Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 32

حقیقت یا فسانہ

عمران خان کی منزل کیا ہے؟ اس کا تو کسی کو بھی علم نہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کی اونچی اڑان نے وطن عزیز کو پوری دنیا میں بہادری اور جرات کے حوالے سے ضرور خبروں کی زینت بنا دیا ہے۔ کرکٹ کی دنیا میں چوکے، چھکے لگانے والا عمرانخان عالمی سیاست میں فاسٹ باﺅلنگ کرکے بڑی بڑی وکٹیں گراتا چلا جا رہا ہے۔ دنیا کے دو انتہا پسند مذہبی عقیدوں میں لپٹی سیاست کے غبارے میں سے تو وہ ہوا نکال کر ان کے سارے کے سارے منصوبے ناکام بناتے ہوئے ان کی حقیقتیں دنیا پر پہلے ہی واضح کر چکا ہے۔ آج انہوں نے گوادر میں بہت سارے نئے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے افغانستان کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سیہ کہہ دیا کہ افغانستان کے معاملے میں انڈیا لوزر اور امریکہ کنفیوژ ہے، دو لفظوں میں عمران خان نے دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے امریکہ اور انڈیا کے افغانستان میں کی جانے والی کارروائیوں کی حقیقت بیان کردی کہ آج سے چالیس پچاس سال قبل افغانستان کی جو حالت تھی وہ اب اس سے بھی زیادہ بدتر ہو چکی ہے جہاں امریکہ اور انڈیا نے اربوں ڈالروں کی انویسٹمنٹ کی ہے لیکن سب کا سب بے کار ہوا ان کے ہاتھ سوائے ذلت، رسوائی اور ندامت کے کچھ بھی نہیں آیا اور اب اپنے محفوظ واپسی کے لئے وہ پاکستان سے ان کے ہوائی اڈے مانگ رہے ہیں۔۔۔ ہر گز نہیں۔۔۔ عمران خان بہت ہی زیادہ دور اندیش اور مدبر سیاستدان کے طور پر اُبھرے ہیں، حالانکہ وہ کوئی روایتی یا موروثی سیاستدان نہیں ہیں لیکن اپنی سچائی، حقیقت پسندی، سچے مسلمان اور محب الوطن پاکستانی ہونے کی وجہ سے وہ ایک کامیاب اور مدبر سیاستدان کے طور پر اُبھرے ہیں۔ وہ پاکستان کے واحد سیاستدان اور حکمران ہیں جو حکمران اور سیاستان کے طور پر اپنے ملک پاکستان سے زیادہ عالمی دنیا میں جانے پہچانے جاتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا سے زیادہ غیر ملکی میڈیا کے بڑے نام ان کے گرویدہ ہیں اور ان کے انٹرویو ان کی خبروں کے لئے بے چین اور بے تاب دکھائی دیتے ہیں اور یہ بھی لکھتا چلوں کہ وہ پاکستان کے پہلے حاکم ہیں جو موٹی ویٹر ہیں جو اپنی ہر تقریر جو وہ قوم سے کرتے ہیں ہمیشہ تکرار کے ساتھ اس میں معاشرے کے پھنسے ہوئے، دھتکارے ہوئے طبقے، دیہاڑی داروں، چھابڑی والوں، بے گھروں، سڑکوں پر زندگی گزارنے والوں کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں، نہ صرف تذکرہ بلکہ ان کے لئے کچھ کرنے کے عزم کرنے کا بھی اظہار کرتےہیں اور وہ ایسا کرکے دکھلاتے بھی ہیں جس میں ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں شیلٹر ہاﺅسز کا تعمیر کرنا اور احساس پروگرام کا جاری رکھنا شامل ہے۔ عمران خان کے اس طرح کے اقدامات کو اپوزیشن اور بعض میڈیا ہاﺅسز کے علاوہ سو کالڈ لبرلز کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا مگر عمران خان نے حسب روایت مخالفین کی تنقید کی پرواہ کئے بغیر اپنے کام کو جاری رکھا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کے تین صوبوں میں عوام کو ہیلتھ انشورنس کی پالیسی فراہم کر دی گئی ہے اور چوتھے صوبے میں اس پر کام جاری ہے اسی طرح سے ساٹھ سال اور اس سے بڑی عمر کے لوگوں کے لئے اولڈ ایج بینیفٹ اسکیم کی تیاری کی جارہی ہے جس کے لئے اطلاع یہ ہے کہ پانچ ارب روپے کا فنڈزبھی مختص کردیا گیا ہے یعنی اب پاکستان میں بوڑھوں کو اولڈ ایج بینیفٹ فنڈ دیا جائے گا۔ یہ سب فلاحی کام ہے جو کہ پاکستان میں بہت پہلے سے ہونے چاہئیں تھے لیکن دیر آئے درست آئے کے مصداق اب عمران خان کے ہاتھوں یہ نیک کام ہو رہے ہیں۔
میں عمران خان کا نہ تو کوئی ورکر ہوں اور نہ ہی اپوزیشن کا کوئی مخالف۔۔۔ میں سچائی کا حقیقت پسندی اور پاکستان کا خیر خواہ ہوں اور جو کوئی پاکستانی حاکم یا اپوزیشن رہنما اس طرح کے اقدامات کرے گا تو میرا ووٹ ان کی جانب ہوگا۔ اس وقت عمران خان نے ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی لوٹ مار کی وجہ سے قرضوں میں جکڑنے والی قوم جو خواب غفلت میں مبتلا تھی اسے جگانے یعنی بیدار کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ عمران خان پاکستانی قوم کی امنگ ان کی امیدوں کے چراغ بن گئے ہیں۔ پاکستانی قوم عمران خان کی شکل میں اپنی کامیاب منزل دیکھ رہی ہے، یہ جانتے ہوئے کہ ملک میں مہنگائی کا سیلاب امنڈ آیا ہے، ہر چند لوگوں کی قوت خرید سے باہر نکلتی جارہی ہے اس طرح کی صورت حال میں لوگوں کا اپنے جسم اور روح کے تعلق کو برقرار رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ لیکن ملکی عوام کو اللہ تعالیٰ کے کرم سے اتنا شعور آگیا ہے کہ وہ اس مہنگائی کا ذمہ دار عمران خان یا ان کی حکومت کو نہیں بلکہ دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں کو ٹھہرا رہے ہیں اور انہیں یہ اندھا یقین ہوتا جا رہا ہے کہ انہیں اس مشکل سے کوئی اور نہیں خود عمران خان ہی نکالیں گے وہ انہیں ایک طرح سے اپنے لئے مسیحا اور نجات دھندہ خیال کررہے ہیں۔ خاص طور سے امریکہ کو منہ توڑ جواب دینے سے پوری قوم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ملکی میڈیا اگر منافقت سے کام نہ لیتا تو وہ ملکی عوام کے جذبات اور تاثرات بھی دکھا دیتا لیکن افسوس کہ ملک کے بڑے بڑے میڈیا ہاﺅسز اب بھی سابقہ حکمرانوں کی آمد کی راہ تک رہے ہیں جن کی لوٹ مار میں کسی نہ کسی طرح سے وہ بھی رنگے ہوئے تھے اسی وجہ سے انہیں عمران خان کی یہ حکومت اور ان کے اقدامات بالکل بھی راس نہیں آرہے۔
عمران خان کو چاہئے کہ وہ ملکی عوام کے لئے کئے جانے والے اپنے اقدامات کو جاری رکھیں، پاکستان کے غیور اور محب الوطن عوام ان کی پشت پر کھڑے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں