”ایک ہر دلعزیز ملکہ“ 34

تبدیلی آچکی ہے

تاریخ نے اپنے آپ اپنے آپ کو ایک دفعہ پھر دہرا لیا ہے۔ پاکستان کا ایک اور وزیر اعظم اپنی میعاد حکومت مکمل کرنے سے قبل ہی اپنی ذمہ داریوں سے فارغ کردیا گیا۔ عمران خان تین سال، چھ ماہ اور بائیس دن تک اقتدار میں رہنے کے بعد ہٹا دیئے گئے ہیں۔ فرق صرف اس بار یہ ہوا ہے کہ بجائے ان سے استعفیٰ لینے کے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کردی یا کروا دی گئی ہے۔ اس ساری صورتحال نے بے تحاشہ سولاات اور بدگمانیوں کو جنم دیا ہے جس کی زد میں تمام سیاسی جماعتوں سے لے کر عدلیہ اور تمام مقتدر ادارے اس وقت آتے ہیں۔
3 اپریل 2022ءسے لے کر 9 اپریل کی صبح کے ابتدائی لمحات تک پاکستانی دارالخلافہ میں جو واقعات رونما ہوئے اس نے نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ عالمی سطح پر سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کو حیران کن صورتحال کی جستجو میں مبتلا کیا ہے۔ سبکدوش کردیئے جانے والے وزیر اعظم نے کچھ عرصہ قبل ایک عالمی سازش سے پاکستانیوں کو انتباہ کرنے کی کوشش کی جس کے تحت تحریک عدم اعتماد تحریک کا اجراءہوا۔ اس تحریک میں وہ تمام جماعتیں شامل ہوئیں جو پاکستان کے سیاسی منظرنامہ میں ہمیشہ ایک دوسرے سے برسرپیکار رہیں اور پچھلے 30 سالوں سے ایک دوسرے کو حکومت سے فارغ کرنے میں مصروف رہیں۔ دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلزپارٹی نے متعدد بار عنان حکومت سنبھالی اور پھر کرپشن کے الزامات میں برطرف کی گئیں۔ اس وقت حزب اختلاف میں شامل گیارہ جماعتوں کے بیشتر اراکین بدعنوانیوں کے مقدمات بھگت رہے ہیں ان کے علاوہ تحریک انصاف کے وہ منحرف ارکان بھی اس اتحاد میں شامل ہوئے جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ اس وقت کی حزب اختلاف کی سرمایہ کی بدولت اپنے ضمیر کو جگانے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستانی سیاست میں یہ کوئی اچھوتا فارمولا نہیں ہے۔ 90 کی دہائی سے لے کر موجودہ صورت حال تک کئی معاملوں میں یہ محاذ کھولے گئے۔ چھانگا مانگا سے لے کر سوات کے ہوٹلوں تک اس قسم کی کارروائیاں منظرعام پر آتی رہیں مگر اب فرق یہ ہو گیا ہے کہ پچھلے 30 سالوں میں پوری دنیا اور پاکستان میں ٹیکنالوجی نے ترقی کے مراحل طے کر لئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی فروغیت کے ساتھ ساتھ اب موبائل فون اور سوشل میڈیا کے دروازے کھل گئے ہیں ایک معمولی سی خبر بھی تمام پردے چاک کرتی ہوئی چند لمحوں میں ہی دنیا میں چہار طرف قیامت برپا کردیتی ہے۔ دنیا اس وقت مخبری کے وسائل سے مالا مال ہو چکی ہے۔
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد 8 مارچ 2022ءمیں داخل کی گئی۔ سفارتی مراسلہ 7 مارچ کی تاریخ کے ساتھ کم و بیش انہی دنوں میں موصول ہوا جس میں امریکی حکام کی جانب سے اظہار کیا گیا کہ اگر عدم اعتماد تحریک ناکام ہو جاتی ہے تو پاکستان کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے مطابق اس وقت اس مراسلہ کو اس لئے منظرعام پر نہیں لایا گیا کیونکہ پاکستان ایک طویل عرصہ کے بعد OIC کی میزبانی کررہا تھا۔ مراسلہ میں جو دھمکی آمیز مواد شامل تھا او آئی سی کے بعد اسے کابینہ اور نیشنل سیکیورٹی کونسل میں پیش کیا گیا جس میں تمام سروسز چیف نے شرکت کی اور ایک اعلامیہ میں اس مراسلہ کو پاکستانی حکومتی معاملات میں مداخلت کرنے پر تعبیر کیا گیا اور واشنگٹن اور پاکستان میں امریکی سفیر کو بلا کر احتجاج کیا گیا۔ اس وقت کی اپوزیشن کے کئی ارکان کی امریکی سفارت کاروں سے رابطے بھی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے علم میں آئے۔ تحریک عدم اعتماد پر حزب اختلاف کا آئینی اور جمہوری حق ہے لیکن اگر اس میں کچھ شکوک بیرونی مداخلت کے ظاہر ہونے لگے تو یہ کسی بھی ملک کی سالمیت کے لئے خطرناک اور توہن آمیز ہے۔ 3 اپریل کو ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عدم اعتماد کی تحریک کو یہ کہتے ہوئے مسترد کیا کہ جو مراسلہ میرے سامنے ہے اسے پڑھتے ہوئے اور اسے آئین کے آرٹیکل 5 کے زمرے میں ڈالتے ہوئے مسترد کرتا ہوں کہ اس سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں اور میرا حلف مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ میں اس کو نظرانداز کروں۔ وزیر اعظم نے اس کے ساتھ ہی اسمبلی تحلیل کرنے کے لئے صدر پاکستان کو سمری ارسال کردی اور فوراً ہی اس پر صدر کی جانب سے عمل درآمد کیا گیا۔ حکومت تحلیل ہو گئی اور نئے الیکشن کی طرف جانے کا اعلان کردیا گیا۔ پاکستان میں اس خبرکا خیر مقدم کیا گیا مگر الیکشن کا مسلسل مطالبہ کرنے والی اپوزیشن نے اس سے انحراف کرتے ہوئے عدم اعتماد کی تحریک پر اپنی کارروائی مرکوز رکھی۔ عدالت عالیہ نے ڈپٹی اسپیکر کے عمل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ازخود نوٹس لیا اور عدم اعتماد کی پٹیشن کو نہ صرف دوبارہ فائز کیا بلکہ پارلیمان کو سختی سے اپنی ہدایات پر عمل کرنے کی تنبیہ کی۔ اور اسے ساتھ ساتھ تمام پارلیمانی احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کو بحال کرنے کا حکم دیا اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا وقت مقرر کیا۔ عدالت عالیہ نے حکومت کی بارہا یاددہانیوں کے باوجود اس سفارتی مراسلہ پر نظر ڈالنی کی ضرورت محسوس نہیں کی جو اس پورے عمل کو متحرک بنا۔ اس کے بعد باقی سب تاریخ کا وہ باب ہے جو پاکستانیوں کے لئے سر اٹھا کر چلنے میں برسوں مانع رہے گا۔
عمران خان تبدیلی کا نعرہ لے کر سیاست میں داخل ہوئے تھے اور ان کے اسی نعرہ نے ان کی 22 سالہ جدوجہد میں نئی نسل اور ان پاکستانیوں کو شامل کیا جو کہ عزت دار قوم بننے کے خواہشمند تھے، جو موروثیت اور کرپشن زدہ سیاست سے تھک چکے تھے لیکن پچھلے 75 سالوں سے الجھی ہوئی اور کرپشن میں بسی ہوئی سیاست اس تبدیلی کا بوجھ نہیں اٹھا سکی۔ تحریک انصاف سیاسی ناتجربہ کاری کی وجہ سے سخت مشکلوں سے دوچار ہوئی اور اس کے خلاف وہ تمام عناصر جو اس بدعنوان ماحول کے پروردہ تھے متحد ہو کر اس بیرونی مداخلت میں شامل ہوئے۔ آزاد خارجہ پالیسی کا کسی بھی سیاست کے ستونوں میں سے ایک اہم ترین ستون ہے۔ عمران خان اپنی سیاسی سفر میں پاکستان کو ایک آزاد مملکت بنانے کا خواب دکھاتے رہے، پاکستانیوں نے اس امید پر اپنی توجہ مرکوز رکھی اور بیرونی امداد پر انحصار کرنے کے بجائے خودمختاری کے خواب دیکھنے شروع کئے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف بیرونی سازشوں کے سلسلے درحقیقت پاکستان کی اپنی سالمیت اور استحکام کے لئے آواز بلند کرنے سے ہی جا ملتے ہیں۔ اب یہ کوئی درپردہ حقیقت نہیں رہ گئی کہ عمران خان کو سبکدوش کرنے میں تمام فریقوں نے اپنے کردار ادا کئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانیوں کو مکمل طور پر بالکل بے شعور گردان لیا گیا۔ کیا پاکستان کی اشرافیہ نے 1971ءکے بعد ایک دفعہ پھر پاکستان کو عالمی نقشے سے مٹا دینے کی سہولت کاری کا ارادہ کرلیا۔ جس طریقے سے اس وقت موروثی اور بدعنوان عناصر کو 22 کروڑ عوام پر مسلط کیا گیا ہے، کیا عدلیہ اور اداروں پر کوئی پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کے ضم میں ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ گزشتہ ISPR کی پریس کانفرنس جس طرح ”سازش“ کو ”مداخلت“ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی کیا وہ ایک اہم نکتہ کی طرف نشاندہی نہیں کرتی۔ کیا عدلیہ کا مراسلہ نہ دیکھنا اور پارلیمان کے امور میں براہ راست مداخلت کرنا آئین سے انحرافی نہیں رکھتا۔
اس وقت پاکستانی قوم کی جانب سے جو ردعمل اس پورے منظرنامہ پر نظر آرہا ہے وہ تمام ملوث فریقوں کے لئے فکر کا لمحہ ہے۔ پورا پاکستان آزادی اور خودمختاری کی لہر میں ڈوبا ہوا ہے۔ اندرون و بیرون پاکستانی کی طرف سے جس طرح اس وقت قومی حمیت کے نعروں کا جواب دیا جارہا ہے وہ کھل کر اس امر کی غمازی کررہا ہے کہ اب پاکستانی قوم تھک چکی ہے اور یقینی طور پر محکومی سے چھٹکارا پا کر اپنی زندگی جینا چاہتی ہے۔ اس وقت عمران خان یا جو کوئی بھی اس نظریہ کو آگے بڑھاتا ہے پاکستانیوں کے لئے نجات دہندہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قوموں کی زندگی میں مشکل وقت آتے ہی اس لئے ہیں جو انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ آگے بڑھنے کا راستہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر چلنے کا ہوتا ہے۔ حالات جس نہج پر چل نکلے ہیں وہ غیر معمولی ہیں۔ عمران خان مقدمہ عوام کی عدالت میں رکھ چکے ہیں، اداروں کے خلاف منظم سازس چلانے والے اس وقت حکومتی ایوانوں میں موجود ہیں اور ہر اس کوشش میں ہیں جس سے وہ عوام کا سچائی کی طرف بڑھتا ہوا اثر زائل کرسکیں۔ عالمی طور پر موجودہ حکومت کے خلاف ٹرینڈ تمام سوشل میڈیا پر گونج رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا بری طرح تقسیم ہو چکا ہے۔ پاکستانی قوم کو بے حس سمجھنے والوں کے لئے اشارے ہیں، نئی حکومتی کابینہ ان افراد سے بھری ہوئی ہے جو کسی نہ کسی طور پر ضمانت پر بری ہوئے ہیں۔ سابق فوجی افسران یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہو رہے ہیں کہ کیا اس پاکستانی نظام کو محفوظ رکھنے کے لئے ہم اپنی جانیں داﺅ پر لگاتے ہیں اور جوانوں کی شہادتیں دیتے ہیں۔ قوم جواب مانگ رہی ہے اس وقت ان تمام سے جو کہ ذمہ داران ہیں قوم کو پھر خواب غفلت میں دھکیلنے کی کوشش میں۔ مگر شاید اس دفعہ پاکستانی قوم ان کو معاف کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ بیداری آچکی ہے، پاکستانی اب اپنا حق کسی اور کے ہاتھ میں دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اور شاید یہ ہی ہے وہ تبدیلی جس کے خواب پاکستانی دیکھتا تھا گو یا تبدیلی آچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں