پاکستان ”ہے“ اور ”تھا“ کے درمیان؟ 44

جاگو پاکستانیوں، ابھی نہیں تو کبھی نہیں؟

پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور اس وقت ملکی عوام ہو یا سیاست دان یا پھر ادارے ہر کسی کو انتہائی احتیاط سے اور پھونک پھوک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ موجودہ صورتحال ملک دشمنوں کو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے بہت ہی کارساز ہے جس کی وجہ سے اب یہ حالات کا تقاضا بن چکا ہے کہ موجودہ نازک ترین وقت کو انا اور طاقت کے نشے میں چور ہو کر گزارنے کی بجائے قانون اور انصاف کے سائے میں رہتے ہوئے گزارنے کے بجائے قانون اور انصاف کے سائے میں رہتے ہوئے گزرا جائے اس طرح کے حکمت عملی کو اپنانے سے ہی نہ صرف یہ وقت آسانی سے گزر جائے گا بلکہ دشمنوں کو بھی کچھ کرنے کا موقع نہیں مل سکے گا اس لئے اس وقت انتہائی صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے، جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے اس مشکل سے ملک اور عوام دونوں بخوبی نکل سکتے ہیں۔ اب سوال یہاں یہ بھی آپ لوگوں کے ذہنوں میں ضرور آرہا ہو گا کہ اس حالت پر ملک کو لانے یا پہنچانے کے ذمہ دار کون ہیں وہ جو ملک پر حکمرانی کرتے ہیں یا پھر خود ملکی عوام جو انہیں انتخابی دنگل کے ذریعے اپنے لئے حکمران منتخب کرتے ہیں یہ ایک لمبی چوڑی بحث ہے جو اس وقت ملک میں چھڑ چکی ہے، کوئی بھی اپنی ذمہ داری اور نالائقی کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔
ہر کوئی خود کو فرشتہ اور درست ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے اور دوسرے کو ملک کی تباہی و بربادی کا ذمہ دار خیال کر رہا ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال میں ہر کسی کی حالت جنونی سی ہو گئی ہے، بالکل اسی کی طرح کی صورت حال بن گئی ہے جو قیام پاکستان کے وقت تھی یعنی ”یا تو نہیں یا میں نہیں“ والی کیفت بن چکی ہے۔ ملکی عوام کی یہ جنونی حالت اور اس طرح کی سوچ کو ملک کے تمام حساس ادارے رپورٹ کر چکے ہیں اور ذمہ داروں کو اس جنونی صورت حال سے آگاہ کر چکے ہیں کہ ایک جوالا مکھی ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے، ملک ایران کے امام خمینی ترک انقلاب مصری انقلاب تحریر اسکوائر یا پھر سری لنکن انقلاب کی جانب تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور اس انسانی سیلاب کو کسی گولہ باری خون خرابے یا پھر ٹینکوں س نہیں روکا جا سکے گا۔ اس کے لئے صرف اور صرف سیاسی ڈائیلاگ کرنا ہو گی اس حکمت عملی کو اپنائے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکے گا۔ سارے حکومتی اقدامات جو روایتی اپنائے گے تو اسے عوامی سیلاب خا و خاشاک کی طرح سے بہا کر لے جائے گا۔ حساس اداروں کی رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ملکی عوام اس وقت بھپری ہوئی ہے کہ ”ابھی نہیں تو کبھی نہیں“ والی پالیسی وہ اپنا چکے ہیں اور وہ صرف اور صرف آگے بڑھنے پر ہی تلے ہوئے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں یہ پہلا موقع ہے کہ ملکی عوام عملی طور پر سیاست میں کود چکے ہیں اور اس وقت وہ اپنا کھویا ہوا حق مانگنے کی بجائے چھپنے پر بضد ہو چکے ہیں۔ جس طرح سے ہاتھی کو جب اپنی طاقت کا علم ہو جاتاہے تو پھر وہ بڑی بڑی عمارتوں کو روندتا چلا جاتا ہے، وہی حالت اس وقت پاکستان کی اندھی لنگڑی گونگی بہری عوام کی ہو چکی ہے۔ انہیں اپنی طاقت کا اندازہ ہو چکا ہے، انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ اس وجہ سے اب وہ اسی نشے اور زوم میں گھروں سے باہر نکل آئے ہیں، جس کی وجہ سے حکمرانوں اور پالیسی میکروں کو موجودہ صورت حال کو کنٹرول کرنے میں غیر معمولی دشواری اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ اپنے ترپ کے سارے پتے استعمال کر چکے ہیں، ہر طرح کا زور و جبر اور بلیک میلنگ کا گرے سے گرا ہوا حربہ تک استعمال کرچکے ہیں جو سب کے سب بے سود نکلے بلکہ اس طرح کے شرمناک حربے استعمال کرنے سے وہ خود بہت ہی بری طرح سے بے نقاب ہوئے، ملکی تاریخ میں پہلی بار نقاب پہن کر وارداتیں کرنے والے بے نقاب ہو گئے ہیں اور پہلی بار پاکستانی دانشوروں نے اپنے مقابلے میں بنگالیوں کے زیادہ باشعور ہونے کا اعتراف کرلیا۔ یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے جس کا سہرا عمران خان کی 22 سالہ سیاسی جدوجہد کے سر جاتا ہے کہ وہ ان 22 برسوں میں پاکستان کے بکھرے ہوئے 24 کروڑ عوام کو ایک قوم بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ جس کی وجہ سے آج کی یہ تحریک روزبروز بڑھتی جارہی ہے اور یہ ضرور اپنا مقصد حاصل کرے گی۔ اس تحریک کی کامیابی میں ہی پاکستان کی سلامتی اور بقاءمضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں