غلامی کی طرف 44

جنت کے ٹھیکیدار

ایک ویڈیو میں جو کہ عالمی انعام یافتہ قرار پائی میں ایک ایسے بچے کو دکھایا گیا ہے جو کہ ٹوٹی ہوئی چپل کو جو ناقابل مرمت ہے، ٹھیک کرنے کی ناکام کوشش کررہا ہے جب کہ اس کی نظر ایک اپنے ہم عمر لڑکے پر پڑتی ہے جو انتہائی اعلیٰ اور نفیس جوتے پہنے اور انہیں بار بار صاف کررہا ہے جب کہ مفلوک الحال بچہ اسے بڑی حیرت سے دیکھ رہا ہے کہ جوتے والا بچہ ریل میں سوار ہونے کے دوڑتا ہے تو اس کا ایک جوتا پلیٹ فارم پر گر جاتا ہے اور وہ ایک جوتے کے ساتھ ٹرین میں بیٹھ جاتا ہے، ادھر غریب بچہ یہ دیکھ کر گرے ہوئے جوتے کو اٹھا کر ٹرین کے ساتھ بھاگتا ہے کہ جوتا واپس اس بچے کو دے دیتا جب کہ ٹرین کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اور وہ ناکام ہو جاتا ہے، ادھر دوسرا بچہ یہ دیکھ کر اپنا دوسرا جوتا بھی اتار کر پلیٹ فارم پر پھینک دیتا ہے تاکہ غریب بچے کو دونوں مل جائیں۔
اس ویڈیو کا کسی نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے“ جس پر ایک صاحب نے جواباً لکھا کہ ”تصویر اچھی ہے مگر سب سے اچھا مذہب اسلام ہے“۔ ذرا غور فرمائیں کہ اس ساری کہانی میں کسی مذہب کو نشانہ بنانا شامل نہیں تھا مگر وہ جو کہتے ہیں چور کی داڑھی میں تنکا (بلکہ اب تو پوری تنکوں والی جھاڑو ہوتی ہے) اس انسان دوست ویڈیو کو بھی اپنے تنگ نظر الفاظ سے نشانہ بنا دیا۔ آج جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اور جو ہمارے اعمال اور کردار ہیں اس کی بناءپر اب ہم ایک نشان عبرت بن کر رہ گئے ہیں، دوسروں سے اعلیٰ ثابت کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں، ایک تو ہمیں یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ سارے بدترین افعال و کردار کے بعد بھی جنت میں بس ہم ہی جائیں گے اور دوسرے سارے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے، پہلے خوش فہمی بطور مسلمان ہمارے دلوں میں جاں گزیں ہو گئی تھی، پھر آہستہ آہستہ ہماری تنگ دلی اور تنگ نظری نے اسے ”سکیڑ“ کر محض اپنے ذاتی عقیدے، فرقے اور گروہ تک محدود کردیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ مساجد جس کو خدا کا گھر کہا جاتا ہے اس میں داخلے کے لئے بھی پگڑیوں کے رنگ، شلوار کے پائنچوں اور داڑھی کی لمبائی سے مشروط کردیا گیا ہے۔ مساجد کے باہر فرقوں کے نام لکھ دیئے گئے اور اگر کوئی دوسرے فرقے والا نماز پڑھتے ہوئے ”پکڑا“ جائے تو بعد میں اس سے کہیں کہ وہ اپنی مسجد میں نماز کیوں نہیں پڑھتا۔ (یہ واقعہ سنا سنایا نہیں ہے بلکہ راقم الحروف کے ساتھ پیش آیا ہے اور کہیں اور نہیں اسی ملک میں جو رواداری میں دنیا کے اولین ملک میں شامل ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر تفریق جرم ہے) تو ان اسلام کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے خدا کو بھی نعوذباللہ اپنی طرح سمجھ لیا ہے اور اس کے پسندیدہ مذہب کو اپنی اپنی کوتاہ نظری، کم نگاہی اور کم ظرفی سے مذاق بنا لیا ہے، وہ مذہب کو خلق عظیم، رحمت کا سرچشمہ اور مخلوق میں اعلیٰ ترین صفات کے حامل حضرت محمد نے اپنے اخلاق، دیانت، صداقت اور سب سے بڑھ کر اپنے عمل سے دشمنوں کو بھی دوست بنانے کا عظیم کارنامہ انجام دیا اور اسلام کو سارے مذاہب سے افضل اور اعلیٰ بنا دیا۔ آج اس کے نام لیوا جس بدعملی، بے اعتمادی، تعصب، نفرت اور گھٹیا ذہنیت کا مظاہرہ کررہے ہیں اس سے کہیں بھی معلوم نہیں ہوتا ہے کہ اس اسلام کے پیرو ہیں جس نے سارے عالم کو اپنے اوصاف سے متاثر کرکے حلقہ بگوش اسلام کردیا تھا۔ ہم نے اپنے گھٹیا اعمال سے نہ صرف خود کو بدنام کیا بلکہ ہم نے امن و آشتی کے پیغام کو منفی انداز میں پیش کرکے ساری دنیا میں کم ترین درجے پر فائز کرلیا ہے۔ جہاں لاکھوں افراد حج کررہے ہیں، لاکھوں افراد تبلیغی جماعتوں میں جوش در جوش مارے مارے پھر رہے ہیں جہاں مساجد میں تل رکھنے کی جگہ نہیں ہے وہاں یہ اعمال، کردار، دیانت، امانت اور صداقت میں 160 نمبر پر براجمان ہیں اور اگر یہی حالت رہی تو مزید تبدیلی کے بعد یہ دنیا کی گھٹیا ترین قوم کا درجہ حاصل کرے گی۔ آج ملک میں کلمہ، مذہبی، بسم اللہ، مکی، مدنی ناموں کے کاروبار ہو رہے ہیں جہاں ملاوٹ، چور بازاری، ناپ و تول میں فراڈ عام ہے۔ آج حلال کے نام پر حرام کھلایا جاتا ہے، نقلی اشیاءفروخت کی جارہی ہیں اور ان کے کرنے والے حج اور عمرے سے اپنے کرتوتوں پر پردے ڈالنے کی سعی کررہے ہیں اور یک چشم کشا قصہ بھی اس جنت کے ٹھیکیداروں کو اور سن لیجئے میرے ایک جاننے والے نے مجھے یہ قصہ سنایا کہ کراچی کے ایک علاقہ میں ایک بہت بڑے گودام میں ایک ایسا انسانیت سوز کام ہو رہا ہے جسے سن کر میں کانپ گیا انہوں نے کہا کہ وہاں “EXPIRE” ادویات کو نئے ڈبوں میں پیک کیا جاتا ہے جن ادویات کو اسپتالوں میں سپلائی کی جاتی ہیں۔ آپ ذرا تصور کریں کہ کیا لوگوں کا قتل عام نہیں ہے اور یہ کام کرنے والے کسی اور مذہب سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ یہ اسی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں جو کہتے ہیں انسانیت و لسانیت کیا ہوتی ہے ہمارا مذہب سب سے اچھا ہے اور ہم اور صرف ہم ہی جنت میں جائیں گے اور باقی سب کندہ جہنم ہونے گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں