ٹک ٹاک آخر ہے کیا؟ tik tok 192

جہیز لینے والے بے ضمیر مرد

پاکستان جس کا وجود اسلامی ریاست کی بنیاد پر قائم ہوا۔پر آج تک اسلامی تعلمیات کے درست درس کی پیروی سے خالی نظر آتا ہے۔۔جس کی اہم وجہ انڈین سے ہجرت کی ہوئی بے بنیاد فضول رسم و رواج ہیں۔۔ جو اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہیں۔۔ ویسے تو پاکستان بہت سے بنیادی مسائل سے دو چار ہے پر اب پاکستان میں بھی ازواجی زندگی سے وابستہ مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔۔ پہلے کے دور کے نسبت پاکستان میں ازواجی زندگی میں ہونے والے مسائل کی شرح بہت کم تھی۔۔ پر اب اس بڑھتی ہوئی شرح کی اہم مسائل میں سے ایک وجہ جہیز بھی ہے۔۔۔ جس کے سبب شادی جیسے خوبصورت رشتے کو دن با دن لالچ کی نظر سے دیکھ جارہا ہے۔۔ یہ بھی اہم وجہ ہے بڑھتی ہوئی طلاق کی۔۔ اور شادی کے بعد لڑکیوں پر تشدد کی۔۔۔ عورتوں پر تشدد پر بننے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال دوہزار لڑکیوں کو جہیز کم دینے کی وجہ سے سسرال کی طرف سے تشدد کر کے مار دیا جاتا ہے۔۔ میرا جسم میری مرضی کرنے والی عورتوں نے اگر عورت کے حق میں آواز اٹھائی تو وہ بھی اپنے غلط ناجائز مفاد کے لیے اٹھائی۔۔ تاکہ پاکستان میں بے حیائی عام سے عام ہوتی جائے۔۔اگر یہ عورتیں باکردار ہوتی اور حقیقت میں ظلوم عورت کی تکلیف کو مسحوس کر رہی ہوتی۔۔ تو ایک عام عورت کے اہم مسائل کیا ہوتے ہیں اس پر آواز اٹھاتی۔۔ پاکستان میں ایک عام عورت اہم مسائل کا شکار زیادہ تر شادی کےبعد ہی ہوتی ہے۔۔ کتنا اچھا ہوتا اگر میرا جسم میری مرضی کرنے والی عورتیں جہیز کے خلاف آواز اٹھاتی اور شادی کے بعد بے بنیاد باتوں پر جو مرد ظلوم عورتوں کو بچوں کے ساتھ آرام سے چھوڑ دیتے ہیں اس کے حق میں قانون کو مضبوط بنانے کے لیے آواز اٹھائی ہوتی۔۔تو آج پاکستان میں شادی کے بعد تشدد سے مرنے والی عورتوں کی شرح صفر ہوتی۔۔پاکستان میں بڑھتے ہوئی مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ جہیز بھی بناتا جا رہا ہے۔۔ جہیز ایک لعنت ہے یہ جملہ تو ہم صرف کتابوں یا اخلاقی درس میں پڑھتے ہیں۔ پر اس بات پر عمل نہیں رہا۔ ایک وقت ایسے بھی تھا۔۔جب شادی کو دوخاندانوں کے ملاپ کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔۔ بغیر کسی لالچ کے رشتے اخلاص سے نبھاتے تھے۔۔ آج ہم بہت بڑا فرق دیکھ سکتے ہیں۔۔ شادی ایک بندھن کم بزلنس زیادہ بن کررہ گی ہے۔ لڑکیوں کو گھر کی غرت سمجھ کر نہیں بلکہ کریڈٹ کارڈ سمجھ کر شادی کی جاتی ہے۔ ذراسوچیں ان لوگوں کا کیا ہوتا ہوگا جن کی رہائش کرایہ کے گھر پر ہوتی ہے اور جاب بھی پرائیویٹ ہوتی ہے۔ ایسے شخص کو بیٹیاں سخت آزمائش کی طرح محسوس ہوتی ہوگی۔۔ اب وہ اپنی بیٹیوں کو اچھی تعلیم دلوایگا یا پھر ان کے لیے جہیز کے لیے پیسے جمع کرے گا۔۔ اور بات صرف شادی کرنے تک محددو نہیں ہے شادی کے بعد بھی ہندوانہ رسموں کا رواج اس گھر کے کمانے والے مرد کی کمر توڑ دیتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست سے تعلق رکھتا ہے۔۔ جس میں زیادہ تر تعداد مسلمانوں کی ہے۔ اور 80 فیصد پاکستانی ان رسموں روجواں کو اپنے معاشرے کا حصہ سمجھتے ہیں حالاکہ اسلام میں سختی سے ان چیزوں پر عمل نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔۔ یہ سب جانتے ہوئی بھی کہ اسلام تعلیمات میں جہیز لینے کو کبیرہ گناہ کہا گیا ہے۔۔ روزے قیامت والے دن پہلا سوال میاں بیوں کے رشتہ کا ہوگا۔ شادی جیسے پاکیزہ اور خوبصورت رشتے کو لالچ کی بھینٹ چڑھایا ہوا ہے۔ ایسا لگاتا ہے۔ جیسے انسان کی قیمت چیزیں طے کرتی ہیں۔۔ جہیز لینے والے مردوں سے سوال یہ ہے۔۔ان لوگوں کا ضمیر کہا مرجاتا ہے جب یہ چیزوں سے کسی لڑکی کو تول رہیں ہوتے ہیں۔۔ یہ اچھے سے جنتے ہوئی بھی کہ کل کو کوئی اور شخص آکر ان کی بیٹی اور ان کی بہن کے ساتھ بھی یہ ہی سب کرے گا۔ یہ تو صاف ظاہر ہے ایسے مرد بےضمیر ہوتے ہیں۔۔ خطرناک بات یہ ہے۔ان بے ضمیر مردوں کی تعداد زیادہ ہو گی ہے۔ ایسے بے ضمیر مرد یہ کیوں بھول جاتے ہیں اللہ پاک ہر انسان کو اس کہ دل کے حال سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اگر کسی کی بیٹی کے آنکھ میں آنسو کی وجہ بننے تو اس کا حساب روزے قیامت میں دینا ہوگا۔ ایک وقت تھا لوگ اپنے رشتے داروں سے محبت کرتے تھے۔ آج کل اس کی بجائے یہ چیز دیکھی جاری ہے کہ لڑکی کا اچھے علاقے سے تعلق ہونا ضروری ہے۔ڈیفیس اور گلشن کے علاقے کا نام سنتے ہی آدھا رشتہ تو ہاں ہی ہوجاتا ہے۔ اور پورا رشتہ لڑکی کا گھر اور والد، بھائی کام دیکھ کر۔۔جس میں لڑکی کا کردار اس کی پرورش، کیا ہے یہ سب باتیں بے معنی ہیں۔۔ ان سب چیزوں کو علاقے اور والد اور بھائی کے کام پر معاف کر دیا جاتا ہے اور اس طرح کے لالچی لوگ اگر سائٹ ایریا میں لڑکی کو دیکھنے چلے جائے تو لڑکی کے مطابق تو سوال کرتے ہی ہیں اس کے پورے خاندان کو کون کون مرضی میں بیماری ہوئی تھی۔ اس حدد تک سوال پوچھے جاتے ہیں۔۔ اور طرف ایک بار میں لڑکی کے لیے ہاں نہیں کی جاتی ایسے بے غیرت بے ضمیر مرد اپنے ماں اور بہنوں کے ساتھ سو گھروں میں جا کر چائے کے ساتھ سموسے نوش فرماتے ہیں پھر جا کر ایک لڑکی ان کو پسند آتی ہے۔ رشتہ طے ہونے کے دوران ان لڑکے والوں کے سامنے اس لڑکی سے کئی بار ماڈلنگ کروائی جاتی ہے۔ باآخر رشتہ طے ہو کر شادی ہوجاتی ہے۔۔ بعد میں اس ہی لڑکی میں عیب نظر آنے لگتے ہیں۔ وہ بپچاری اپنی تربیت کی وجہ سے بے بنیاد باتوں کو برداشت کرتی رہتی ہے۔ اور جس دن یہ برداشت ختم ہوتی ہے یا تو لڑکی کا گھر ختم ہوتا ہے یہ اس کی زندگی ایسے مرد شادی صرف چیزوں کے لیے کرتے ہیں۔۔ ان کے لیے مخلص ہمسفر ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔خواہشات کے پیچھے جانے کی وجہ سے یہ معاشرہ بری طرح تباہی کی طرف جارہاہے۔ اور یہ تباہی آنے والی نسلوں کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
جہیز جیسے عذاب نے اس قدر جڑیں مضبوط کر لی ہیں کہ اگر یہ نہ ہو تو والدین اپنی بیٹی کی شادی کا تصور بھی نہیں کر سکتے ان ہی وجوہات کی وجہ سے بہت سے جرم وجود میں آرہے ہیں مقررض ہو کر بیٹی کی شادی کرنا بعد میں اپنی بہن یا بیٹی کا گھر بسانے کے چکر میں غلط کاموں میں پڑجانا اور اگر لڑکی کےگھر والے شادی کے بعد لڑکے والوں کی خواہشات کو پورا نہ کر سکیں تو لڑکی کو طلاق دے دینا ، چاہیے وہ ایک بچے کی ماں ہی کیوں نہ بن گئی ہو ایسی صورت میں زیادہ تر گھرانوں میں خودکشی دیکھی گئی ہے۔
جیسے اس کا جرم یہ تھا کے وہ ایک غریب والدین کی لڑکی تھی۔۔ لڑکی کو زیادہ جہیز دینے کے چکر مقروض والدین اپنے دن رات کا چین وسکون بردباد کر لیتے ہیں۔۔ جس میں بہت سے گھرانوں میں والدین کو قرض کی وجہ سے خطرناک کی بیماری الگ جاتی ہے۔۔اور ایسی صورت حال میں شادی کے بعد ان کی بیٹی خوش نہ ہوا۔۔ تو ان کے لیے تو دنیا جہنم سے کم نہیں ہوگی۔ حکومت اگر ان چیزوں پر ٹھوس عمل کے ساتھ کام کرے تو اس بڑھتے ہوئے عذاب کو روکا جاسکتا ہے۔ بہت تکلیف محسوس ہوتی ہے پاکستان جو کے دنیا میں اسلامی ملک کے نام پر جانا جاتا ہے۔۔ اور اسلام جس نے تمام مذہبوں کے آگے سب سے بہترین انداز میں عورت کے حقوق پیش کیے۔ اس دین سے تعلق رکھنے والی عورت ہندو رسم رواج کے آگے مجبور ہے۔۔پاکستان میں آج کے دور میں بھی لڑکیوں کو دیکھ کر ان کے اچھے نصیب کی دعا کی جاتی ہے۔۔مغربی ملکوں میں لڑکی ہونے پر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس کا نصیب کیا ہوگا۔ کیوں کہ ان کی حکومت نے عورت کو جو حقوق دیئے ہوئے ان میں سے کافی حدد تک اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں۔ جیسے شادی کے بعد اگر شوہر بچوں کے ساتھ کسی عورت کو چھوڑ دے تو بچوں کا خرچ باقاعدہ ادا کرے گا ورنہ اس پر سخت قانونی کارروائی ہوگی۔۔ شادی کے وقت جہیز نام کی چیز کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا۔۔۔ اور پاکستان جو کے ایک اسلامی ملک سے تعلق رکھتا ہے۔۔ مگر اسلام کے اصولوں سے دور ہے۔۔ قرآن پاک میں ہے نکاح کا مقصد یہ ہے کہ جب نکاح ہو جائے تو یہ نکاح تمہاری شرافت وبا کرداری کی بنیاد بن جائے۔ حضور نے فرمایا: عورتوں سے نکاح حسن اور مال کی وجہ سے نہ کرو۔ اب تک عرب دنیا میں نکاح اور دیگر اخراجات شوہر براداشت کرتا ہے۔ اب میرا سوال ان مردوں سے ہے جو شادی کے وقت اپنے گھر والوں کو جہیز لینے سے منع نہیں کرتے ہیں۔ ان ہندو رسم ورواج کو شہ دیتے ہیں۔۔ ایسے مردوں کی غیرت کہا چلی جاتی ہے جب وہ کس کی بیٹی کو کھلونا سمجھ کر کھیلتے ہیں۔ کیا منہ دکھائیں گئے۔ مرنے کے بعد اللہ تعالی کو۔۔کیا ایسی لالچ دل میں رکھ کر خدا آپ سے راضی ہوگا۔۔ زندگی صرف ایک امتحان ہے ہر انسان اپنا امتحان دے رہا ہے۔۔ اور حقیقی دنیا میں جا کر معلوم ہو گا اپنے اعمالوں کے حساب کا۔۔ اب بھی وقت ہے صرف سوچنے کی ضرورت ہے۔
بہت ناداں ہیں وہ لوگ جو سمجھتے نہیں
زندگی ایک سفر کے سوا کچھ بھی نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں