یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں ہنود 57

ترقی معکوس

ایران کا مشہور بادشاہ نوشیروان جو اپنے عدل و انصاف کے باعث نوشیروان عادل کہلاتا ہے ایک بار شکار کے لئے گیا۔ شکار گاہ میں اس کے لئے کباب تیار کئے جارہے تھے کہ اتفاق سے نمک ختم ہو گیا۔ شاہی باروی نے ایک سپاہی سے کہا کہ قریب کی بستی میں جا کر وہاں سے نمک لے آﺅ۔ بادشاہ نے یہ بات سن لی، اس نے سپاہی کو قریب بلا کر تاکید کی کہ قیمت ادا کئے بغیر نمک ہر گز نہیں لانا۔ شاہ کا وفادار سپاہی بولا حضور والا نمک کی کیا بات ہے یہ کسی سے بھی بغیر قیمت ادا کئے حاصل کیا جا سکتا ہے کسی میں ہمت نہیں انکار کر سکے کہ یہ نمک آپ کے دسترخوان کے لئے ہے اس سے کیا فرق پڑے گا۔ نوشیروان عادل نے کہا کہ ضرور فرق پڑے گا۔
یاد رکھو برائی کی ابتداءمعمولی ہی دکھائی دیتی ہے لیکن پھر بڑھتے بڑھتے اتنی بڑی بن جاتی ہے کہ اسے ہٹانا آسان نہیں ہوتا۔
بغیر حق کے حکمران کرے وصول ایک سیب
سپاہی اس کے جڑوں سے اکھیڑ لیں گے درخت
جو حاکم کبھی مفت پانچ انڈے کے
سپاہی اس کے کریں گے ہزار مرغ دولخت
کسی بھی برائی کو معمولی خیال نہیں کرنا چاہئے۔ معمولی برائی بھی بڑھ کر بہت بڑی برائی بن جاتی ہے کیونکہ حکمرانوں کے ماتحت برائی میں ان کی تقلید بہت زیادہ کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں زندگی کے ہر شعبہ میں جس طرح کی خرابیاں سرائیت کر چکی ہیں جس کی وجہ سے تباہی کے آثار ہر سمت نظر آتے ہیں ہر معاشرے کی بنیاد ریاست کو قرار دیا جاتا ہے ریاست عدلیہ انتظامیہ اور مقننہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے میں میڈیا کو بھی ریاست کا حصہ قرار دیا جاتا ہے یہ تمام ادارے مل کر کسی ریاست کی تشکیل کرتے ہیں۔ آزادی کے وقت کچھ ادارے مکمل طور سے تشکیل دیئے ہوئے تھے یا ان میں سے کچھ حد تک نامکمل تھے۔افراد ہی اداروں کی تشکیل اور ترتیب کے ذمہ دار ہوتے ہیں اس طرح جب ان اداروں کو تشکیل دینے کا آغاز کیا گیا تو افراد آپس میں ہی انتشار کا شکار ہو گئے اس طرح انتظامیہ کا ڈھانچہ بھی ابتدائی طور پر تکمیل کے منطقی انجام تک نہ پہنچ سکا، یہ ہی صورت حال مقننہ عدلیہ کی رہی۔
قانون بنانے والے آپس میں دست و گریباں ہو گئے، کسی نہ کسی طرح قانون یا آئین کی ابتدائی تکمیل بھی 1956ءمیں ہوئی جس کو دو سال بعد فوجی آمریت نے منسوخ کر دیا، مقننہ نے بھی جسٹس منیر کی عدالت میں اس آمریت کا جواز فراہم کیا اس طرح انتظامیہ میں اس وقت کی فوجی حکومت کی اعلیٰ کار بن گئی یعنی معاشرے کی تشکیل ابتدائی طور پر غلط انداز میں کی گئی، زندگی کا ہر شعبہ جو معاشرے کی مثبت انداز میں بنیاد فراہم کر سکے اس سے متاثر ہوا، معاشرے کے وہ ادارے جو ملکی ترقی کے ساتھ ساتھ عوام کے لئے سہولتیں فراہم کر سکے وہ ادارے ترقی معکوس کی سمت بڑھتے چلے گئے کیونکہ پاکستان کی تشکیل میں عوام کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں کا مرکزی کردار رہا ہے اس کی ناکامی کا بھی ذمہ دار اولین طور پر سیاستدان کو ہی قرار دیا جا سکتا ہے جن کی نا اہلی کی وجہ سے فوج جو موقع کی تلاش میں تھی مداخلت کا جواز فراہم کیا گیا۔
اس لئے اس معاشرتی تباہی میں فوج اور سیاستدان برابر کے ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔ فوج اور سیاستدانوں کی دیکھا دیکھی مقننہ نے بھی بجائے قانون سازی کرنے کے قانون ساز اداروں کو نقصان پہنچایا اس لئے قانون ساز ادارے بھی جوڑ توڑ کی اماج گاہ بن گئے۔
عدلیہ نے بھی انصاف فراہم کرنے کے بجائے اس گنگا میں نہ صرف ہاتھ دھونے شروع کر دیئے بلکہ باقاعدہ اشنان کرنا شروع کر دیا یعنی قانون ساز اداروں میں بھی قانون شکنی شروع ہو گئی اور عدلیہ بھی انصاف دینے کے بجائے نا انصافی جس کی مثال بن گئیں تھا اس ہی طرح فوج جو کہ حکومت کا ایک ادارہ نہیں بلکہ محکمہ ہے جس طرح پولیس کا محکمہ عوام کی حفاظت کرنے کے بجائے برعکس کام کرتا رہا۔ فوج کے محکمہ کا کام ملکی سالمیت کی حفاظت کرنا ہوتا ہے جب کہ وہ خود ملکی اقتدار پر قبضہ کرکے ملکی سلامتی کو مسلسل نقصان پہنچانے کی ذمہ دار ٹھہرائی گئی۔
فوج نے اپنی وجہ ملکی سلامتی سے ہٹا کر ملکی امور میں مداخلت کا باعث بن گئے جس کی وجہ سے ملکی سلامتی ہمہ وقت خطرے میں رہی جب کہ ملک مسلسل بحران در بحران کا شکار ہوتا چلا گیا جیسا کہ گزشتہ ایک عرصہ سے یہ ہی کیا جارہا ہے ملک بحران کی حالت میں ہے یعنی سیاستدان ملکی وقار کو نقصان پہنچانے کا باعث ہوئے اور اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہے جس کی وجہ سے سیاستدانوں کو فوج نے استعمال کیا اور ان سے اپنا کام لے کر فارغ کردیا۔ کبھی نوکر شاہی یا بیوروکریسی کو استعمال کیا ان میں بھی کرپشن سرایت کرتی چلی گئی اس طرح ملکی وسائل کو دن بہ دن نقصان ہوتا رہا یعنی بلے کو دودھ کی رکھوالی پر رکھوا دیا گیا۔ سرمایہ داروں نے بھی سیاستدانوں، بیوروکریسی کے ساتھ مل کر ملکی وسائل میں اپنا حصہ ناجائز طور پر وصول کرنا شروع کردیا۔ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے ملکی وسائل کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے منفی کردار ادا کیا، ملکی صنعت میں اضافہ ہونے کے بجائے سکڑنے کا عمل شروع ہو گیا یوں غیر ملکی قرضوں پر انحصار بڑھتا چلا گیا۔ جب ملک میں کرپشن کو روکنے والے ادارے بنائے گئے تو انہوں نے بھی کرپشن کے خاتمہ کے بجائے اس میں اپنا حصہ وصول کرنا شروع کردیا اس ہی طرح پولیس کا محکمہ بھی معاشرے میں امن و امان قائم کرنے کے بجائے ظلم و بربریت کی علامت بن گیا جس کی وجہ سے وہ اپنے مقاصد کے برعکس لوگوں کو امن سکون فراہم کرنے کے بجائے جیسا کہ اس طرح کے ادارے مہذب معاشرے میں اپنا مقام بنا کر عوام کی فلاح و بہبود کو ممکن بناتا ہے الٹا اس محکمہ نے عام لوگوں میں خوف اور بدعنوانی کو فروغ دینے میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ یعنی زندگی ہر شعبہ میں معاشرے کے ہر ادارے اور محکمہ نے ہمیشہ ترقی معکوس کا سفر کرکے اپنے مقاصد کے برعکس عمل پیرا ہو کر ہر طرف انتشار کی کیفیت پیدا کرکے اور اپنے اپنے مقاصد سے انحراف کرنا شروع کردیا۔
معاشرے کے ہر شعبہ میں تباہی کا آغاز سیاستدانوں کی کمزوریوں سے ہوا جس کی وجہ سے فوج کو ٹیک اوور کرنے کے مواقع حاصل ہوئے۔ جب ملک میں پہلا ٹیک اوور ہوا اس وقت سے ہی معاشرے کے ہر شعبہ میں بھی ٹیک اوور کی بھی ابتداءہو گئی اس طرح پرانے حکمرانوں کی جگہ نئے حاکم ٹیک اوور کرتے چلے گئے اس سے ملک کے تمام ادارے اور محکمہ دن بدن زوال کا شکار ہوتے چلے گئے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ سب ایک دوسرے کو اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہرا کر خود کو اس سے مبرا سمجھتے ہیں۔
قائد اعظم قائد ملت ناظم الدین حسن شہید سہروری جیسے رہنماﺅں کو سازش کرکے راستے سی جب ہٹایا گیا تو ملک کی سمت ہی تبدیل ہوتی چلی گئی، ہر شعبہ سے اپنے مقاصد سے دور ہوتا چلا گیا، زمام اقتدار غیر مستحق عناصر کے ہاتھ آیا۔ اس طرح ٹیک اوور کی جو ابتداءایوب خان سے شروع ہوئی وہ صرف اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہ رہی بلکہ معاشرے کے ہر شعبہ میں ٹیک اوور کرکے نا اہل مسلط ہوتے چلے گئے اور ہر شعبہ سے دیانت دار افراد کو آہستہ آہستہ منظر سے ہٹا دیا گیا اور اعلیٰ عہدوں پر ٹیک اوور جاری رہا اور نا اہل بدعنوان ہر شعبہ کے حاکم بنتے چلے گئے اس طرح یہ ہی عمل نچلے درجہ تک سرایت کرتا چلا گیا۔ ہر شعبہ میں ایسی عمارت کھڑی کر دی گئیں جو دیکھنے میں بظاہر بلند بالا تھیں مگر ہر عمارت ٹیڑھی اینٹ پر کھڑی کردی گئی۔ یہ ہی وجہ ہے معاشرے کے ہر شعبہ میں تباہ حالی کے مناظر صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ اس لئے اس ٹیک اوور کے بعد معاشرے کے حکمرانوں نے ملک کے ساتھ ساتھ ملک کے وقار کو نقصان پہنچا کر اپنے مقاصد کے برعکس کردار ادا کیا۔ اس ہی طرح فوج نے ٹیک اوور کرکے ملکی کی سلامتی کو نقصان پہنچا کر ملک کے ایک بڑے حصے کو گنوا کر ملکی سالمیت کو مستحکم کرنے کے بجائے اس کے برعکس کردار ادا کیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے ملکی وسائل کو محفوظ بنانے کے بجائے ان کی لوٹ مار میں اپنا حصہ بڑھ چڑھ کر وصول کیا۔ اس ہی طرح پولیس کا محکمہ جو معاشرے میں امن و امان کا ذمہ دار تتھا وہ اپنے مقاصد کے برعکس لوگوں میں ظلم و دہشت کی علامت بن گیا اور لوگ تھانہ کلچر کو معاشرے میں نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔
اس ہی طرح عدلیہ اور وکیل کے ادارے لوگوں کو سستا اور فوری انصاف دینے میں مکمل ناکام ثابت ہوئے اور معاشرے میں ان کا مذاق اڑایا جانے لگا۔ اس ہی طرح معاشرے میں غور و فکر کرنے والے طبقے جن میں دانشور، ادیب، فنکار، شاعر بھی لوگوں میں میڈیا کے ذریعہ مثبت انداز فکر پیدا کرنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ معاشرے سے سچائی کہیں دور چھپ کر سہمی سہمی جھوٹ کے فروغ کر دیکھ دیکھ کر روتی رہی۔ جس طرح عوام کی اکثریت ہر دور میں خون کے آنسو بہاتی رہیں اور حاکم اپنے اپنے شعبوں میں عیاشیاں کرتے رہے۔
اب بھی کسی نوشیروان عادل کی دعائیں کی جارہی ہیں جو اس غلاظت زدہ معاشرے میں اندھی صفائی کر سکے اور اس ترقی معکوس کا سفر ختم ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں