Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 41

جنون

بے نام سی سوچوں میں گم میں کہیں چلا جارہا تھا۔ ذہن پر ایک بوجھ تھا، ایک بار تھا، کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا، ذہن پر کچھ دکھ ار مسائل غالب آچکے تھے۔ پریشانیوں کے بارے میں سوچ سوچ کر مزید پریشانیوں میں اضافہ کررہا تھا حالانکہ میں جانتا تھا کہ میں پریشانیوں کا جتنا زیادہ بوجھ ذہن پر ڈالو گا، مسئلہ بڑا ہوتا جائے گا اور حل معدوم ہو جائے گا۔ اس کے باوجود دل و دماغ پر قابو نہیں تھا جتنا زیادہ میں سوچتا گیا میرے ذہن پر اداسی اور مایوسی چھاتی رہی، میں سوچتا گیا میری زندگی میں دکھوں اور پریشانیوں نے ڈیرہ کیوں ڈالا ہوا ہے۔ سکون کی کوئی راہ کیوں نہیں سجھائی دیتی، میں لوگوں کو ہنستے بولتے دیکھتا ہوں، اطمینان، خوشی اور سکون سے بھرپور چہرے مسکراتے قہقہے لگاتے یہ سب دیکھ کر اپنے آپ پر بے انتہا غصہ آتا ہے، میری خوشیوں کو کس کی نظر لگ گئی، یہ سارے دکھ صرف میری قسمت میں کیوں ہیں، آخر کب مجھے میرے تمام مسائل تمام فکروں پریشانیوں سے چھٹکارہ ملے گا اور میں بھی اور لوگوں کی طرح دوسروں کی طرح خوش و خرم زندگی گزار سکوں گا۔
ان ہی خیالوں میں گم چلا جارہا تھا کہ اچانک قہقہوں کی آواز سے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ لوگوں کے زور زور سے ہنسنے اور باتیں کرنے کی آواز آرہی تھی، میں چونک اٹھا اور پھر آواز کی سمت رخ کیا۔ ذرا سا آگے بڑھا تو دیکھا کچھ لوگ ایک دیوار کے سائے میں کھڑے باتیں کررہے ہیں، ایک منڈیر پر بیٹھا شخص شاید لطیفے سنا رہا تھا اور لوگ اس کی باتوں پر قہقہے لگا رہے تھے، ان لوگوں میں مجھے کچھ شناسا چہرے بھی نظر آرہے تھے، انہوں نے جب مجھے دیکھا تو بلانے لگے اور میں اپنے ذہن سے تمام خیالات جھٹک کر ان کی طرف پہنچ گیا، لطیفے سنانے والا خود بھی قہقہے لگا رہا تھا اور اس کے لطیفوں پر تمام لوگ ہنس رہے تھے۔ میں اپنے تمام دکھ اور غم سمیٹ کر ان کے ساتھ شامل ہو گیا اور لطیفے سن سن کر خود بھی قہقہے لگا رہا تھا۔ میرے ذہن پر چھائی تمام دھند چھٹ چکی تھی اور تھوڑی سی دیر میں مجھ میں کتنی بڑی تبدیلی آچکی تھی، پہلے میں زندگی سے بیزار اور مایوسی نظر آرہا تھا اور اب زندگی سے بھرپور قہقہے لگا رہا تھا، تمام اداسیاں دم توڑ چکی تھیں، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ مجھ سے خوش اس دنیں میں اور کوئی نہیں ہے۔ اچانک لطیفے سنانے والا شخص میری طرف جھکا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا آپ جب یہاں آرہے تھے تو کچھ پریشان نظر آرہے تھے، میں گڑبڑا گیا لیکن جلد ہی اپنے آپ کو سنبھال کر میں نے جواب دیا ہاں! وہ کچھ ذاتی مسائل کی بناءپر ذہن پر کچھ بوجھ تھا اس وجہ سے پریشان تھا۔ تو ان مسائل کا کوئی حل نکالا اس نے فوراً ہی دوسرا سوال داغ دیا چونکہ میں اس موضوع پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہ رہا تھا، اس لئے خاموشی ہی بہتر سمجھی۔ مجھے خاموش دیکھ کر وہ زور سے ہنسا، اچھا تو آپ اپنی ان پریشانیوں کو گلے سے لگائے رکھنا چاہتے ہیں، اس کے لہجے میں تمسغر تھا، مجھے اس کی اس حرکت پر بے انتہا غصہ آیا اور میں اپنے آپ پر قابو نا رکھ سکا، میں نے غصے سے جھک کر کہا شاید تمہاری زندگی میں کبھی کوئی دکھ غم نہیں آیا ہے، اسی لئے تمہیں اس کا احساس بھی نہیں ہے، میرے ان الفاظ کو سن کر وہ دوبارہ ہنسا اور اس مرتبہ میں اپنے اوپر قابو نا رکھ سکا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک جھٹکا دیا اور چلا کر کہا زندگی صرف ہنستے رہنے کا نام نہیں ہے برادر۔۔۔! ہاتھ کو جھٹکا دینے سے وہ سنبھل نا پایا اور اس سے پہلے کہ وہ منڈیر سے نیچے گرتا دو آدمیوں نے آگے بڑھ کر اسے سنبھال لیا اور تب۔۔۔ تب مجھ پر یہ خوفناک حقیقت آشکار ہوئی، جس نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیئے، وہ شخص وہ لطیفے سنانے والا وہ زور زور سے قہقہے لگانے والا شخص اپنی بائیں ٹانگ سے محروم تھا۔ میں نے معذرت کرنے کے لئے جیسے ہی منہ کھولا اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روک دیا، ارے ارے کوئی بات نہیں، یہ لڑکھڑانا تو روز کا معمول ہے، اس کے چہرے پر مسکراہٹ اسی طرح قائم تھی، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، میرا دماغ چکی کی طرح گھوم رہا تھا، ندامت سے بدن پسینے میں بھیگ چکا تھا، میرے کان سائیں سائیں کررہے تھے، کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ لوگ کیا باتیں کررہے ہیں یا خدا! اس شخص کی محرومیت کے سامنے تو میرے دکھوں اور مسائل کی کوئی حقیقت نہیں، میں جتنا سوچتا جارہا تھا تو میرے اوپر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے، یہ شخص اس عالم میں بھی ہنس رہا تھا، قہقہے لگا رہا تھا، زندگی سے بھرپور لطف اٹھا رہا تھا اور میں اپنے تھوڑے سے دکھوں پر رو رہا ہوں۔
یہ تو جوانی میں ہی اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہے اور اسے اس المیے کا زرہ بھر بھی احساس نہیں ہے، میرے دل میں اس شخص کے لئے بی پناہ عقیدت امنڈ آئی، اس لئے کہ یہ شخص نا صرف اپنے غم کو بھلائے رکھتا ہے بلکہ دوسروں کے دکھ بھی سمیٹ لیتا ہے اور ان کے دکھ اپنے لطیفوں سے بھلانے کی کوشش کرتا ہے، یہ شخص پوری طرح زندگی کا لطف نہیں اٹھا سکتا، یہ ایک حقیقت ہے، نا یہ تبز چل سکتا ہے، نا ہی بھاگ سکتا ہے، یہ دوسرے لوگوں کو کرکٹ، ہاکی کھیلتے دیکھ سکتا ہے، خود نہیں کھیل سکتا، یہ پیراکی نہیں کر سکتا، اس کو لمبے سفر پر جانے کے لئے بے شمار تکالیف کا سامنا ہے، یہ ہر لمحے لوگوں کی آنکھوں میں اپنے لئے ہمدردی اور ترس کے جذبات دیکھتا ہے۔ معلوم نہیں کوئی لڑکی اس سے شادی کرنے پر راضی بھی ہو یا نہیں، ان تمام دکھوں کے باوجود اس نے اپنی محرومیوں کو قہقہوں میں سمو دیا ہے، اس شخص نے مجھ میں ایک نیا حوصلہ پیدا کیا وہ ہر حال میں اپنے رب کا مشکور ہے، انسان اگر اپنی ذات کے خول سے باہر نکلے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ لاکھوں مجبور اور لاچار لوگوں سے بہتر ہے اور تب اسے اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ میں جوں جوں سوچتا جا رہا تھا، شرمندگی کا احساس بڑھتا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام نعمتوں سے نوازا ہے اور میں پھر بھی دل گرفتہ ہوں، ہر انسان کی زندگی میں کچھ ایسے دکھ اور مسائل ہیں جن کا کوئی حل نہیں، ان کے بارے میں سوچتے رہنا اور پریشان رہنا اپنے آپ کو بیمار کرنا اور مسائل میں مزید اضافہ کرنا ہے، اگر تمام مسائل کو ایک طرف رکھ کر دوسری ذمہ داریوں اور دلچسپیوں پر توجہ دی جائے تو اپنے منتشر خیالات کو ایک نکتے پر مرکوز کیا جا سکتا ہے اور کئی پریشانیوں کے حل خودبخود ذہن میں آئیں گے۔ بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کو ہم خود اپنے گلے لگائے رکھتے ہیں بلکہ اس میں اضافہ کئے جاتے ہیں۔ ملکی سطح پر دیکھ لیں، ملازمت، پانی، بجلی، گیس تمام اپنے بڑے بڑے مسائل سے نبٹنے کی بجائے بین الاقوامی مسائل پر پریشان ہیں۔ فلسطین، افغانستان، عراق، شام، لبنان، یمن، انڈیا، امریکہ، چین دنیا جہاں کے غموں پریشانیوں اور خوش حالی سے پریشان ہیں جب کہ ان تمام ملکوں کے رہنے والوں کو ہماری کوئی پرواہ نہیں ہے۔
بیرون ملک رہنے والے ہم وطن یہ پریشان ہیں کہ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں میں کس طرح جگہ بنائی جائے، اس کے لئے آپس میں رسہ کشی جاری رہتی ہے، تحریک انصاف پاکستان کی حد تک تو ایک مضبوط پارٹی بن چکی ہے لیکن بیرون ملک ابھی تک منظم نہیں ہو سکی اور وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی بیرون ملک کیا اہمیت ہے کیوں لوگ آفس کھول کر بیٹھ جاتے ہیں، مقصد کیا ہے، کچھ نہیں معلوم ہوتا سوائے اس کے کہ چندہ جمع کریں اور اپنی محبوب پارٹی کے حوالے کردیں۔
بہرحال اس معذور شخص کو اتنا خوش اور مطمئن دیکھنے کے بعد مجھے اپنی آنکھیں کھولنے کا موقع ملا، میں نے اپنے آس پاس نظر دوڑائی تو مجھے بے شمار ایسے لوگ نظر آئے جو اگر اپنے دکھ سے سمجھوتہ نہ کرتے تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ میرے تمام دکھ تمام مسائل ان کے حالات کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے، پھر ایسے لوگ بھی نظر آئے جن کے دکھ اور مسائل کچھ بھی نہیں تھے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو ایسا بنایا ہوا تھا کہ جیسے دنیا کے تمام غم تمام مصیبتیں صرف وہی جھیل رہے ہیں، میں بہت خوش ہوں، بہن مطمئن ہوں، میں اپنی چادر دیکھتا ہوں اور اپنے پاﺅں اور میں خوش ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں