حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کی کوششیں 50

حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کی کوششیں

اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) حالیہ متحدہ اپوزیشن کے مابین حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کے سلسلہ میں کئی ملاقاتیں ہوئیں جن میں عمران خان پر عدم اعتماد کیا گیا۔ چوہدری برادران سے آصف زرداری، بلاول اور متحدہ کے رہنماﺅں کی ملاقاتیں۔ متحدہ نے کھل کر عمران خان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جب کہ مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری پرویز الٰہی نے ”صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں“ کی پالیسی اپنائی۔ آصف علی زرداری اور بلاول نے بھی عدم اعتماد لانے اور اپنے پارلیمنٹیرینز کے استعفوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت کو مزید مہلت دینا زیادتی ہو گی۔ اب ہمارے پاس وقت نہیں، ہمیں پاکستانی بن کر سوچنا ہو گا اور اس حکومت سے جلد از جلد جان چھڑانی ہو گی۔ ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آج مخدوش معاشی صورتحال کے سبب غریب آدمی ایک وقت کی روٹی سے محروم ہے۔ بچے دودھ اور دوا کو ترس گئے ہیں۔ والدین کے لئے بچوں کی تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔ ٹیکسز کی بھرمار ہے۔ مہنگائی عروج پر ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ قوم کی رائے ہے کہ ایسی ناعاقبت اندیش، کرپٹ اور نا اہل حکومت کا تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔ کراچی کے حوالہ سے شہباز شریف کا موقف تھا کہ کراچی کی بارشوں کے بعد عمران خان نے کراچی کے لئے 11 سو ارب روپیہ کے پیکیج کا اعلان کیا تھا جو نہ جانے کہاں چلے گئے۔ ایم کیو ایم کا موقف تھا کہ ہمارا مینڈیٹ چوری کرکے کراچی کے عوامی نمائندوں کو سائیڈ لائن کردیا گیا ہے ہم حکومت کے حلیف ضرور ہیں مگر سیاست میں آج کے حلیف کل کے حریف ہوتے ہیں چنانچہ حکومت کو کراچی کے مسائل دیکھنا ہوں گے ورنہ کراچی کے مفاد میں فیصلوں کی تبدیلی ناگزیر ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں