Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 166

حکمران

اس ترقّی یافتہ دور میں جدیدٹکنالوجی نے دنیا کو بہت مختصر کردیا ہے ۔گھر بیٹھے آپ دنیا بھر کی خبریں منٹوں میں حاصل کرسکتے ہیں۔نا صرف یہ کہ حالیہ تازہ خبریں بلکہ تمام ممالک کے گزرے ہوئے واقعات اور تاریخ سے بھی واقف ہوسکتے ہیں ۔لیکن شائید ہمارے ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی اس بات سے واقف نہیں ہے کہ دنیا میں کیا کچھ ہوچکا ہے اور کیا ہورہا ہے۔مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ ہمارے لوگوں کے خیال میں ہمارا ملک دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بے انتہا کرپشن ہے جہاں ہر حکومت کرپٹ ہوتی ہے۔جہاں تمام سیاسی پا رٹیوں کے لیڈران بد عنوان ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقربا پروری رشوت اور بد عنوانی سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں ہے۔لیکن ملکوں کے حالات حکومتوں کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی اچھے حکمران مل جاتے ہیں تو حا لات اچھے ہونے لگتے ہیں لیکن کو ئی بد عنوان حکومت آجائے تو پھر عوام کے حالات پر اس کا اثر ہونے لگتا ہے۔ہمارے لوگ ترقّی یافتہ ممالک سے اپنے ملک کا مقابلہ کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ چونکہ وہاں حکومتیں ایمان دار ہیں لوگ ایمان دار ہیں اس لئے وہ ملک ترقّی کررہے ہیں جب کہ معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ان ممالک کی خوش قسمتی ہے کہ ان کو شروع ادوار میں ایمان دار قیادت میسّر آگئی۔ انہوں نے سب سے پہلے ایک مضبوط سسٹم بنایا جس میں شخصی آزادی کے ساتھ ساتھ اتنی قانونی بندشیں تھیں کہ ایک عام آدمی بد عنوانی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔اپنے وسائل کو کام میں لاکر اپنے ملک کی معیشت کو مضبوط کیا اور اسے ایسے مقام پر لاکھڑا کیا کہ اب اگر بدعنونی ہوتی بھی ہے تو اس کا زیادہ اثر نا ملک پر پڑتا ہے اور نا عام آدمی کی زندگی پر اس کا کو ئی زیادہ اثر پڑتا ہے لیکن حکومتی سطح پر اگر بدعنوانی ہمارے ملک میں ہو تو اس کا اثر ملک اور عوام پر بہت زیادہ پڑتا ہے ایسے کسی ترقی یافتہ ملک اور ہمارے ملک کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی دریا سے چار بالٹی پانی نکال لیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اگر کسی ایک بالٹی میں پچاس آدمیوں کے لئے پچاس گلاس پانی ہے اور چند لوگ تین تین یا چار چار گلاس پانی نکال لیں گے تو باقی لوگوں پر تو لازمی اثر پڑے گا۔بدقسمتی یہ رہی کہ ہماراملک بنتے ہی کرسی کے لئے رسّی کشی شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں سازشوں نے جنم لیا نئے ملک میں کسی کو سسٹم بنانے ترقّی کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی بس حکومت چاہئے تھی کہ اپنی جیبیں بھری جائیں۔سب سے پہلے سازشوں کے ذریعے مخلص لوگوں کو قتل یا ایک کنارے کیا گیا اور کرسی کی چھینا جھپٹی جو شروع ہوئی وہ آج تک چل رہی ہے۔صرف ایوب خان کا دور ایک ایسا دور تھا جب وسائل کو کام میں لاکر نیک نیتی سے کام کیا گیا اس دور کی ترقّی آج تک نظر آرہی ہے۔لیکن لٹیروں نے اس کو بھی نہیں رہنے دیا۔ایوب خان نے ترقی کے لئے جن وسائل کے ساتھ کام کیا ان ہی وسائل اور پروگرام کو لے کر آگے بڑھا جاسکتا تھا۔لیکن جمہوریت کے علم برداروں نے ملک کو ترقی دینے کے بجائے لوٹ مار کے راستے پر ڈال دیا اور اپنے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے عوام کی اکثریت کو کرپٹ بنادیا آج ترقی کی راہ میں یہی اکثریت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ہم مسلسل اپنی معیشت کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ بھی کرنے کو تیّار نہیں ہیں ۔کیونکہ ہم سب گروپوں کی شکل میں کسی نا کسی لیڈر کی رسّی سے بندھے ہوئے ہیں اور اس کے اشارے پر ناچ رہے ہیں۔ اپنے حقوق کے لئے تو ہر شخص کھڑا ہوجاتا ہے احتجاج کرتا ہے شکایت کرتا ہے لیکن ریاست اور معاشرے پر اس کی کیا ذمّہ داریاں ہیں ان پر بات کرنے کو تیّار نہیں ہے اس ہی طرح سے ہمیں حکومتیں بھی ایسی ملتی ہیں۔جن کے پاس روٹی کے بجائے ان گنت وعدے ،نعرے ،اور تقریریں ہوتی ہیں۔معیار زندگی بلند کردیں گے ،تعلیم کو فروغ دیں گے روٹی کپڑا مکان لیکن آخر میں وہی ٹائیں ٹائیں فش۔دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جو بہت خراب حالات سے گزرے ہیں تباہ شدہ معیشت کو دوبارہ راستے پر لائے اور اسے مضبوط سے مضبوط کیا۔اٹلی دوسری جنگ عظیم کے بعد کھنڈر بن گیا تھا لیکن ان کی ایمان دار قیادت اور عوام کی بے انتہا محنت نے انہیں کہاں سے کہاں پہو نچادیا کیونکہ عوام کا سو فیصد تعاون تھا۔عوام کی طاقت کے سامنے حکومت کی کوئی طاقت نہیں ہوتی ہے ملک کا دھارہ بدلنے میں عوام کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے لیکن ایسی عوام نہیں جو آزاد ہونے کے تہتّر سال بعد بھی اپنے آپ کو غلام سمجھے اور غلامی قبول کرے۔اٹلی کے علاوہ فرانس بہت برے حالات سے گزرا ہے۔فرانس نے افریقہ کے کئی ممالک پر قبضہ کیا ہوا تھا۔اور ان ممالک میں ہر جگہ آزادی کی تحریکیں چل رہی تھیں۔فرانس نے اپنا سارا زور ان تحریکوں کو کچلنے میں لگادیا تھا اور ان علاقوں کو فرانس کا حصّہ تسلیم کروانا چاہتا تھا لیکن وہاں کے باشندے کسی طور فرانس کا تسلّط برداشت کرنے کے لئے تیّار نہ تھے۔سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا الجیریا سے تھا لاکھوں لوگوں کے قتل کے بعد بھی الجیریا کے عوام ہار ماننے کو نہیں تھے۔مسلسل ان جنگوں میں مصروف رہنے کی وجہ سے فرانس یوروپ میں اپنی طاقت کھوبیٹھا۔اس کا اثر معیشت پر بھی پڑا۔اور فرانس دوسرے یوروپین ممالک کی نسبت ترقّی کی دوڑ میں بھی پیچھے رہ گیا۔ایسے میں حکومت کی باگ ڈور چارلس ڈیگال کے ہاتھ میں دی گئی۔ڈیگال کو ملک بہت ہی نا مساعد حالات میں ملا تھا۔الجیریا سے جنگ جاری تھی معیشت خراب تھی اور سیاسی مخالفین سے بھی نپٹنا تھا۔لیکن ڈیگال ایک ایمان دار اور ملک کا خیر خواہ تھا ۔دوسری جنگ عظیم میں آرمی میں تھا اور ملک کے لئے خدمات انجام دیں۔ وہ فرانس کی ترقّی کا خواہاں تھا اور اس کی نظر میں اگر فرانس الجیریا میں الجھا رہا تو معاشی طور پر اور کمزور ہوجائے گا لہذا اس نے آرمی اور عوام کی مخالفت کے باوجود اور اپنی بے عزّتی کا احساس ہوتے ہوئے بھی ملک کی خاطر یہ اہم فیصلہ کیا کہ الجیریا کو آزادی دے دی جائے اس کے بعد تمام تر توجّہ فرانس کو آگے بڑھانے میں دی جاسکتی ہے۔اس نے اس فیصلے کو عملی جامہ پہنادیا اور الجیریا کو آزاد کردیا۔اس کے بعد ڈیگال پر کئی خطرناک حملے ہوئے اور اسے قتل کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن وہ ہر مرتبہ بچ نکلا۔ وہ سب کی نظر میں برا تھا اس کے ہر فیصلے کی مخالفت ہوئی وہ جو بھی کام کرنے چلتا اس کی سخت مخالفت ہوتی تھی لیکن اس نے ہمّت نہیں ہاری وہ صرف اپنے ملک کی ترقّی اور عوام کے حالات بہتر کرنے کے لئے کوششوں میں مصروف تھا۔حالات یہاں تک پو نچ گئے کہ اس کی مخالفت اتنی بڑھی کہ طلبہ اور عوام کے احتجاج کے باعث اسے استعفی’ دینا پڑا لیکن اس وقت تک فرانس کے حالات کافی بہتر ہوچکے تھے لیکن ڈیگال مخالف پارٹیوں کی سازش کا بھی شکار ہوا۔اس کے ساتھ وہی ہوا جو ہمارے ایوب خان کے ساتھ ہوا۔ڈیگال کے جانے کے بعد عوام نے اس کو یاد کیا اور ملک کے لئے اس کی خدمات کو سراہا گیا۔ اس کا انتقال اس کے گھر میں ٹی وی دیکھتے ہوئے اچانک دماغ کی رگ پھٹ جانے سے ہوا۔اس نے پہلے سے یہ وصیت کی ہوئی تھی کہ اس کی تدفین پر صدر سمیت کوئی حکومت کا رکن یا دوسرے ملک کا سربراہ شامل نا ہو۔وہ الگ تھلگ رہتا تھا۔ لہذا اس کی میموریل سروس اور تدفین میں صرف اس کے خاندان کے قریبی لوگ شامل ہوئے لیکن اس کے ساتھ ہی فرانس کے صدر جارج پومپیڈو نے دوسرے مقام پر نوٹرے ڈیم میں اس کے لئے تعزیتی پروگرام رکھا جس میں دوسرے ممالک کے سربراہان بھی شریک ہوئے۔حقیقت یہی ہے کہ آج کی دنیا میں پرخلوص ،محبّ وطن او رملک کے لئے بہتر کرنے والے سربراہ کے خلاف اتنی سازشیں ہوتی ہیں اور عوام کو اتنا بددل کیا جاتا ہے کہ اس کا رہنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن اس کے جانے کے بعد اس کی یاد آتی ہے ایسا ہر مرتبہ ہوتا ہے۔آج ہم بھی ایوب کو یاد کرتے ہیں۔ اور جو موجود ہو اس کی قدر بھی نہیں کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں