Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 102

خوابوں کی دُنیا

خوابوں کی سرزمین سونے کی کان ایک ایسی جگہ جہاں دنیا کے کونے کونے سے لوگ اپنی قسمت بنانے آتے ہیں جہاں دنیا کی ہر چیز میسر ہے، ہر ملک کے لوگ، ثقافت، کھانے، لباس، مذہب تمام اشیاءدستیاب ہیں۔ کچھ لوگ اسے جنت بھی کہتے ہیں۔ اصل جنت تو ناممکن ہے لیکن زمین پر اسے جنت کا نام دیا گیا ہے۔ امریکہ زمینی جنت اور دوزخ کا ملاپ ہے۔ یہاں جنت بھی ہے اور دوزخ بھی، باہر سے آنے والے جب اس سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو ان کے سامنے دونوں راستے ہوتے ہیں، جنت میں داخل ہوں یا جہنم میں۔ یہ ان کے اوپر منحصر ہے۔ بظاہر جہنم کی طرف جانے والا راستہ بہت خوبصورت، بھلا اور پرتعیش نظر آتا ہے۔ خوشیوں سے بھرپور لیکن اس راستے کے آخر میں صرف آگ ہے اور واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جنت کا راستہ ذرا مشکل، کٹھن اور صبر آزما ہے لیکن آخر میں سکون ہی سکون ہے۔
امریکہ میں لوگ تباہ بھی ہوئے اور بن بھی گئے۔ اپنی مرضی اور اپنی پسند سے تباہ ہونے میںکسی کا قصور نہیں اور بنے بھی تو اپنی محنت اور صبر سے مقام حاصل کیا۔ یہ خیال کہ امریکہ میں درخت سے ڈالر لٹک رہے ہیں بالکل باطل ہے۔ ان ڈالروں کو ہاتھ میں لانے کے لئے چھالے پیدا کرنے پڑتے ہیں۔ اس دیار غیر میں بے شمار کہانیوں نے جنم لیا۔ خوش قسمتی اور بدقسمتی کی کہانیاں لیکن بدقسمتی کی کہانیوں کو اور خوش قسمتی کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑے، دونوں کو اپنے دیس میں پردہ ڈال کر چھپا دیا گیا۔ اندھیروں کا نہیں صرف روشنیوں کا ذکر کیا گیا۔ ڈالروں کو حاصل کرنے کے لئے جن تکالیف سے گزرنا پڑا وہ صرف ان کہانیوں کے کردار ہی جانتے ہیں۔ یہاں رہ کر کیسے بھی حالات سے گزرنے والا شخص جب اپنے ملک جاتا ہے تو ان حالات کا کوئی ذکر نہیں کرتا جن سے وہ گزر چکا ہوتا ہے بلکہ اپنے آپ کو بالکل اسی طرح پیش کرتا ہے جیسے اس کے پاس بھی امریکہ میں ڈالروں کے درخت ہیں اور وہ بہت عیاشی سے گزارا کررہا ہے۔
بے شمار لوگ ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ جب اس سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو ان کے جسم پر شاندار سوٹ ہوتا ہے لیکن دوبارہ ان کو سوٹ پہننا نصیب نہیں ہوا۔ تعلیم حاصل کرنے اور محنت کرنے والوں کے لئے یہاں بہت مواقع ہیں وہ اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی بنا بھی لیتے ہیں۔ بے شمار لوگ ایسے آئے جو حالات کے ستائے ہوئے تھے۔ تعلیم بھی واجبی سی تھی یا بہت زیادہ ہاتھ پیر مار کر بی اے کرلیا۔ جن پر نوکریوں کے دروازے بند تھے یا اگر نوکری بھی تھی تو اتنی معمولی تنخواہ جس میں گزارا مشکل تھا اور اچھے دن کے خواب دیکھتے دیکھتے لوگ بوڑھے ہو جاتے تھے۔ پھر وہ نوجوان بھی تھے جو کسی امیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ان کی تعلیم اور گزارے کے لئے ان کے والدین پیسے بھیجتے تھے جو نوجوان عقل مند اور سیدھے راستے پر چلنے والے تھے انہوں نے تعلیم حاصل کی اور اپنا مقام بنا لیا اور دوسرے بے عقل بگڑے ہوئے وہ نوجوان تھے جنہوں نے آنے والے پیسوں سے عیاشیاں کیں اور تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی لیکن ایک دن ان کے ماں باپ بھی نا رہے اور وہ لوگ سڑک پر آگئے۔ ڈرگ کی لعنت میں پڑ گئے اور کسی بے گھر کی طرح سڑکوں پر ہی دم توڑ گئے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو اپنے ملک سے ایم بی بی ایس یا انجینئر کی ڈگری لے کر آئے لیکن ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے لئے یہاں مزید تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے اور ان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ تعلیم مکمل کرتے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ یہ لوگ ٹورسٹ ویزے پر آتے تھے لہذا غیر قانونی رہ رہے تھے اگر داخلہ بھی ملتا تو فیسیں بہت زیادہ تھیں لہذا سب کچھ بھول کر چھوٹی موٹی نوکری یا ٹیکسی شروع کردی اور یہی کرتے رہے۔ کچھ ایسے بھی تھے جن کے پاس مزید تعلیم حاصل کرنے کے مواقع بھی تھے لیکن انہوں نے وقتی طور پر زیادہ پیسے کمانے کو ترجیح دی۔ یہاں لوگوں کے ساتھ بہت زیادہ مجبوریاں بھی تھیں۔ پیچھے ایک بڑا خاندان چھوڑ کر قرض لے کر یہاں تک پہنچے۔ بھائی، بہنوں کو تعلیم دلانا اور ان کی شادیاں کرنا اپنا فرض سمجھا۔ اپنی پوری جوانی سر جھکائے دن رات محنت کرکے جس میں کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں تھا اسی طرح گزار دی۔ ایسے ایسے نوجوان تھے جو 18 یا 20 گھنٹے ٹیکسی چلاتے تھے یا دو تین جاب کرتے تھے۔ ساری زندگی دو تین جینز کی پینٹ اور بنیان میں گزار دی۔ وہ کپڑے پہننا بھی نصیب نہیں ہوئے جو اپنے وطن میں کوئی معمولی کلرک یا معمولی نوکری کرنے والا پہنتا ہے یا پھر حالات سے گھبرا کر ہمت ہار دی۔ اپنے آپ کو شراب اور جوئے میں غرق کردیا۔ پیچھے گھر والوں کا کیا حال ہوا وہ ایک علیحدہ کہانی ہے۔ جن لوگوں نے اپنی فیملی کے یہاں ہوتے ہوئے قربانیاں دیں، سخت محنت کرکے بچوں کو اچھی تربیت دی اور اچھی تعلیم دی وہ پڑھ لکھ کر کسی مقام پر پہنچے اور اپنے ماں باپ کو بھی سنبھالا لیکن یوں بھی ہوا کہ سخت محنت دن رات ایک کرکے بچوں کو جوان کیا تو وہ جوان ہو کر ماں باپ کو چھوڑ کر چلے گئے۔
بہرحال اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور لاپرواہیوں سے اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کرنے والے بھی تھے اور بنانے والے بھی لیکن ظلم ان لوگوں کے ساتھ ہوا جو ساری زندگی محنت کرکے وطن میں اپنے بھائی، بہنوں، ماں، باپ کی کفالت کرتے رہے، جوانی گزر گئی اور وہ شادی بیاہ کرکے اپنا خاندان بھی نہیں بنا سکے۔ بہت زیادہ محنت اور کھانے پینے کا اور سونے کا خیال رکھنے کی وجہ سے ان ہی حالات میں اس دنیا سے بہت جلدی گزر گئے۔ اور وہ بھی تھے جو سب کچھ قربان کرکے اور اپنے بھائی بہنوں کو کسی مقام پر پہنچا کر جب واپس پہنچے تو ان کے لئے کسی کے پاس جگہ نہیں تھی۔
ہمارے وطن میں امریکہ کے بارے میں جو بھی تصورات ہیں وہ بہت مختلف ہیں ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ امریکہ میں تو سڑکیں بھی ایسی ہیں کہ بندہ اس میں اپنی تصویر دیکھ لے یہ سب فلموں کا اثر ہے اور کچھ نہیں۔ میں نے کہا بھائی فلموں میں شوٹنگ سے پہلے کئی ٹینکر سڑک پر پانی ڈالتے ہیں تاکہ فلم میں چمکنی معلوم ہو۔ یہ جو بڑی بڑی بلڈنگز نظر آتی ہیں یہ زیادہ تر آفس بلڈنگز ہیں جن کو آپ باہر سے دیکھ سکتے ہیں اندر جانے کے لئے وجہ بتانا پڑے گی۔ ایمبولینس دو منٹ میں تو آجاتی ہے کیونکہ وہ انسانی ہمدردی میں نہیں بلکہ کاروبار کی وجہ سے آتی ہے۔ ایمبولیس کے لئے 700 ڈالر دینا پڑتے ہیں۔ فری میں ان کے لئے آتی ہے جن کا مستقبل تاریک ہوتا ہے جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ بہت غریب ہیں ان کا کریڈٹ بھی نہیں ہوتا اور زندگی گزارنے کے لئے بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ یہاں کامیاب لوگ بھی دیکھے جو کہ کسی معمولی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ماں باپ نے بڑی امیدوں سے یہاں بھیجا لیکن یہ خود غرض لوگ تھے اپنے گھر اور اپنے وطن کی طرف سے آنکھیں بند کرکے سب کچھ صرف اپنی ذات کے لئے کیا۔ ماں باپ کو چاہے بھیک مانگنا پڑی لیکن بچے نے پیسہ بنا لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں