پاکستان نے FATF کی تمام شرائط پوری کردیں! 67

تحریکِ عدم اعتماد۔۔۔ حقیقت یا ڈھونگ!

محترم قارئین کرام آج ہم اکیسویں صدی میں زندگی گزار رہے ہیں جو پچھلی صدی سے کہیں ایڈوانس اور ماڈرن ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون نے ہماری زندگیوں میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ اس کے مثابت استعمال سے ہم اپنے روزمرہ کے تمام کاروباری و غیر کاروباری معاملات کو دیکھ سکتے ہیں اور دوسری طرف اس ڈیوائس کو منفی طور پر استعمال کرتے ہوئے فحش فلمیں، پروپیگنڈہ، غیر تصدیق شدہ نیوز رپورٹس، بچوں کو بے راہ رو کرنے کا میٹریل، فیشن کی اڑ میں بے لباسی، ورزش کے طریقے بتانے والی چست لباسوں میں ملبوس انسٹرکٹرز، جسنی مسائل پر مردوں کو مشورہ دیتی ہوئی خواتین وغیرہ وغیرہ دیکھتے ہیں۔ اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔
اسی ڈیوائس کی بدولت اب ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے چھوٹے سے چھوٹے گاﺅں یا قصبے میں بھی وہ بات پہنچ رہی ہے جو پہلے کبھی نہیں پہنچا کرتی تھی۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے بنیادی ضروریات تو عوام تک نہیں پہنچائیں مگر موبائل فون نے لوگوں کو تعلیم دی اور شعور پیدا کردیا کہ وہ سوچ اور پرکھ سکیں کہ کون اچھا ہے اور کون برا ہے۔ میں بات کررہا ہوں پچھلے کئی ہفتوں سے جاری لا حاصل بحث کہ ”عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد“ لائی جارہی ہے۔
ہمارے میڈیا کے پاس لوگوں کو مثبت چیزیں بتانے کے لئے کوئی مواد نہیں ہے، کہتے ہیں کہ ایسا مواد عام لوگ پسند نہیں کرتے اور اگر پسند نہیں کرتے تو اس پروگرام، چینل اور اخبار کی ریٹنگ گر جاتی ہے جس سے پروگرام کے اینکر کو غیر مقبول قرار دے کر نکال دیا جاتا ہے۔ اسی ریٹنگ کو حاصل کرنے کے لئے میڈیا کے لوگ دو جملوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ”مبینہ طو رپر اور ذرائع“ سے۔ اس بات کا آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ ان الفاظ کی جامع تعریف کیا ہے؟
پچھلے کئی مہینوں سے تمام اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں ایک دھما چوکڑی مچا رکھی ہے کہ عمران خان حکومت آج گئی کہ کل گئی۔ بڑے بڑے سورما لیڈر اس کی کئی تاریخیں دے چکے ہیں مگر رزلٹ صفر۔ یہ شوشا صرف اور صرف ٹی وی کی توجہ حاصل کرنے کے لئے چھوڑا گیا ہے کہ اگر ہم ٹی وی پر زندہ ہیں تو پھر سیاست میں بھی زندہ ہیں وگرنہ اس ساری مشق سے کچھ برآمد نہیں ہوگا۔
اگر بات کی جائے کہ یہ اعصاب کی جنگ ہے تو پھر عمران خان کے اعصاب ان سب سے مضبوط ہیں جس کا ہر کسی کو ادراک ہے۔ عمران خان کے ملک کو درست سمت پر ڈالنے کے لئے غیر مقبول فیصلے اس پر تنقید کی وجہ بن رہے ہیں۔ اگر آج وہ اپنا دوستی کا ہاتھ اپوزیشن کی طرف بڑھا دے اور ان سے کمپرومائز کرلے تو سب سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے۔
حیرانگی اس امر کی ہے کہ زرداری جیسے بدنام زمانہ شخص نے اپنی حکومت کے پانچ سال پورے کئے اور پھر مسلم لیگ (ن) نے اپنا پانچ سالہ کرپشن سے بھرپور دور اقتدار پورا کیا۔ اب عمران خان حکومت کو یہ لوگ کیوں چلنے نہیں دے رہے جب کہ یہ حکومت پچھلی حکومتوں سے کہیں بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے تو اس کی وجہ بڑی واضح ہے کہ یہ جماعتیں جو دہائیوں سے بار باری چند اقتدار پر بیٹھ کر ملک کا خون نچوڑ رہی تھیں اور آپس میں مک مکا کی سیاست کررہی تھیں، ایک منافقانہ کھیل کھیل رہی تھیں ان کے مفادات اس سے جڑے ہوئے ہیں جن میں سب سے اول ان کی اربوں کی جائیدادیں ہیں جن کی خاطر آج یہ سڑکوں پر ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں ان کی اولادوں کو شہزادوں جیسا پروٹوکول ملتا رہا ہے جو اب چھن چکا ہے ان جماعتوں کے کئی ممبران اسمبلی جیل یاترہ کر چکے ہیں۔ میاں نواز شریف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد خصوصی عدالت میں اتنی پیشیا بھگتنی پڑی کہ ان کے جوتے کئی بار ٹوٹ گئے۔ اب مریم، شہباز اور حمزہ عدالتوں میں پیش ہو کر چور چور ہو چکے ہیں ان کا بس نہیں چل رہا کہ گریبان سے پکڑ کر عمران خان کو اقتدار سے اتار دیا جائے۔ دوسری طرف زرداری اپنی مکارانہ چالوں سے بیچ بچاﺅ کرکے عدالتوں سے ریلیف لیتا چلا آرہا ہے۔
جب سے تحریک عدم اعتماد کی بحث نے زور پکڑا ہے عدالتوں نے مذکورہ بالا افراد کے خلاف کارروائی سست کردی ہے بلکہ (Wait and See) کی پالیسی اپناتے ہوئے نظر آرہی ہیں۔ اسی طرح بیورو کریسی بھی دھیمی رفتار سے چل رہی ہے۔
اپوزیشن کے سرغنہ فضل الرحمن کو کسی پل چین نہیں ہے تمام اپویزشن جماعتوں سے اسے زیادہ جلدی ہے کہ حکومت ختم ہو جو کہ میری ناقص رائے میں ایسا کچھ نہیں ہونے جا رہا یہ صرف اور صرف عدالتوں، حکومت، میڈیا اور لوگوں کو بے وقوف بنانے کی چال ہے اس پٹاری سے اپوزیشن کی رسوائی ہی نکلے گی اور عمران خان ایک بار پھر سرخرو ہو گا کیوں کہ اللہ کی نصرت و حمایت اس جری جرنیل کے ساتھ ہے اور عوام کی بھرپور حمایت حاصل بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں