اب کی باری میاں صاحب کی باری 161

جواب جاہلاں باشد خموشی

یونان کے مشہور عالم حکیم جالینوس نے دیکھا ایک دانشور ایک جاہل کے ساتھ لڑ رہا ہے اور اسے خاموش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ یہ حالت دیکھ کر جالینوس نے کہا کہ یہ دانشور اگر برداشت کرتا تو اس جاہل کے منہ ہر گز نہیں لگتا کیونکہ
دو عقل مندوں میں ہو سکتا نہیں جنگ و جدال
سامنے جو جہل تو برداشت ہے عاقل کی ڈھال
کوئی جاہل بد زبانی پر اتر آئے اگر
کریں اہل دانش اس حماقت پر درگزر
جاہلوں نے گالیاں دیں ایک خوش اطوار کو
ختم کر دیا یہ کہہ کر اس تکرار کو
نا سمجھ تم نے مرے بارے میں جو کچھ کہا
منکشف ہے مجھ پر یہ میں تو ہں اس سے بھی برا
اس حکایت میں علم و عقل کی فضیلت کو ظاہر کرنے اور رفع شر کے لئے نہایت موثر اور آزمودہ اصول بیان کیا گیا ہے۔
جواب جاہلاں باشد خموشی
یہ ہی عالموں کا ہمیشہ سے دستور رہا ہے، سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ ”کتا انسانوں کو کاٹتا ہے، انسان کتوں کو نہیں کاٹتا“۔ لیکن یہاں ایک کینیڈین کو ایک ایسے دانشور پر بھونکتے ہوئے دکھایا گیا جس کا تعلق جان نثار اختر کے نسب سے تھا جاں نثار اختر نے اردو ادب اور شاعری کی خدمات بے پناہ انجام دیں ان کا نام علم ادب اور شاعری میں بڑے احترام سے لیا جاتا ہے انہوں نے ہندوستان بھر کے اردو دانوں میں بہت اعلیٰ مقام اپنی علمیت اور قابلیت کے ذریعے حاصل کیا اس کے ساتھ ساتھ اردو فلموں میں ان کے لکھے ہوئے گیت اپنی شاعری اور تخیل کے اعتبار سے بے پناہ مقبولیت حاصل کر چکے ان کے کئی مجموعہ کلام اردو ادب کا خزانہ ہیں ان کے فرزند دانشور نے برصغیر کے نامور شاعر اسرار الحق مجاز لکھنوی کے ساتھ اپنا بچپن اور زندگی کا بڑا عرصہ گزار کر ادبی ماحول سے بہت کچھ علم حاصل کیا۔ مجاز ان کے ماموں تھے۔ ان کے دادا کا نام بھی اردو شاعری میں بہت معتبر ہے۔ نئی نسل ان کے بارے میں صرف جانتی ہے کہ وہ جانثار اختر کے والد تھے۔ حالانکہ ان کے بھی شاعری کے بہت سے مجموعہ بہت پذیرائی حاصل کر چکے۔ جانثار اختر کے فرزند اور مجاز کے بھانجے اردو ادب کی بہت سی اصناف میں اپنی ذاتی گراں قدر خدمات سے دنیا بھر کے اردو داں لوگوں میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی جو ہیں جاوید اختر نے اپنی علمیت اور مقبولیت کو اس وقت داﺅ پر لگا دیا جب انہوں نے ہندوستان کے میڈیا کی سازش کا شکار ہو کر ایک ایسے شخص کو اپنے منہ لگا لیا جس کو اس کے اپنے لوگ بھی اپنانے کے قابل نہیں سمجھتے۔ جاوید اختر کا مرتبہ اردو ادب میں اتنا بلند ہے کہ انہیں خود تو اسس سگ زمانہ کے منہ لگنے کے بجائے مباحثہ سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ کیونکہ اس بد ذات کی اس کے آبائی گھر پاکستان میں بھی کوئی عزت و توقیر نہیں ہے۔
یہ پاکستان سے بے عزت ہو کر نکلنے سے پہلے اور توجہ حاصل کرنے کے لئے مختلف نظریات کی تنظیموں سے وابسطہ کرنے کی کوششیں کی وہ کبھی مذہبی تنظیموں میں شمولیت اختیار کرکے ان میں اپنی اہمیت بڑھانے کی جدوجہد کرتا، کبھی لادین بننے کے لئے غیر مذہبی تنظیموں میں جا گھستا ہے وہاں سے بھی نکالے جانے کے بعد وہ ابلاغ میں اپنے آپ کو شامل کرنے کے لئے زور لگانے میں مصروف ہو جاتا ہے جب وہاں بھی اس کی دال نہیں گلی تو اس نے پاکستان کو گالیاں دینا شروع کر دیں اور کینیڈا میں سکونت اختیار کر لی اور یہاں بھی توجہ حاصل کرنے کے ہر حربے استعمال کرنا شروع کر دیئے۔ کینیڈا کی مختلف پارٹیوں میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگا رہا۔ جب وہاں سے بھی دھتکارا گیا اور اس کی دال نہ گلی تو پھر اس نے کینیڈا میں اظہار رائے کی آزادی کا سہارا لے کر پہلے تو پاکستان کے بارے میں اپنے عزائم کا بڑے نفرت انگیز انداز میں اظہار کرنا شروع کردیا جب کینیڈا کے لوگوں نے اس سگ زمانہ پر توجہ نہ دی تو اس نے سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی روش اختیار کرکے مذہبی لوگوں کو اشتعال دلانا شروع کردیا تاکہ وہاں کے لوگ اس کو توجہ دینے کے لائق سمجھنے لگیں۔ شروع میں اس نے پاکستان کے حکمرانوں کو برا بھلا کہہ کر لوگوں میں اپنے آپ کو جمہوریت پسند ثابت کرنے کی کوشش کی اس میں بھی یہ ناکام رہا کیونکہ لوگ اس کے اصلی مقاصد جان چکے تھے کہ اس کو پاکستان کے نظام حکومت سے زیادہ اپنی ذات کی نمائش کرکے توجہ حاصل کرنا مقصود تھا۔
شروع میں تو عام لوگ یہی سمجھتے رہے کہ ہر پاکستانی آمریت اور فوجی حکمرانوں کے خلاف ہے جب اس کے اصلی مقاصد ظاہر ہونا شروع ہوئے تو لوگ اس سے بدظن ہوتے چلے گئے۔ جب اس معاملے میں بھی اس کو خاص توجہ حاصل نہ ہو سکی تو اس نے بھارت کا رخ اختیار کیا وہاں بھی اس کو کوئی توجہ حاصل نہ ہو سکی تو اس نے بھارتی میڈیا کے ذریعہ پاکستان کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بھارت کے مسلمانوں کے لئے نفرت انگیز بیانات دینے شروع کر دیئے۔ اس موقع پر تو اس کو وہاں بھی کوئی پذیرائی حاصل نہ ہو سکی جب آر ایس ایس کی حکومت بھارت میں برسر اقتدار آئی تو اس نے ان کے نظریہ پر کابند ہو کر مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنانا شروع کر دیا جب اس کے خلاف پاکستان کے مسلمانوں کی طرف سے کوئی کھڑا نہ ہوا تو ہندوستان کے مسلمانوں نے اس کے جوابات دینے شروع کر دیئے، شروع میں تو وہاں کے مذہبی رہنماﺅں نے اس کا جواب دینا شروع کیا لیکن نہ جانے کیونکر کیفی اعظمی کے داماد جاں نثار اختر کے فرنزد مجاز لکھنوی کے بھانچے جاوید اختر نے اس جاہل کے منہ لگنے کا فیصلہ کیا اور حکیم جالینوس کی ہدایت پر عمل کرنے کے بجائے بھارتی میڈیا پر آکر اس بدزبان کو اپنے منہ لگانا پسند کیا۔
واضح رہے کہ جاوید اختر کے خاندان کا اردو زبان کی خدمات کے حوالے سے ادب میں بہت اعلیٰ مقام ہے اور موجودہ زمانے میں خود جاوید اختر نے اردو خزانے میں اپنے علم و ہنر کے بہت سے قیمتی موتی جڑے ہوئے ہیں۔ ان کا خود نام نامی ہندوستان کے ان اردو اسکالرز میں ہوتا ہے جن کو اردو ادب کی خدمت کے حوالے سے نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ جاوید اختر کو ان کے آزادانہ نظریات کی وجہ سے مذہبی حلقوں میں کچھ حد تک پسند نہیں کیا جاتا ہے لیکن عام مسلمانوں میں اور بھارتی عوام کی اکثریت کے علاوہ اردوب ادب کے چاہنے والے دنیا بھر میں بہت عزت اور اعلیٰ مقام کا حامل سمجھتے ہیں۔ انہوں نے جس طرح اس بدزبان شخص کے ہر طرح مخالفانہ بیان کو اپنے علم و ادب سے مسترد کرکے ثابت کیا وہ ہر لحاظ سے اس کے تمام نفرت انگیز سوالات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ کوئی صاحب علم و فن ہی دے سکتا ہے۔ انہوں نے جس طرح علم و ادب سے اپنی وابستگی کے باوجود اس کے مختلف سوالات کا تاریخ کے حوالوں سے جواب دیئے یا تہذیب و تمدن کی مکمل آگاہی کے ساتھ اس کے مقابلے میں اپنے آ ہر طور پر برتر ثابت کیا۔ منفی رجحانات کے حامل اس انسان کو کس طرح اپنے علمی مرتبہ کے سامنے بے بس کر دیا یہ جاوید اختر کا ہی خاصہ ہے۔ اس شخص کا موازنے کے لئے ان کے اپنے صاحبزادے فرحان اختر اور صاحبزادی ظویا اختر سے بھی کیا جاتا تو وہ اس منفی شخص سے کہیں بہتر ثابت ہوتے۔ جاوید اختر کے کریڈٹ میں جس طرح علمی و ادبی خزانے کی خدمات ہیں وہ ان کو اس شخص سے ہر لحاظ سے برتر ثابت کرتا ہے جس کے ذمہ سوائے منفی رجحانات، خیالات و نظریات کے کچھ نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ بدزبانی میں یہ شخص اپنا ہی جواب ہے اس لئے جاوید اختر کو اس کے سامنے آنا ہی نہیں چاہئے تھا۔
جواب جاہلاں باشد خموشی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں