خطرناک راﺅنڈ شروع 102

تبدیلی سرکار۔۔۔!

پشاور جیسے شہر سے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کی بدترین شکست جہاں الیکشن کے شفاف ہونے کی تصدیق کررہی ہے وہیں خود عمران خان کی حکومت اور ان کے نئے پاکستان کے سلوگن کی ناکامی بھی ثابت کررہی ہے۔ یہ انتخابی نتائج عمران خان کی حکومت کے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے۔ بلکہ ایک طرح سے تبدیلی سرکار کی تابوت میں ایک طرح سے آخری کیل ہے۔ میں نے اپنے کل کے پروگرام میں عمران خان سے کہا تھا کہ ”ایاک نعبد و ایاک نستعین“ کے بعد ”ادھدنا صراط المستقیم“ بھی آتا ہے۔ آپ اپنی ٹیم کو اس پر چلنے کی تلقین کرلیں اور آپ کے لئے یہ مشورہ ہے کہ جتنی جلد ہی ہو سکے آپ بزدار، محمود خان اور اعظم خان سے چھٹکارہ پالیں اگر آپ واقعی ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں تو۔۔۔
میں نے اتنی بڑی بات یوں ہی تو نہیں کہہ ڈالی تھی، مجھے دور کینیڈا میں بیٹھے تبدیلی سرکار کی کارستانیاں نظر آرہی تھیں کہ وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ جس سے صورتحال تیزی کے ساتھ خراب ہوتی جارہی ہے اور اب تو ملکی عوام بھی آہستہ آہستہ صورتحال سے آگاہ ہوتے جارہے ہیں جس کا زندہ ثبوت پشاور کے بلدیاتی انتخابات کا نتیجہ ہے جو خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ کے لئے ڈوب کر مرنے کا مقام ہے۔ یہ انتخابی نتیجہ خیبرپختونخواہ حکومت کی کارکردگی پر ایک زور دار طمانچہ ہے وہ صوبہ جس کی کارکردگی پر پورے تحریک انصاف کا دارومدار ہے، جہاں ایک عرصے سے تحریک انصاف کی حکومت ہے جسے عمران خان ایک مثالی صوبہ بنانے کا دعویٰ کرتے تھے جس کی پولیس کو وہ پاکستان کی مثالی پولیس کہا کرتے تھے، آخر ایسا کیا ہوا کہ پشاور شہر کے عوام نے پی ٹی آئی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کی سب سے بڑی حریف جماعت مولانا فضل الرحمن کی پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کروا دیا۔ یہ نتائج عمران خان کے لئے کسی بھی طرح سے نوشتہ دیوار سے کم نہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ وہ میرے مفت کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اھدنا صراط المستقیم پر خود بھی چلیں اور اپنی ٹیم کو چلانے کی کوشش کریں اور فوری طور پر بزدار، محمود خان اور اعظم خان سے اپنا اور ملک کا پیچھا چھڑوائیں۔ ان کے غلط سلط مشوروں سے ان کی حکومت اور پارٹی بندگلی میں داخل ہو چکی ہے۔ ملک میں مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ عام لوگوں کے جسم اور روح کے رشتے کو برقرار رکھنا نہ صرف مشکل بلکہ نا ممکن ہو گیا ہے۔ ملکی عوام ہر عمل کی وجوہات اور تاویلیں سننے کے موڈ میں نہیں ہے انہیں تو اپنے مسئلے کا حل درکار ہے، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، قرضے میں نے نہیں سابقہ حکومتوں نے لئے ہیں، اس طرح کی دلیلوں اور وضاحتوں سے نہ تو مہنگائی کم ہونے کا نام لے رہی ہے اور نہ ہی غریبوں کے بجھے ہوئے چولہے جلنے کا نام لے رہے ہیں۔ غریبوں کو مولویوں کی تقریروں سے زیادہ وہ سلطانہ ڈاکو پسند ہیں جو دوسروں کا ڈاکہ مار کر کم از کم غریبوں کے چولہے تو بجھنے نہیں دیا کرتے تھے۔
۔۔۔ عمران خان صاحب لوگ فسانوں اور کتابی باتوں میں نہیں تلخ حقائق میں زندگی کی سانسیں لے رہے ہیں اس وقت پاکستان میں مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہیں اس کے ذمہ دار کوئی بھی ہو اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم آپ ہیں اور اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ ملکی عوام کو اس مہنگائی اور اس کے اثرات سے باہر نکالیں۔ آپ کے پاس ملک کے تمام تر وسائل موجود ہیں، اپنے اختیارات کا استعمال کریں اور ہو سکے تو ملک کے غریب عوام کو ریلیف دلادیں ورنہ یاد رکھیں نہ تو آپ کو کوئی یاد رکھے گا اور نہ ہی تحریک انصاف کو۔۔۔ جس کا زندہ ثبوت پشاور کے بلدیاتی انتخابات کا یہ نتیجہ ہے یہ ایک طرح سے پشاور کے عوام کا تحریک انصاف سے نفرت اور بے زاری کا زندہ ثبوت ہے اور یہ ہی نتیجہ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگا اگر آج عمران خان قبل از وقت الیکشن کروانے کا اعلان کرتے ہیں تو اس میں سب سے زیادہ نقصان بھی خود عمران خان اور ان کی پارٹی کو ہوگا اس لئے کہ ملکی عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے عمران خان کی پارٹی کے خلاف ہو گئے ہیں اور جو انتخابی رزلٹ پشاور کا ہے اسی طرح کے انتخابی رزلٹ لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں کے علاوہ کراچی اور بلوچستان میں ہیں۔ عمران خان کی پارٹی کا استقبال کریں گے اس لئے بہتر ہے کہ عمران خان قبل از الیکشن کروانے کا خیال دل سے نکالتے ہوئے اپنی پارٹی سے گندے انڈوں کو نکالنے کا سلسلہ شروع کریں اور پہلی فرصت میں پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے وزراءاعلیٰ کو تبدیلی کریں اور خود اپنے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو جبری رخصت پر بیرون ملک بھجوا دیں اور ان کی جگہ گریڈ 22 کے کسی پولیس افسر کو اپنا پرنسپل سیکریٹری بنانے کا تجربہ کریں اس لئے کہ خود آپ کے اپنوں کی وجہ سے آپ کے مثالی صوبے خیبرپختونخواہ میں میگا کرپشن کی حالت اتنی خراب ہو گئی ہے کہ کسی ایک بھی انتظامی افسر کی پوسٹنگ رشوت کے بغیر ممکن نہیں چاہے ڈپٹی کمشنر ہو یا کمشنر، ایس ایس پی ہو یا ڈی آئی جی، یا کوئی تپے دار ہو، ہر کوئی رشوت دینے پر مجبور ہے اور رشوت کی کڑیاں صوبوں سے ہوتے ہوئے پرائم منسٹر سیکریٹریٹ تک جاتی ہے۔ عمران خان صاحب آپ ہوش کے ناخن لیں خود آپ کے آس پاس جنہیں آپ اپنا وفادار اور قیمتی اثاثہ خیال کرتے ہیں وہی آپ کی جڑوں کو کھوکھلا کررہے ہیں جس کا زندہ ثبوت پشاور کے بلدیاتی الیکشن کا نتیہ ہے جو آپ کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں