86

جواب درست ہے! طارق عزیز صاحب کا آخری سلام – تحریر: سہیل رعنا، کینیڈا

یہ 1981ءکی بات ہے۔۔۔
”HELLO! میں بول رہا ہوں طارق عزیز کراچی ٹیلی ویژن سے۔“
”یہ اکیلے اکیلے ہی آپ ایوارڈز حاصل کر لیتے ہیں، ہمیں اس کی خبر بھی نہیں دیتے“
میں نے کچھ جواب نہیں دیا۔ خاموش رہا۔
”میں اگلے ہفتے آپ پر پورا پروگرام کررہا ہوں۔ آپ اور آپ کی پوری ٹیم کے ساتھ سارا پروگرام شایان شان ہو گا۔ O.K. ؟“
”O.K.، میں نے جواب دیا!!“
اگلے ہفتے میں اپنی زوجہ اور اپنی ٹیم کے ساتھ وقت پر کراچی ٹی وی اسٹیشن پہنچ گیا۔
پروگرام جیسا انہوں نے کہا تھا، اہتمام اور اعزازات کے ساتھ کیا گیا تھا۔ زیادہ تر طارق عزیز صاحب بول رہے تھے، میں دو دو تین تین لفظوں میں جواب دے رہا تھا غرض یہ کہ جو انہوں نے ہمیں عزت دی، بیان نہیں کر سکتا۔ واپسی پر مجھ کو اور میری ٹیم کو تحفوں سے لاد دیا۔
اگلے ہفتہ میں نے طارق عزیز صاحب کو اپنے بچوں کے پروگرام ”سنگ سنگ چلیں“ میں مدعو کیا۔ وہ آگئے اور میں نے ان سے اپنا ایک گیت ”اپنی زبان اردو۔ پیاری زبان اردو“، طارق صاحب کو یاد کروایا جو انہوں نے سُر میں، تال میں، پکا گا دیا۔
یہ تھی طارق عزیز صاحب کی میری ملاقات، میرے پاس اس کی ویڈیو بھی اور آڈیو بھی موجود ہے۔ طارق عزیز صاحب ایک مکمل فنکار، ادیب، شاعر، اینکر، خوش اخلاق، پر خلوص پاکستانی تھے۔ وہ ہمارا پرائید تھے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کینیڈا آ کر، اس فضا میں، مجھے یہ مضمون لکھنا پڑے گا۔ زندگی میں عجب عجب موڑ آتے ہیں۔
دیکھتے ہی دیکھتے طارق صاحب اپنا آخری سلام دے کر چلدیئے۔ ایک ایک کرکے، ایک کاررواں کی شکل میں، ہمارے نایاب ہیرے اور موتی چلتے جارہے ہیں۔ ہمارا یہ ہیرا جس کا نام طارق عزیز صاحب تھا آج رخصت ہو گئے۔
پروردگار انہیں بہتر سے بہتر درجات عطا فرمائے۔ ان کے سارے لواحقین کو، سارے پاکستان کو سب کو صبر جمیل دے۔ آمین (انا للہ و انا الیہ راجعون)
یہ طارق عزیز کا اعزاز ہے کہ ہماری پارلیمنٹ، سینیٹ، آرمی چیف، مختلف اداروں اور مقتدر شخصیات نے ان کو خراج تحسین پیش کیا۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے رہیں، گئے دنوں کو اور عزیز ہستیوں کو یاد کرتے رہیں تو ہر دور میں، ہر قوم میں، ہر خطے میں، ہر تہذیب میں، ہر شعبے میں ایسے ایسے نامور، نایاب موتیوں کا پتہ چلے گا، کسی نے دنیا کو روشنی دی، کسی نے کاغذ ایجاد کیا، کسی نے ویڈیو، کسی نے ٹی وی، کسی نے ٹیلی فون، کسی نے ریل گاڑی، کسی نے موٹر کار، کسی نے ہوائی جہاز، کسی نے دوائیں اور بہت سے موجدوں نے ایک سے ایک بڑھ کے علوم اور ایجادات کیں، وہ سب کون تھے؟ کب آئے اور اپنا اپنا فرض ادا کرکے چلدیئے؟
کہاں گئے یہ ہیرے؟ کوئی پانی کی لہروں میں، کوئی آگ کے شعلوں میں، کوئی طوفانوں کی نذر تو کوئی زلزلوں، کوئی زمین میں۔۔۔ کوئی تاج محل بنا کے چلا گیا۔ کسی نے اہرام مصر، کسی نے چائنا کی دیوار (دیوار چین) Madame Curie ، حافظ شیراز، علامہ اقبال، مہدی حسن اور طارق عزیز آئے اور اب چلدیئے۔ ہم سب پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنے حافظوں میں ان سب کو یاد رکھیں اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرتے رہیں تاکہ وہ زندہ جاوید رہیں۔
کل ہی کی بات ہے۔ پہلے سنتوش کمار، پھر سید کمال احمد، پھر اچانک ایک دن وحید مراد، پھر محمد علی صاحب، پھر میڈم نور جہاں، پھر مہدی حسن، پھر ہمارے استاد نصرت فتح علی خاں، پھر غلام فرید صابری، پھر طفیل نیازی، پھر تو لائن لگ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے۔ اقبال بانو،شہناز بیگم، استاد امانت علی خان، استاد سلامت علی خان، استاد بندو خان، استاد رئیس خان، زیڈ اے بخاری، پطرس بخاری، فیض احمد فیض، ریشماں، مہناز، مالا، نسیم بیگم، احمد رشدی، مجیب عالم، نثار بزمی صاحب، خورشید انور صاحب، روبن گھوش، نازیہ حسن، رشید عطرے صاحب، پروین شاکر، مسرور انور، فیاض ہاشمی، احمد فراز، حمایت علی شاعر، جمیل الدین عالی، صبا اکبر آبادی، شان الحق حقی صاحب، معین اختر اور صبیحہ خانم،رعنا اکبر آبادی اور اب سنتے کانوں اور دیکھتی آنکھوں کو طارق عزیز صاحب بھی اپنا آخری سلام پیش کرکے کارواں کے ساتھ شامل ہو گئے۔


ہم کہیں بھی ہوں، ہم اپنے نایاب ہیروں کو بھول نہیں سکتے۔ انہیں خراج تحسین پیش کرتے رہیں گے۔ ان کی آوازیں، ان کی تصویریں ان کی تحریریں، ان کا کلام، ان کی غزلیں، ان کے گیت ہمیں یاد دلاتے رہیں گے، کبھی آواز ”جواب درست ہے“ کبھی مجھ سے پہلی سی محبت، کبھی رنجش ہی سہی، اے راہ حق کے شہیدو، من کنتم مولا، ہائے ربا، میری ہم جھولیاں، کو بہ کو، انشا جی اٹھو، تاجدار حرم، آفریں آفریں، اکیلے نہ جانا، مجھے تم نظر سے، سوہنی دھرتی، یہ سب اور ہزاروں گیت اور غزلیں ان مندرجہ بالا عظیم ہستیوں کی یاد دلاتے رہیں گے۔ میں جتنا لکھوں، کہانیں ختم نہیں ہوں گی۔ فلم کی طرح سب کے چہرے اور نام آتے رہیں گے۔
میں خراج تحسین کے ذریعے، ان مندرجہ بالا ہستیو کو اور طارق عزیز صاحب اور اباﺅ اجداد کے لئے دعاگو ہوں اور ان کی مغفرت کے لئے، آپ بھی، ہم سب ان کے لئے دعا کرتے رہیں گے۔ خدا ان سب کو بہتر سے بہتر درجات عطا کرتا رہے۔ (آمین)
دعا گو، سہیل رعنا
سہیل رعنا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں