امریکی جمہوریت: دھرنے کا کلنک 33

تماشا دکھا کر مداری گیا؟

ہم تیسری دنیا کے باشندے تو طرح طرح کے تماشوں اور نوسر بازیوں کے عادی ہیں۔ صدیوں سے نو آبادیاتی طاقتیں اور استعماری قوتیں خود ہمیں مداریوں کی طرح ڈگڈگی بجاکر نچاتی رہی ہیں۔ وہ ہمیں دانہ بھی ڈالتی رہی ہیں اور چھڑیاں بھی استعمال کرتی رہی ہیں۔ ان قوتوں میں گزشتہ صدی میں پہلی جنگ ِ عظیم کے بعد سب سے بڑا سرمایہ دار ملک امریکہ شامل ہو گیا، اور اس نے تقریباً ہر سابقہ مداری سے یا تو ڈگڈگی اور تماشا پوری طرح چھین لیا، یا پہلے کے مداریوں کو اپنی پسند کے بندر دے دیئے۔
لیکن یہ بھی ہوا کہ روس میں سنہ سترہ کے عوامی انقلاب کے بعد روس نے بے پناہ طاقت حاصل کی اور جلد ہی امریکہ کے برابر کی طاقت حاصل کرکے اس کی بندر بانٹ کو نہ صرف روکنا شروع کیا بلکہ اس کے کئی بندر بھی چھین لیئے۔ امریکہ بھی جو ایک مہان نوسر باز اور مداری جادو گر ہے ، یہ کہاں برداشت کرتا۔ اس نے صبر کا کھیل کھیلا اور پھر موقع ملتے ہی روس اور اس کے حواریوں کو ایسے دھوبی پاٹ لگا لگا کر پٹخا کہ، روس اور اس کے حواری مٹی میں لَوٹنے لگے۔
پھر یوں ہوا کہ روس اور چین جن کی طاقت اور عظمت ان کے تقریباً منصفانہ معاشی نظام پر قائم تھی ، خود سرمایہ دار بن گئے۔ ان کی دولت پر ان کے سابق انفرادی حکمراں اور سرکاری افسر قابض ہو کر خوو ارب پتی سرمایہ دار بن بیٹھے۔ یہ والا تمااشا گزشہ صدی کی آخری دو دہایﺅں میں اٹھا اور اب تک جاری ہے۔ اس تماشے میں امریکی مداری صدر ریگن مرکزہ مداری تھی اور ان کی معاون برطانیہ کی مداری وزیرِ اعظم تھیچر تھیں۔ اس کے بعد امریکہ کا ہر صدر چاہے وہ کسی بھی نظریاتی جماعت سے ہو ، اس کھیل کو طول دیتا رہا۔
پھر یہ معجزہ ہو ا کہ صدیوں کی غلامی کے بعد امریکہ میں مداریءاعظم کی ڈگڈگی پہلے سیاہ فام صدر اوبا ما کے ہاتھ آگئی۔ ڈگڈگی تو انہیں ملی لیکن انہیں کھیل کے لیئے ضروری سارے جمورے نہیں ملے۔ وہ چونکہ سرمایہ داروں ہی کے مداری بھی تھے، سو ان کے کھیل سے بھی مداریوں کے دن عید ، اور رات شبِ برات ہی ہوتی رہی۔ وہ کچھ ایسے کام تو کر سکے جن سے کچھ فائدہ عوام کا بھی ہوا۔ لیکن جلد ہی ایک نئی افواہ کچھ جموروں نے یہ بھی پھیلائی کہ اوباما تو پیدائشی امریکی ہیں ہی نہیں ، سو ان کی صدارت ہی غیر قانونی ہے۔ امریکہ کی نسل پرست سیاست میں یہ افواہ یا سازش راسخ ہو گئی۔ پھر اس سازشی کھیل کی ڈوری آئندہ مداری ہونے کے امیدوار صدر ٹرمپ نے سنبھال لی۔ وہ پہلے تو اس سازشی نظریہ کو پھیلاتے رہے اور پھر اپنی جماعت کے سارے امیدواروں کو حیرا ن ک±ن پر شکست دیتے ہوئے امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے۔
صدر منتخب ہوتے ہی انہوں نے نہ صرف صدر اوباما کی پالسیییوں کو لپیٹنا شروع کیا ، بلکہ امریکی سرمایہ داری نظام میں جو انسان دوست سہولتیں تھیں انہیں بھی مسمار کرنا شروع کر دیا۔ امریکی جمہوری نظام جس روایت پر فخر کرتا تھا وہ مذہب اور ریاست کو دور کرنا تھا۔ صدر ٹرمپ نے مداری کا عہدہ سنبھالنے کے لیے امریکہ کے مذہبی قدامت پرستوں کی حمایت حاصل کی تھی۔ انہیں خوش کرنے کے لیئے امریکی قوانین اور آئین میں تبدیلی کی ضرورت تھی۔ یہ تبدیلی وہ مقننہ سے نہیں کر واسکتے تھے، کیونکہ امریکہ کے ایوانِ زیریں میں ان کی مخالف جماعت کی اکثریت تھی۔ اس کا حل انہوں نے عدلیہ میں ایسے قدامت پرست منصفین نافذ کرکے نکالا جو مذہب کے زیرِ اثر بھی تھا۔ ایسا انہوں نے نہ صرف زیریں عدالتوں میں کیا بلکہ امریکہ کی اعلیٰ ترین عدالت کو پوری طرح قدامت پرستوں سے مسلح کر دیا۔
وہ اپنی ذاتی زندگی میں قانون کو توڑ مروڑ کر فائدے حاصل کرتے رہے تھے۔ ان میں کئی اخلاقی کمزوریا ں بھی تھیں۔اس سب کے باوجود وہ صدر کے بے پناہ اختیارات کو استعمال کرکے حکومت اور بین الاقوامی تعلقات کو بدلتے رہے۔ ان کی بعض کاروائیاں آئینی طور پر مجرمانہ سمجھی گیئں۔ اس کے سبب ان پر ایوانِ زیریں میں اختیارات کے غیر قانونی اور ناجائز استعمال کی فردِ جرم عائد کی گئی۔ لیکن امریکہ کے ایوانِ بالا نے انہیں ان کی اپنی جماعت کی اکثریت کی بنیاد پر بری کردیا۔ امریکی تاریخ میں ایسی فردِ جرم صرف دو بار عائد ہو ئی ہے۔
تازہ ترین انتخابات میں انہیں فاش شکست ہوئی ہے لیکن وہ اس کو تسلیم نہیں کر رہے اور مدارری ہونے کی بنیاد پر طرح طرح کے کرتب دکھار ہے ہیں۔ لیکن اکثر جگہ منہ کی کھارہے ہیں۔ عدالتیں اور انتخابی نظام ان کی تاویلوں کو تسلیم نہیں کر رہے۔ لیکن ان مجبوراً انہیں انتقالِ اقتدار کے کچھ قوانین کو ماننا پٹر رہا ہے۔ پھر بھی شکست تسلیم نہیں کر رہے۔ سو مداری ابھی کچھ اور دن یہ کھیلتا رہے گا۔ آگے کیا ہوگا ابھی پوری طرح طے نہیں ہے۔ کیونکہ ڈگڈگی اب بھی ان کے ہاتھ میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں