Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 29

تعلیم اور قوم

تعلیم ان لوگوں کے لئے کامیابی کے دروازے کھول دیتی ہے جو ان راہوں کے متلاشی ہوں اور وہ حاصل شدہ تعلیم کو مثبت طریقے سے استعمال کرنے کے لئے جدو جہد کریں۔امریکہ کی سر زمین پر ابتدائی دور میں یوروپ سے آنے والے زیادہ تر لوگ جاہل ،اجڈ ،اور گنوار ٹا ئپ کے تھے اور یا پھر جرائم پیشہ لوگ تھے۔وہ افراد جو ان لوگوں کے درمیان تھوڑی بہت بھی تعلیم رکھتے تھے انہوں نے بڑی ہوشیاری اور ذ ہانت سے پورا کنٹرول سنبھال لیا۔ابراہام لنکن اگرچہ موچی کا بیٹا تھا لیکن علم حاصل کرنے کے شوق اور قدرتی ذہانت نے اسے دوسرے لوگوں سے برتر ثابت کردیا اور ایک دن وہ امریکہ کے صدر کے لئے چنا گیا۔اور اس کے بعد کے آنے والے صدر بھی اندھوں میں کانے راجہ کی طرح ہی تھے۔لہذا تعلیم کبھی رائیگاں نہیں جاتی اسے استعمال کرنے کا فن آنا چاہئے۔لیکن ان معمولی تعلیم یافتہ افراد نے امریکہ کو اپنی جاگیر نہیں بنایا بلکہ وسائل کی تقسیم برابری کی بنافد پر ہوئی۔دولت کمانے ملک کو ترقّی دینے اور دولت کی منصفانہ تقسیم میں سب نے حصّہ لیا یہی وجہ ہے کہ امریکہ ترقّی کے منازل طے کرتا ہوا آج سپر پاور بنا ہوا ہے۔صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دنان کے کئی ممالک انہی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ترقّی کرنے میں ہم سے کافی آگے نکل چکے ہیں۔اور ہم اس لئے پیچھے رہ گئے کہ غریب عوام کے ساتھ نا انصافی ہوئی۔
پاکستان بننے سے پہلے ہی ان تمام علاقوں میں جو بعد میں پاکستان کا حصّہ بنے انگریزوں کے وفادار زمیندار ،جاگیر دار ،وڈیرے ،سردار اور خان کا قبضہ تھا۔سب نے اپنے اپنے علاقوں کو سنبھالا ہوا تھا اور وہاں کے غریب لوگوں کو غلام بنا کر رکھّا ہوا تھا۔ اور یہ قبضہ گروپ نہیں چاہتا تھا کہ ان غریب لوگوں کو تعلیم سے روشناس کرایا جائے۔لہذا ان علاقوں کے رہنے والے تعلیم سے نابلد تھے اور نہ ہی وہاں اسکولوں کا کوئی تصوّر تھا۔انگریز گو کہ حکومت میں تھا لیکن اسے ان کے اندرونی معاملات سے کوئی سروکار نہیں تھا اسے تو بس لگان اور خراج سے مطلب تھا۔اور ان کے یہ وفادار اپنے ہی علاقوں کے غریبوں پر ظلم و ستم ڈھاتے اور ان سے گدھے کی طرح کام کرواکر انگریزوں کو بھی مال پہونچاتے اور اپنی جیبیں بھی بھرتے تھے۔پاکستان بننے کے بعد بھی یہی صورت حال رہی۔ان پر حکومت کرنے والوں نے ان کے ذہنوں میں یہ بٹھایا ہوا تھا کہ یہ جگیر دار وڈیرے ،سردار اور خان ہی تمھارے خدا ہیں لہذا وہ ساری زندگی ان کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے رہے۔کیونکہ انگریزوں نے ان زمین داروں ،جاگیر داروں ، سرداروں،وڈیروں ،اور خانوں کو ان کی وفاداریوں کے انعام میں دل کھول کر وہ زمینیں عطا کیں جو ان کے باپ کی نہیں تھیں۔ان غریبوں پر ہمیشہ تعلیم کے دروازے بند رہے لہذا انہیں کبھی نہیں معلوم ہوسکا کہ پاکستان کن حالات میں بنا۔کن علاقوں سے کیا معاہدے ہوئے۔انہیں کسی بات کا علم نہ ہوسکا وہ صرف اپنے علاقے کے بادشاہ کو جانتے تھے اور اس پر ہی یقین رکھتے تھے ،اور ان پر حکومت کرنے والوں نے انہیں لاعلمی میں ہی رکھّا اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوتے رہے۔ایک بڑے علاقے کے تمام وسائل سے وہ اور ان کے خاندان والے فائدہ اٹھاتے رہے یعنی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے اور غریب غریب ہی رہا۔لیکن اب صورت حال تبدیل ہورہی ہے۔ان چھوٹے علاقوں کے لوگوں کا بھی شعور بیدار ہونا شروع ہوگیا ہے دنیا بہت چھوٹی ہوگئی ہے۔انٹرنیٹ ،سوشل میڈیا نے لوگوں کے شعور کو بیدار کرنا شروع کردیا ہے۔اس کے باوجود غدّار وطن اور انگریزوں کے غلاموں کی نسل کے کچھ لوگ ابھی باقی ہیں جو پرانے طریقے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اب لوگ ان کی باتوں کو تولنے لگے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے محمود اچکزئی کا بیان اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ میں پرانی باتیں اس لئے بھی دہراتا رہتا ہوں کہ ہماری قوم کی یادداشت بہت خراب ہے ان لوگوں پر بار بار بھروسہ کرتے ہیں جو پاکستان کی مخالفت میں بہت کچھ کہہ چکے ہیں کرچکے ہیں۔
محمود اچکزئی پاکستان بننے کے ایک سال بعد یعنی 1948 میں بلوچستان کے علاقے میں پیدا ہوا اس لحاظ سے پیدائشی پاکستانی ہے۔ان کے والد عبدالصمد خان اچکزئی پختون ملّی عوامی پارٹی کے چئیرمین تھے عبدالصمد خان کے انتقال کے بعد محمود اچکزئی پارٹی کے سربراہ مقرّر ہوئے۔پشتون،سندھی،بلوچی قوم پرستوں کے اتّحاد پونم کے چئیرمین رہے۔ان کو پاکستان توڑنے والے تمام لوگوں سے محبّت رہی ہے۔ تین مرتبہ ایم۔این،اے تو بن گئے لیکن سیاست میں ان کی پارٹی کوئی ایسا مقام حاصل نہ کرسکی کے برسر اقتدار آجاتی ،اور عمران خان کے آجانے کے بعد تو رہی سہی امید بھی دم توڑ گئی۔ان کے دو مقاصد تھے یا تو برسر اقتدار آجائیں یا پھر پاکستان کے ٹکڑے کردیں پہلے مقصد میں تو ناکام ہوگئے لیکن دوسرا مقصد جس پر اندر ہی اندر کام ہورہا تھا کھل کر سامنے آگیا حالانکہ ان کی قوم پرست پارٹیوں میں دلچسپی اس بات کی طرف واضع اشارہ تھا کہ یہ پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔مگر اس قوم کا کیا جائے جو مجیب الرحمن کے حق اقتدار کو بھٹّو کے کہنے پر تسلیم نہیں کرتی۔جس نے بھٹّو کو کبھی کاندھوں پر اٹھایا تو کبھی اس پر جوتوں کی بارش کی۔جام صادق کے تمام گھناو¿نے کرتوت سامنے آنے کے بعد بھی اس قوم نے اس کو کاندھوں پر اٹھایا گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے اور اسے وزیر اعلی’ بنادیا۔یہی قوم زرداری کی واہ واہ بھی کرتی ہے اور گالیاں بھی دیتی ہے ،موجودہ حکومت سے بیزار ہونے کے باوجود خاموش بیٹھی ہے۔محمود اچکزئی کے بیان پر ہر شخص غم وغضّے کا اظہار تو کررہا ہے لیکن یہ قوم ایسے ہی لوگوں کے قابل ہے جو ان کو اّلو بناکر اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔
عامر لیاقت جیسے جوکر پیسہ کمانے کے لئے کسی کے اشارے پر دین میں رخنہ ڈالنے اور الٹے سیدھے فتوے ٹھوکنے کا کام کرتے ہیں اور یہ قوم ان کو اسلامی اسکالر کا نام دیتی ہے زرداری اور ان جیسے دوسرے سیاسی رہنما جن کا اس ملک کی بربادی اور جڑیں کھودنے میں کّھلم کھّلا ہاتھ ہے۔ان کو ایک بہترین سیاسی شخصیت کا نام دیا جاتا ہے۔ان کے بیانوں سے قوم ناراض بھی ہوتی ہے تو ان کو معلوم ہے کہ یہ جب چاہیں گے مگر مچھ کے آنسو بہاکر پھر قوم کے کندھوں پر سوار ہوجائیں گے اور اس قوم کی یاد داشت اتنی کمزور ہے کہ اسے صرف آج کی بات یاد رہتی ہے۔ملک کے دو ٹکڑے ہوئے ملک معاشی طور پر بربادی کی طرف رواں دواں ہے تعلیم کا فقدان ہے ،عوام بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔بھٹّو نے کہا تھا قوم گھاس کھاکر ایٹم بم بنائے گی۔ایٹم بم بنے زمانہ گزر گیا قوم ابھی تک گھاس کھارہی ہے اسے بھی معلوم تھا اب یہ قوم ساری زندگی گھاس کھائے گی اور اپنے اپنے سیاسی رہنماو¿ں کے گن گائے گی۔سیاسی رہنماوں کی بد کاریاں ، بد عنوانیاں،جھوٹ ،فریب جانتے ہوئے بھی یہ قوم ان کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی ہے تو کیا یہ قوم اس قابل نہیں ہے کہ اس سے اسی طرح کا سلوک کیا جائے۔ موجودہ حکومت کے لئے بارہا یہ سوال کیا جاچکا ہے کہ اس حکومت یعنی پی ٹی آئی میں عمران خان کے ساتھ وہی پرانے لوگ کیوں شامل ہیں جو ان پارٹیوں میں بھی رہے ہیں جو آج بھی کرپٹ کہلاتی ہیں۔پھر بار بار کہا جاتا ہے کہ ان کو کیوں نہیں نکال دیا جاتا جب کہ حزب اختلاف سمیت تمام لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ عمران خان کی حکومت کن حالات میں بنی اور کتنی کمزور تھی کہ ان لوگوں کو بھی مجبورا” ملانا پڑا جن کو عمران خان بالکل پسند نہیں کرتے۔ان پرانے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانا عمران خان کی مجبوری تھی کیونکہ پوری قوم نے اپنے آپ کو شخصیت پرستی کے نظام میں جکڑا ہوا ہے وہ اس سے باہر نکلنا نہیں چاہتے ۔ ان کے ذہن میں حکومت کا حق دار صرف جاگیر دار ، وڈیرہ ہی ہوسکتا ہے یا پھر موروثی۔ عمران خان کی مجبوری تھی کہ غلامانہ ذہنیت رکھنے والے بے وقوف لوگوں سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے ان کے آقاوں کو ملانا پڑا اور ان کو پارٹی سے نا نکالنے کی وجہ یہ تھی کہ پارٹی کو اور حکومت کو قائم رکھنے کے لئے ان لوگوں کی ضرورت تھی۔ شائید وہ دور بھی آجائے جب پی ٹی آئی کو اتنے مضبوط سہارے مل جائیں کہ پھر ان کرپٹ لوگوں کی ضرورت نا رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں