افکار پریشاں 53

تلخ نوائی معاف

الحمدللہ ہماری قوم عشقِ رسول میں ساری دنیا کے مسلمانوںسے سبقت لے گئی ہے۔ ہر طرف سے اس پر تعریف کے ڈونگرے برس رہے ہیں۔ ان کا بس نہیں چل رہا ہے کہ ساری دنیا کو نار جہنم میں جلتا ہوئے دیکھیں۔ اب دیکھ لیجئے کہ کس طرح ایک ”شہید“ نے جو کہ ایک صوبے کا گورنر تھا اور یہ اس کی حفاظت پر معمور تھا نے اسے ایک ”کافر“ بچی کو انصاف فراہم کرنے کے ”جرم“ میں سرکاری ہتھیار سے قتل کردیا۔ ہر طرف سے واہ واہ ہو گئی اور اسے فوراً شہادت کے درجے پر فائز کرکے اس کا مزار بنا دیا اور اس کا پرستش شروع ہوگئی۔ رحمتہ اللہ علیہ کے عہدے پر سرفراز کردیا۔ کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اس سے یہ پوچھے کہ ”مقتول“ نے جو قدم اٹھایا تھا وہ شریعت کے خلاف تھا یا آئین سے ماوراءتھا محض اس بات پر کہ ایک بچی پر توہین رسالت کا الزام لگا کر اسے واجب القتل قرار دیدیا گیا تھا۔ اس میں نہ انصاف کے تقاضے پورے کئے گئے نہ ہی معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی گئی، کچھ لوگوں کی گواہی پر ایک فرد کو مذہب کے نام پر موت کا مستحق قرار دیدیا گیا۔ کیا کسی نے ان گواہوں کو شریعت کے مطابق صادق اور غیر جانبدار کا درجہ دیا گیا یا محض یہ کچھ لوگوں کے مفادات کے لئے یہ ڈرامہ رچایا گیا۔
ایک اور واقعہ میں ایک غیر ملکی کو جو کہ سرکاری زیاں جانتا تھا نہ اسے علم تھا کہ ہمارا معیار انصاف کیا ہے وہ ہمارے ملک میں ایک مہمان کی حیثیت رکھتا تھا وہ روزی کمانے ہمارے یہاں آیا تھا وہ ہماری مصنوعات کو ساری متعارف کرانے اور ہماری اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کررہا تھا اس نے اپنے تحت کام کرنے والوں کو ان کے فرائض صحیح طریقے سے ادا کرنے کی تلقین کی تھی اور اپنے فرائض کو نیک نیتی سے انجام دیتے ہوئے ایسے اقدامات کئے تھے جو ہماری قومی سست روی، کام چوری اور کام نہ کرنے کی عادت کو سدھارنے کے لئے تھے یہ اس پردیسی کا ”جرم“ تھا جس کی سزا ”مسلمانوں“ نے اس پر توہین رسالت کے معروف ”الزام“ کے تحت اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا یہی نہیں بلکہ جس درندگی کا مظاہرہ کیا گیا وہ انسان تو انسان جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں کرتے، یہی نہیں بلکہ اس بے گناہ کو بچانے والے اپنے ہم مذہب افراد کی درندگی کا نشانہ بنے۔ یہ نام نہاد ”عاشقانِ رسول“ مذہب کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں جن کے مکروہ عمل سے مسلمان ساری دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں، ابھی اس واقعہ کی بازگشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک مجذوب اور ہوش و حواس سے بیگانہ شخص کو ان کے اپنے مذہب سے تعلق رکھتا تھا کو سنگسار کرکے اور اس کی انگلیاں کو کاٹ کر درخت پر لٹکا دیا گیا۔ یہ تو چند واقعات ہیں جو ابھی ذہنوں میں تازہ ہیں اس قسم کے واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں مگر سب سے بھیانک حقیقت یہ ہے کہ ان غیر انسانی اور انسانیت سوز واقعات پر ہماری رائے عامہ گونگی اور بہری بنی ہوئی تھی ایک بھی مذہب کے نام پر لیڈری چمکانے والے اور خود کو پیغمبروں کے وارث کہلانے والے کو توفیق نہیں ہوئی کہ اس سلسلے میں ان معصوم اور لاچار مقتولین کے لئے آواز اٹھاتا یہی نہیں بلکہ پورے ملک میں اقلیتی فرقوں کی بچیوں کو مسلمان کرکے ان سے بالجبر شادیاں ہونے کی خبریں آتی ہیں آج بھی نام نہاد پیر نابالغ لڑکوں کو مسلمان کرکے اپنا زیردست رکھتے ہیں اور ان میں سندھ کے پیروں کا نمبر اول ہے اور کوئی اس پر بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے یہاں غیر مسلموں کے ساتھ غیر انسانی روئیے بڑھتے جارہے ہیں جس کے باعث اب پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں اور ان کی مذہبی آزادیاں صلب کرلی گئی ہیں اب ہم کس منہ سے ہندوستان اور اسرائیل کو برا بھلا کہہ سکتے ہیں۔
ہمارے سیاسی راہنما، مذہبی عالم اور دانشور محض اپنی دوکانداری چمکانے میں مصروف ہیں مگر یہ نہیں دیکھ رہے کہ ہم آہستہ آہستہ ساری دنیا میں اپنی شناخت ایک ایسی قوم کی حیثیت سے بنا رہے ہیں کہ نہ جس کا کوئی کردار ہے اور نہ ایمان، ہم محض مادیت پرست، قلاش اور بدکردار افراد ہیں جس کی قومی اور مذہبی حیثیت نہیں ہے حتیٰ کہ ہمارے ہم مذہب ممالک بھی اب ہم سے زیادہ ہمارے دشمنوں سے زیادہ قریب ہو رہے ہیں، کیا یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ ہم اس ہندوستان کے مقابلے میں عربوں، اور دیگر مسلمان ممالک کے نزدیک محض ”بھک منگے“ اور بدعہد مشہور ہو چکے ہیں آج اگر ہندوستان میں آر ایس ایس نے مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے تو اس پر کوئی مسلم ملک بولنے کو نہ صرف تیار نہیں ہے بلکہ وہ ہندوستان کو اب اپنا ایسا حلیف سمجھتے ہیں جو وہ پاکستان کے مقابلے میں زیادہ باکردار ہے ہم ہر جگہ ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب بھارت سے فوجی ساجھے داری کررہا ہے متحدہ عرب امارات اسی کشمیر میں جسے ہم مقبوضہ کہتے ہیں اربوں روپیہ کی سرمایہ کاری کررہا ہے انڈونیشیا جو اب سب سے بڑا مسلم ملک ہے وہاں بھارت اہم ترین منصوبوں میں سرمایہ کاری کررہا ہے جب کہ ہم اب اتنے گئے گزرے ہو گئے ہیں کہ افغانستان جیسا ملک ہمیں خود سے کمتر سمجھتا ہے اور یہ ساری باتیں محض کسی مخصوص حکمران کے باعث نہیں ہیں بلکہ بحیثیت مجموعی ان لوگوں کی بدولت ہیں جو ایک بدکردار، بد عہد، لالچی اور ایمان فروش مجمع کی وجہ سے ہیں جو نہ کبھی قوم تھی اور نہ ہے بقول مولانا مودودیؒ یہ لوگوں کا مجمع ہے جو ذاتی مفاد کے تحت اکٹھا ہو گیا ہے اس کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ کردار۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں