Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 163

حادثہ

کراچی میں ہونے والے طیارے کے المناک حادثے سے پوری قوم واقف ہو چکی ہے۔ ایسے حالات میں جب پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ یوں سمجھ لیں ساری دنیا میں افراتفری کا عالم ہے۔ اس طرح کا حادثہ عید سے صرف دو دن قبل ایک قومی سانحہ ہے۔ اس حادثے کی ذمہ داری کس پر ہو ایک ایسے ملک میں جہاں اداروں میں ذمہ داری کا احساس ناپید ہو، کوئی شخص ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا، اس حادثے کی تمام ذمہ داری پائلٹ پر ڈال دینا نا انصاف ہے لیکن ہمارے یہاں کا یہ دستور ہے کہ جو حادثے میں ہلاک ہو جائے، ذمہ داری اس پر ڈال کر باقی لوگ بری الذمہ ہو جائیں کیوں کہ وہ بے چارہ جواب دینے کو موجود نہیں ہے۔ اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یہ بات طے ہے کہ تباہ ہونے والے طیارے میں پہلے سے فنی خرابی تھی جس کی نشان دہی لاہور میں ہی ہو چکی تھی۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پی آئی اے ہو یا کوئی بڑا قومی ادارہ تمام بھرتیاں تعلقات کی بناءپر ہوتی ہیں۔ یہ میں پوری ذمہ داری سے اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں بھی اس دور سے گزر چکا ہوں۔ پی آئی اے میں تعلقات نا ہونے کی وجہ سے مجھے نوکری نہیں مل سکی جب کہ کچھ ایسے افراد جو اسی دوران ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ان کے بارے میں مجھے علم ہو چکا تھا کہ ان کی سفارشیں کتنی تگڑی ہیں لہذا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہازوں کی مرمت والے شعبے سے لے کر گراﺅنڈ آپریشن آفس، اسٹور تمام شعبوں میں ناکارہ افراد کی بھرتی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ پی آئی اے کو جو سامان باہر کی پرائیویٹ کمپنیوں سے سپلائی کیا جاتا ہے وہ نہایت ہی ناکارہ ہوتا ہے جس کی بہت زیادہ قیمت وصول کی جاتی ہے کیوں کہ خریداری کے ڈیپارٹمنٹ میں اچھی خاصی رقم دی جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئرلائن تصور کی جاتی تھی لیکن یہ ماضی کی بات ہے۔ بعد میں اس ایئرلائن کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا اور نمبر ون ایئرلائن کو بہت پیچھے دھکیل دیا گیا۔ دنیا میں طیاروں کے حادثات ہوتے رہتے ہیں لیکن ایئرلائن کے سربراہ کو ذمہ داری قبول کرنا پڑتی ہے اور عملے اور فلائٹ آپریشن کے انجینئرز اور مکینک غیرہ کے بارے میں بھی تحقیقات شروع ہو جاتی ہے اور ذمہ داری کی غفلت ثابت ہونے پر سزا بھی ہوتی ہے اور نوکری سے برخاست بھی کیا جاتا ہے ہم چونکہ ایک آزاد ملک کے شہری ہیں لہذا ہم ہر معاملے میں آزاد ہیں ہمیں تحقیقات کی نہیں تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے اور سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر صاف نکل جانے کا فن جانتے ہیں۔ ہم جس طرح لکھ رہے ہیں ہمارے ساتھ کے بے شمار لوگ لکھتے ہیں اور بہت اعتراضات سر اٹھاتے ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ایک مرتبہ نیویارک سے کراچی پی آئی اے کے جہاز میں سفر کررہا تھا۔ غالباً 1996ءکی بات ہے، جہاز میں ایک مسافر اور جہاز کے عملے کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی اور بات گالم گلوچ تک پہنچ گئی اور یہ تمام گالم گلوچ جہاز کے عملے کی جانب سے تھی، میں نے ایک جاننے والے سے جو کہ پی آئی اے کا ملازم تھا، میرے ساتھ سفر کررہا تھا، پوچھا کہ کیا ان لوگوں کی کوئی شکایت نہیں کرتا؟ تو وہ زور سے ہنسا اور کہتے لگا یہ سب اونچے اونچے تعلقات والے لوگ ہیں ان کی شکایت کون سنے گا۔ بہرحال ہمارے ملک میں ایسے سربراہ ان قومی اداروں پر اگر موجود ہوں جن کا ماضی ایک کامیاب اور ذمہ دار شخص کے مطابق ہو تو شاید اس شخص میں کچھ احساس ہو، بہت قلیل مدت کے لئے ایسا سربراہ پی آئی میں آیا تھا۔ جس کا نام تھا محمد اعظم سہگل۔ 7 دسمبر 2016ءکو حویلیاں کے قریب پی آئی اے کا جہاز اے ٹی آر 42 گر کر تباہ ہو گیا جس میں جنید جمشید اپنی اہلیہ کے ساتھ سوار تھے اس حادثے کے بعد اعظم سہگل نے استعفیٰ دے دیا۔ یہ جہاز کئی خرابیوں سمیت پرانا جہاز تھا جسے زبردستی چلایا جارہا تھا۔ اعظم صاحب نے تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ اس جیسے کئی جہاز چل رہے ہیں جو اڑانے کے قابل نہیں ہیں۔ اعظم سہگل صاحب کا بیک گراﺅنڈ بہت مستحکم تھا۔ وہ ایک بڑے صنعت کار اور کامیاب اور اصول پسند کاروباری شخصیت تھے اور بڑی ذمہ داری سے فرائض انجام دینے والے شخص تھے۔ نہایت قلیل عرصے میں انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ اس ادارے کا نظام اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ اس کو سنبھالنا ان کے بس کی بات نہیں ہے لہذا انہوں نے پہلا حادثہ ہوتے ہی استعفیٰ دے دیا۔ ماضی میں پی آئی اے کے سربراہ ان ہی جیسے ہوا کرتے تھے اور دنیا کے دوسرے ممالک میں ہی ایئرلائن کے سربراہ ذمہ داری لیتے ہیں۔ اکتوبر 2018ءکو انڈونیشیا کی ایئرلائن کا نیو برانڈ طیارہ بوئنگ 737 سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا اور اس کے پانچ مہینے بعد ایتھوپین ایئرلائن کا طیارہ بوئنگ 737 ایک ایئرپورٹ سے اڑانے کے فوراً بعد ہی گر کر تباہ ہو گیا ان دونوں طیاروں میں 348 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ بوئنگ 737 کے ایک سینسر میں تعمیری خرابی کی بناءپر حادثہ پیش آیا۔ اس کے بعد ﺅنگ کمپنی کے سی او اے ڈینس مولنبرگ کو استعفیٰ دینا پڑا۔ 7 مئی 2020ءکو کوروشیا کا ایک ایئرفورس کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہو اجس میں دو افراد ہلاک ہوئے اس حادثے سے تین مہینے پہلے ایئرفورس کا ایک ہیلی کاپٹر بھی گرچکا تھا۔ اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کوروشیا کے ڈیفنس منسٹر ڈامرکرسٹی نے دیا۔ اکتوبر 2014ءکو روس کا ایک طیارہ گر کر تباہ ہوا اس کے نتیجے میں ایئرپورٹ کے سی ای او آندرے ڈیاکو اور ان کے نائب نے استعفیٰ دے دیا اور ایئرپورٹ کے پانچ ملازمین کو غفلت کی بناءپر گرفتار کرلیا گیا۔ 2019ءمیں امریکا کی یونائیٹڈ ایئرلائن سمیت کئی بڑی آرگنائزیشن مثلاً بلا گیٹس فاﺅنڈیشن اور میکڈونلڈ کے سی ای او سمیت 1160 سربراہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ ان میں سی ای او، پریذیڈنت اور چیئرمین شامل تھے۔ اسی طرح 1985ءجاپان ایئرلائن کی پرواز حادثے کا شکار ہوئی اور خبر آتے ہی اور وجوہات کا علم نہ ہوتے ہوئے بھی ایئرلائن کے صدر نے فوراً استعفیٰ دے دیا۔ وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں انسانی جانوں کی قیمت ہے ہمارے ملک میں کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ بدعنوانی، چوری، دھوکہ دہی، غبن کی خبریں آپ روزانہ ٹی وی پر سنتے ہیں۔ ٹاک شو میں اس کے بارے میں اس کے بارے میں ہر روز ہی بتایا جاتا ہے لیکن اس کا ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہوتا تو پھر یہ تمام باتیں عوام کو بتانے کا مقصد کیا ہوتا ہے۔ یہی کہ تم لوگ دراصل بے وقوف ہو، عقل مند تو یہ ہمیں جو ملک کی جڑیں کھوکھلی کرتے ہیں اور ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں