Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 128

تربیت

کتنے سادہ لوگ تھے۔ بالکل خالص، جھوٹ، فریب دکھاوے سے دور، اکثریت کے پیمانے سے، کیوں کہ اچھے برے ہر جگہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے ابھی اٹھارہ بیس سال ہی ہوئے تھے۔ ہجرت کا عمل بھی تقریباً مکمل ہی ہو چکا تھا، اکا دکا ابھی بھی آجا رہے تھے۔ کیا ہی اچھا دور تھا، لوگ اپنی خوشی سے اپنے آپ جیتے تھے۔ چھوٹے شہروں، دیہاتوں سے آنے والوں کی تعداد زیادہ تھی، بڑے شہروں، بڑے لوگوں سے تعلقات والے اور انگریزوں کے قریب رہنے والے بہت کم ہی لوگ تھے جو اپنے ٹھکانے چھوڑ کر اس حصے میں منتقل ہوئے جو ہندوستان کا ہی ایک حصہ تھا لیکن اب پاکستان کہلاتا تھا۔ ابھی تک لوگ ایک دوسرے سے جان پہچان تعلقات نکال رہے تھے۔ کسی کی دور کی رشتے داری، تعلقات، محلے داری بہت تجسس تھا کہ کون کہاں سے آیا ہے۔ اس دور میں لوگ بہت سادہ طریقے سے رہتے تھے۔ مہمان اور میزبان دونوں کسی بھی بات کا برا نہیں مناتے تھے۔ وضع داری تھی پر بناوٹ نہیں تھی۔
اماں نے آواز دی ارے بیٹا ذرا شبن کی دکان سے فانٹا یا کوکا کولا کی چھ بوتلیں تو لے آ، دیکھ تیری خالہ آئی ہیں، اماں کی ہر سہیلی ہر جاننے والی یا محلے دار ہماری خالہ ہوتی تھیں، اماں نے جیسے ہی آواز لگائی اور ماجد میاں نے شبن کی دکان کی طرف دوڑ لگا دی، شاید مہمانوں کے آسرے میں فانٹا چکھنے کا موقع مل جائے، بوتلیں اسی طرح کھول کر مہمانوں کے آگے رکھ دی جاتی تھیں، گلاس وغیرہ کا کوئی تکلف نہیں تھا۔ جھوٹی تہذیب، جھوٹا رکھ رکھاﺅ، اور دکھاوا ابھی خالص لوگوں تک نہیں پہنچا تھا۔ نا بغیر گلاس پیش کئے میزبان کو کوئی شرمندگی ہوتی تھی اور نا ہی مہمان کو برا محسوس ہوتا تھا۔ کیوں کہ ابھی لوگ ٹی وی سے نابلد تھے۔ کوئی تصور نہیں تھا۔ لوگ اپنا وقت بہت اچھے ماحول میں گزارہ کرتے تھے، صحن میں چار پائیاں یا تخت بچھے ہوتے تھے اور سب وہیں بیٹھے ہنسی مذاق، قہقہے لگا رہے ہوتے تھے۔ کچھ گھروں میں مرغیاں، بکریاں، کبوتر، طوطے، چڑیاں پالنے کا بھی رواج تھا۔ گھر سے باہر چھڑکاﺅ کروایا جاتا اور بڑے بوڑھے کرسیاں ڈال کر محلے کے دوسرے بزرگ حضرات سے خوش گپیاں کرتے، چائے کا دور چلتا، دنیا بھر کی باتیں ہوتیں اور اپنی شام کو خوبصورت بنا کر سب اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے۔ لوگ ایک دوسرے کا ایک دوسرے کے بچوں کا بہت خیال رکھتے، مجال نہیں کہ کوئی شخص محلے سے کسی بچے کو اٹھا کر لے جائے، بچے راستہ بھول جاتے تھے، گم ہو جاتے تھے، لیکن مساجد میں اعلانات اور محلے والوں کی مشترکہ تلاش سے بچے مل جاتے تھے۔ پھر وقت بدل گیا، افراتفری کا عالم ہو گیا، ایک ہی محلے میں رہتے ہوئے پڑوس کے حالات سے لوگ بے خبر ہو گئے، کیوں کہ جو تربیت پاکستان آنے تک اور ٹی وی کے نا آنے تک ہوئی وہ ختم ہو گئی۔ تربیت کا ڈھنگ بدل گیا، اسکول، کالج جانے کو ہی تربیت اور تہذیب کا سرٹیفکیٹ سمجھا گیا، لوگ بھول گئے کہ کالج کی ڈگریاں تہذیب یافتہ ہونے کی ضمانت نہیں ہیں بلکہ تربیت ضمانت ہے۔
ماں باپ نے سمجھا کہ اسکول بھیج کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو گئے، پہلے گمشدہ بچہ مل جاتا تھا اب بچہ گم ہوتاہے تو ماں باپ پہلے ہی فاتحہ پڑھ لیتے ہیں اور وہ بچہ مردہ حالت میں کسی گٹر یا نالے میں ملتا ہے، زیادتی کرکے اسے مار دیا جاتا ہے۔ سات سالہ بچی زینب کا واعہ کافی مشہور ہوا کیوں کہ اس کے پیچھے ایک خوفناک کہانی تھی جس پر مکمل پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ زینب قصور کے جس ڈسٹرکٹ میں رہتی تھی وہاں ایک سال میں کسی بچے کے ساتھ ہونے والا یہ بارہواں واقعہ تھا اسے حیرانگی نہیں سمجھا گیا کیوں کہ لوگ عادی ہو چکے ہیں، میں نے اس وقت ہی کہا تھا کہ یہ آخری واقعہ نہیں ہے، ابھی اور بچوں کی خبریں آئیں گی بلکہ پورے ملک سے آئیں گی، آرہی ہیں، لوگ اس خبر کو اس طرح سنتے اور بھول جاتے ہیں، جیسے بازار میں پرس یا ٹیلی فون چھیننے کا واقعہ ہو۔
کورنگی کی چھ سالہ ننھی ماہم یہ بھی آخری واقعہ نہیں ہو گا اس ہی علاقے میں ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں، وحشی درندے جنونی ہر ملک اور معاشرے میں ہیں لیکن ان کا جنون قانون کی سختی میں قید ہے، کوئی بھی معاشرہ اسکول کالج کی تعلیم سے نہیں سدھرتا، اسکول کالج کی ڈگریاں وحشت اور جنون کو ختم نہیں کر سکتیں۔ یہ جنون یہ وحشت کسی شخص میں پیدا ہی نا ہو اس کے لئے اچھی تربیت کا ہونا لازمی ہے، یہ تربیت سب سے پہلے بچپن ہی سے گھر میں اور اس کا کچھ حصہ اسکول کی ذمہ داری ہے لیکن آج کل کے اسکول صرف کاروباری ادارے ہیں لہذا تربیت صرف گھر سے حاصل ہوتی ہے لیکن وہاں نہیں جہاں گھر کے بڑے بچوں کے سامنے کسی دوسری قومیت یا زبان والے کے خلاف یا کسی سیاسی پارٹی یا لیڈر کے خلاف زہر اگل رہے ہوں، دھرنے بھی ہوں گے، جلاﺅ گھیراﺅ ہو گا، بڑے بڑے جلوس جلسے ہوں گے لیکن صرف کرسی کی خاطر معاشرے کی صفائی کے لئے کوئی آگے نہیں آتا۔ جن بچوں کے ساتھ یہ ظلم ہو رہا ہے ان کے ہی ماں باپ اس دھرنے جلوس یا جلسے کا حصہ ہو سکتے ہیں کیوں کہ ان بے مقصد دھرنوں میں شامل ہونے والے یہ نہیں سوچ رہے کہ یہ آگ ان کے گھر بھی آسکتی ہے۔
کچھ لوگ تعلیم کو قصور وار ٹھہراتے ہیں کیوں کہ ان کے خیال میں یہ جنونی یہ ظالم اور خونخوار لوگ غیر تعلیم یافتہ ہوتے ہیں لہذا اسکول اور کالجز میں اضافہ ہونا چاہئے، تعلیم کی طرف توجہ دینا چاہئے، اس وقت جو لوگ اسکول کالج میں تعلیم حاصل کررہے ہیں وہ کیا جنونی اور ظالم نہیں ہیں ابھی تازہ واقعہ شوک مقدم کی بیٹی نور مقدم جس کے ہاتھوں وحشیانہ انداز میں قتل ہوئی اس کا قاتل ارب پتی کاروباری شخص ذاکر جعفر کا تعلیم یافتہ بیٹا ظاہر جعفر تھا جس نے امریکہ اور لندن میں تعلیم حاصل کی اس کے علاوہ بھی کئی تعلیم یافتہ اشخاص بہت گھناﺅنے جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں، زینب اور ماہم آخری ننھی بچیاں نہیں ہیں، ابھی مزید بچیوں کی لاشیں گٹروں میں نالوں میں ملیں گی۔ ننھی فرحت کا واقعہ جن لوگوں نے سنا ان میں سے ایک کی بچی کے ساتھ وہی ہوا، زینب کا واقعہ جن لوگوں نے سنا اور اہمیت نہیں دی ان کی بچی کے ساتھ بھی ہوا، ماہم کا واقعہ لوگ سن رہے ہیں درگزر کررہے ہیں، بے حسی، لاپرواہی، صرف ان کے گھر میں دم توڑتی ہے جن کے گھر میں واقعہ ہوتا ہے۔ باقی لوگ اپنے گھر کو برف خانہ بنانے پر ترجیح دیتے ہیں شاید ان کے خیال میں برف کے گھرمیں آگ نہیں لگ سکتی۔ آواز اٹھاﺅ، حکومت سے اپنے نمائندوں سے اور قانون سے مطالبہ کرو کہ ہمارا برف خانہ محفوظ رہے۔ اس قوم کو اسکول کالج کی نہیں تربیت کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں