد مرزا گویا ہوئے جیسا کہ تمہیں معلوم ہے شکیب ہم اپنی پالیسی پر سختی سے قائم ہیں، تمہارے ماضی کو کنگھالتے ہوئے ہم ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں تمہارے خاندان کی پچھلی نسلوں سے ایک شخص نے کلہاڑی کے وار سے ایک شخص کو قتل کردیا تھا یہ سن کر شکیب احمد کو چکر آگیا اور الفاظ ان کے منہ میں ہی گھٹ کر رہ گئے۔ لیکن تم گھبراﺅ نہیں شکیب، تمہاری نوکری برقرار رہے گی لیکن تمہاری اب ترقی بھی کبھی نہیں ہو سکتی جیسا کہ تم جانتے ہو کہ میر ااس بات پر کامل یقین ہے کہ خون ایک نا ایک دن ضرور رنگ لاتا ہے۔ گزری ہوئی نسلوں کی کوئی بھی لغزش آنے والی نسل کے کسی نا کسی فرد سے اس کے خون کی وجہ سے دوبارہ ہوسکتی ہے۔ شکیب احمد بوجھل قدموں سے باہر چلے گئے۔
یہ کہانی ایک خاص ذہن کے آدمی کی ترجمانی کرتی ہے لیکن میں اس سے متفق نہیں ہوں، کیا ہم کسی بھی شخص کے بارے میں یہ رائے قائم کر سکتے ہیں کہ اس کی رگوں میں خاندانی اور شریف خون ہے، صرف یہ دیکھ کر کہ گزشتہ چند نسلوں سے اس کا خاندانی شریف اور مہذب سمجھا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے اگر تحقیق کی جائے تو اس کا تعلق چنگیز خان سے جا کر ملتا ہو اس طرح کسی کے برے کردار کو دیکھ کہہ دینا کہ کمین خون ہو مناسب نہیں ہے۔ اچھا یا برا خون انسان اپنے اندر خود پیدا کرتا ہے۔ 14 سو سال پہلے بے شمار لوگ ایسے مسلمان ہوئے جن کا ماضی داغدار تھا لیکن انہوں نے اپنے اچھے کردار کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔ دریا جب بہہ رہا ہوتا ہے تو آنے والی گندگی کو کنارے کرتا جاتا ہے اور اس کا پانی صاف ستھرا اور پاک رہتا ہے لیکن اگر اس میں بار بار بے انتہا گندگی پھینکی جاتی رہے تو ایک دن یہ دریا گندہ نالہ بن جاتا ہے۔ خون کا معمالہ بھی ایسے ہی ہے اس کے بہاﺅں میں ہر چیز شامل ہوتی رہتی ہے۔ شرافت، محبت، نیکی، اخلاص، نرمی، کمینگی، خباثت، لالچ، بے غیرتی، شراب، نشہ یا کسی بھی چیز کا نشہ اور جب ان میں سے کسی بھی چیز کی مقدار بہت بڑھ جائے تو خون کو صرف اسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے اگر خون میں کمینگی شامل ہو گئی ہے تو پھر خون کمینگی کا ہی تقاضہ کرتا رہتا ہے اور اگر شرافت ہے تو اس کا ہر فعل شریفانہ ہوتا ہے۔ خون کو شریف یا کمینہ بنانا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ خاندان سے اتنا تعلق ضرور ہوتا ہے کہ انسان اپنے خون میں اپنی خاندانی شرافت کو قائم رکھے اور اگر دیکھتا ہے کہ خاندان شرافت سے دور ہے تو پھر خود بھی ایسے خاندان سے کنارہ کرے۔ آئندہ آنے والی نسلوں میں اس کا خاندان بھی شریف کہلائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں