انتخابات اور انتخابی انداز 55

حکومت کی نئی پالیسی اور محکمہ ڈاک خانہ

محکمہ ڈاک ماضی قریب اور حال میں خاصا موضوعِ بحث رہا۔اس کی وجہ وفاقی وزیرِ مواصلات مراد سعید کی ”تبدیلی پالیسی “ ہے۔ پچھلے دنوں کراچی جانا ہوا وہاں ڈاک خانے کے ریٹائر افراد سے مفصل گفتگو ہوئی۔ ڈاک خانے کی پہلی واضح تبدیلی وہاںکے پینشن لینے والوں کے ساتھ سلوک کی ہے۔ پنشن بہت گھمبیر مسئلہ ہے۔ وزیر مراد سعید نے ایک پالیسی کے تحت پوسٹ آفس سیونگ کو قومی بچت کے تحت کر دیا۔ایک صاحب نے بتایا کہ آج تک میری سمجھ میں نہیں آیا کہ پنشن ڈاک خانے سے بینک کو کیوں دے دی گئی؟ جب سے پنشن بنک سے ملنے کی پالیسی نافذ ہوئی ہماری پنشن کم ہو گئی۔ اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو بینک والے ہمیں کہتے ہیں کہ ا?پ کی پنشن تو ’وہیں‘ سے کم آئی ہے۔ جب ہم وہاں جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ اے جی پی آر جائیں۔پہلے ڈاک خانے کے کسی ملازم کو ڈاک خانے سے اپنی پینشن لینے کے لئے نذرانہ نہیں دینا پڑتے تھے اب قدم قدم پر اے جی پی آر میں مٹھی کرم کرنے والی ڈائن منہ کھولے کھڑی ہے۔ چھٹی منظور کروانے کے الگ ریٹ، تنخواہ لینے کے الگ۔ ڈاک خانہ کا ادارہ سیونگ بینک کے ساتھ 1876 سے بھرپور انداز سے کام کر رہا ہے۔ ا±س وقت تو کمرشل بینکوں کا وجود بھی نہیں تھالیکن موجودہ حکومت نے نہ جانے کیا سوچ کر ہمارا سیونگ بینک ہی بند کر دیا اور تمام رقم قومی بچت میں منتقل کر دی۔اب لوگ اپنا ہی پیسہ ڈاک خانہ سے وصول نہیں کر سکتے۔ آپ ڈاک خانے کو درخواست دیں، وہ قومی بچت کو بھیجیں گے پھر وہاں سے پیسے ملیں گے۔کراچی میں جتنے ڈاک خانے ہیں پورے پاکستان میں قومی بچت کے اتنے مراکزنہیں۔ایک صاحب نے اپنی پینشن ملنے کا واقعہ بتایا: میں پہلی تاریخ کو پینشن لینے گیا تو علم ہوا کہ میری پینشن میں اب کی مرتبہ
پنجاب کے ہر شہری کو واش ایبل کورونا ماسک مہیا کریں گے: وزیراعلیٰ پنجاب 1720/ روپے کم آئے ہیں۔ کیا وجہ ہوئی؟ بینک والوں کو کوئی علم نہیں۔مجھے کہا گیا کہ جائیے اپنے ادارے سے معلوم کریں۔ ادارے میں جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے اے جی پی آر سے معلوم کریں۔ابھی تک مجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ رقم کس مد میں کم کی گئی۔میری طرح پورے پاکستان میں ایسے بہت سے لوگ پریشان پھر رہے ہیں۔یہ موجودہ حکومت کا ہم ڈاک خانے کے پینشنروں کے لئے ایک بڑا ’ تحفہ ‘ ہے۔بالکل یہ ہی چیز پی ٹی سی ایل بیچنے کے بعد ا±س کے ملازمین آج تک بھگت رہے ہیں۔ا±ن بے چاروں کو جو جتنا بھی ملتا ہے وہ چپ چاپ لے لیتے ہیں۔ا±ن کے کیس کا ابھی تک فیصلہ نہ ہو سکا۔ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائر ہونے والا کتنے سال اور جی لے گا دس سال۔پھر جب وہ مر جائے گا تب اس کیس کا فیصلہ آئے گا۔۔۔ محکمہ ڈاک خانے کا بینک میں جانے کے بعداس سے بھی بد تر حال ہونے والا ہے۔ڈاک خانے کا آڈٹ برطانوی دور سے ہی اس کا اپنا تھا۔ڈاک خانے کا اپنا خزانہ تھا۔ ہمیشہ وقت پر پینشن ملتی تھی۔اب بینک والے جب تک ہمارا پیسہ نہیں آئے گا وہ کبھی ہماری پینشن نہیں دیں گے۔اس گڑ بڑ کو ہوئے تیسرا سال چل رہا ہے۔محکمہ ڈاک کے ایک افسر نے
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاک خانے اور سیونگ بینک سے متعلق کیس بھی کیا لیکن ابھی تک تو اس کیس پر کوئی کاروائی نہیں ہوسکی۔ ڈاک خانے کے پاس فروخت کرنے کے لئے محض اثاثہ ہے اور یہ اثاثہ بیچ نہیں سکتے نہ اس میں کوئی تبدیلی ہی کر سکتے ہیں کیوں کہ یہ سب ایمینیٹی پلاٹ ہیں۔ ہم ریٹائر ملازمین کو اپنے محکمہ میںسہولیات بھی میسر تھیں۔اب بینک میں ایک سولہ گریڈ کا افسر لکھ کر دے کہ ہم زندہ ہیں تو ہی ہم آئندہ چھ مہینہ کے لئے زندہ ہیں ورنہ نہیں …یہ ہمارے ساتھ ظلم ہے! یہ سب ڈاک خانے سے پینشن لیتے وقت نہیں تھا۔ حکومت چاہتی تھی کہ ڈاک خانے کے سیونگ بینک کی چیزیں نیٹ پر ڈال دے تا کہ شناختی کارڈ نمبر سے ڈاک خانے کے پینشنیر کی معلومات حاصل رہیں۔حالاں کہ یہ اپ ڈیٹ نادرہ کی مدد سے محکمہ ڈاک خانہ کو پہلے ہی خود کر لینا چاہیے تھا۔ اخر 1876ءسے ہمارا سیونگ بینک کامیابی سے کام کرتا آرہا تھا۔ ادارہ کی دس برانچیں ہیں: منی آرڈر، رجسٹری، پارسل، سیونگ بینک، خزانہ، ٹی وی لائسنس، اسلحہ لائسنس، وغیرہ۔اگر دیکھا جائے تو ایک پیسہ بھی کوئی کھا نہیں سکتا۔اتنے منظم اور مضبوط قواعد ہیں جو قومی بچت والوں کے پاس بھی نہیں۔ گاﺅں گوٹھوں میں کتنے پینشن لینے والے ادھر ا±دھر کی فضول بھاگ دوڑ میں جان سے ہی گئے۔ رہے شہری تو وہ بھی بہت بری طرح سے ر±لے ہیں۔اسی کو لے لیں کہ اب صارفین قومی بچت مراکز میں گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ ڈاک خانہ واحد ادارہ ہے کہ آپ معمولی سی بھی شکایت لکھ دیں ا±س کی تفتیش شروع ہو جاتی ہے۔اور جو قصور وار ثابت ہو اسے سزا بھی ہوتی ہے۔انکری منٹ روک دینا ایک عام سزا سمجھی جاتی ہے۔جو یہ کہا جا رہا ہے ہمارا ادارہ تباہ ہو گیا ہے تو بتائیے ڈاک خانے کے ملازمین بینک سے پینشن لے رہے ہیں تو کیا بینک والے فی سبیل اللہ کام کرتے ہیں؟ نہیں! بلکہ ادارہ اس کام کا معاوضہ دیتا ہے۔تو بتا یئے یہ معاوضہ ایک تباہ شدہ ادارہ تین سالوں سے کس طرح دے رہا ہے ؟ ڈاک خانے کی ہر چیز قومی بچت مراکز میں ڈالی جا رہی ہے کیا قومی بچت کا ادارہ سرکاری نہیں؟ تو پھر سرکاری ڈاک خانے سے حکومتِ وقت کو آخر ایسی کیا تکلیف ہے؟ نہ جانے بعض ذمہ داروں کے ذہن میں یہ بات کیوں سمائی ہوئی ہے کہ ڈاک خانے یا دیگر سرکاری ملازمین کی پینشن حکومت پر بوجھ ہے۔ یہ صحیح نہیں۔ پینشن کوئی اپنے گھر سے نہیں دیتا۔ ملازمین کی تنخواہ کا ایک حصہ ہے جو باقاعدگی سے ماہانہ کاٹا جاتا ہے وہ ان کی ہی رقم ہے جو ایک ضابطے کے تحت بعد از ریٹائرمنٹ ملتی ہے۔ ڈاک خانے کا ڈائریکٹر جنرل 22 گریڈ کا افسر ہوتا ہے۔ آج کل ڈاک خانے کا المیہ یہ ہے کہ وہ جب تک ’منظورِ نظر‘ نہیں ہو گا اس مسند پر نہیں بیٹھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں