خواب سا دیکھا ہے تعبیر نہ جانے کیا ہو 23

خواب سا دیکھا ہے تعبیر نہ جانے کیا ہو

22 کتابوں کے مصنف، میڈیکل ڈاکٹر مہاتِر بِن محمد جولائی 1981 سے اکتوبر 2003 تک مملکتِ ملائشیاءکے چوتھے اورپھر مئی 2018 سے مارچ 2020 تک وہاں ساتویں وزیرِ اعظم گزرے اور ماشاءاللہ حیات ہیں۔ یہ مجموعی طور پر 24 سال حکمراں رہے۔انہوں نے اپنی دوسری وزارتِ عظمیٰ میں اپنی اور اپنی کابینہ کے ارکان کی تنخواہوں میں 10 فی صد کٹوتی کا اعلان کیاجس کا فوری نفاذ بھی ہوا۔ ا±ن کے اس دور میںملائشیا کی حکومت کا ملک پر US $250 Billion کا قرض اتارنے کا قابلِ تقلید اقدام بھی ہوا۔ تحقیق کے مطابق اِس کٹوتی سے پہلے ملائشیا کی پارلیمان کی ماہانہ تنخواہیں کچھ اس طرح سے تھیں: وزیرِاعظم: رنگٹ ملائشین RM US $5,700ww,827، نائب وزیرِ اعظم: RM18,168، وزیر RM14,907، اور نائب وزیر RM10,848۔
آج کل ایک رنگٹ برابر 46.52 روپے ہے۔ دوسری طرف ہمارے ملک میں سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران بڑی شان سے ہر سال قانون سازی کر کے اپنی تنخواہیں بڑھواتے رہتے ہیں۔تحقیق کے مطابق ممبر قومی اسمبلی کی ماہانہ تنخواہ دو لاکھ روپے اور ممبر صوبائی اسمبلی کی ایک لاکھ بیس ہزار روپے ہے۔ ریل گاڑی میں فرسٹ کلاس اے سی میں اپنی پوری مدتِ اسمبلی سفر بالکل مفت۔ سالانہ 40 مرتبہ ہوائی جہاز کی بزنس کلاس میںسفر بالکل مفت۔بجلی کے 50,000 یونٹ مفت، پی ٹی سی ایل کی 170,000 لوکل کالیں مفت۔ ماہانہ ٹرانسپورٹ الاﺅنس 48,000 روپے۔ ایک ممبر پر پانچ سال میں تقریباََ32,000,000 روپے اخراجات آتے ہیں اور 342ممبران قومی اسمبلی پر ۔۔ اللہ اکبر !! اِس پر بھی اسمبلی
ممبران اپنی بنیادی تنخواہوں کو بڑھانے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ جس حلقے نے ان کو منتخب کیا ا±ن کی بہبود کے لئے جو کرنا چاہیے وہ نہیں کرتے۔ اتنے الاﺅنس اور سہولتیں اسی لئے دی جاتی ہیں کہ وہ قانون سازی کا کام اطمینان کے ساتھ کر سکیں۔لیکن…قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے سیشن کے دوران ممبران کی حاضری دیکھ لیں، اکثر کور م پو را نہ ہونے کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔ جب سے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد کی خبر پڑھی ہے ا±ٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے یہی اعدادو شمار ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں۔پھر مجھے خواب سا آیاکہ ہمارے ملک کے وزیرِ اعظم اور ان کی پوری کابینہ، وزرا ا ور ا±ن کے مشیران نے بھی ملک اور قوم کی خاطر اپنی تنخواہوں میں از خود کٹوتی کر لی۔صاحبِ ثروت ممبرانِ اسمبلی رضاکارانہ طور پر قائدِ اعظم کی تقلید کرتے ہوئے ایک روپے ماہانہ پر بخوشی راضی ہو گئے۔وہ پاکستانی بھی جو بیرونی ممالک میں ” صاحبِ اکاﺅنٹ “ ہیں وہ بھی اِن کی تقلید میں اپنی تمام دولت ملک میں لانا شروع ہو گئے۔خواب تو خواب ہے دیکھنے میں کیا حرج ہے؟ آخر ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونئیرنے بھی تو28 اگست 1963میں اپنی مشہورِ زمانہ تقریر ” میرا خواب “ میں اپنے خواب کا ذکر کیا تھاکہ جب افریقی امریکیوں کو بھی برابری کے حقوق اور اچھی ملازمتیں حاصل ہوں گی۔تب ڈاکٹر صاحب کے خواب کا بہت مذاق اڑایا گیا کہ یہ کیا بات کر دی ! لیکن بعد میں دیوانے کا خواب افریقی امریکی باشندوں کے لئے ایک درخشاں تعبیر ثابت ہوا۔ 60 کی دہائی میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مارٹن لوتھر کے خواب کی تعبیر صدر جان ایف کینیڈی کے دور میں کالے گورے کے برابر حقوق تسلیم کیے جانے اور پھر چالیس سال بعد بارک ا±بامہ کے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدربننے سے ملے گی۔ بات ہو رہی تھی ملائشین وزیرِ اعظم کی قرض اتارو مہم کی…قرض تو ہمارے اوپر بھی بہت ہے۔ 90 کی دہائی میں
ہمارے ہاں بھی ایک ”قرض اتارو ملک سنوار و “ مہم شروع ہوئی تھی۔ کتنا قرض اترا…مجھے ا±س کے اعداد و شمار معلوم نہیں لیکن ایک مثال پیش کرتا ہوں: ایک دن میں بینک کی مقامی برانچ میں موجود تھا۔ مہینے کے ابتدائی دن تھے لوگ اپنی پنشن لینے آئے ہوئے تھے۔ایک بوڑھی عورت بھی ان میں موجود تھی۔اس اثنا ءمیں چینل کی نیوز ٹیم اپنے کیمرے لئے آ پہنچی۔ پروڈیوسر نے اسی بوڑھی عورت کا انتخاب کیا اور کہا کہ اماں ہم ریکارڈنگ کر رہے ہیں میں آپ سے پوچھوں گا کہ ”قرض اتارو ملک سنوارو“ مہم میں آپ کچھ حصہ ڈالیں گی تو آپ کہنا کہ میں اپنی پوری پنشن قرض اتارنے کے لئے دیتی ہوں۔اماں فوراََ بولیں نہیں میں تو ایسا نہیں کروں گی۔تب ٹیم نے کہا کہ اماں یہ صرف ٹی وی پر دکھانا ہے آپ کون سا اصل میں دے رہی ہیں اور ہم کون سا لے رہے ہیں… اب جو خواہش عبید اللہ علیم اپنے مصر ” خواب سا دیکھا ہے تعبیر نہ جانے کیا ہو…“ میں کر رہے ہیں وہی میرے بھی پیشِ نظر ہے کہ تعبیر نہ جانے کیا ہو۔بہر حال ہمیں اچھا ہی سوچنا چاہیے۔کیا خبر اللہ ہمارے اجتماعی گناہ معاف کر دے اور ہمارے راہنماﺅں میں سے ایسے لوگ چن کر حکمران بنائے جو وزیرِ اعظم مہاتیر محمد کی طرح اپنے ملک کے لئے اسٹینڈ لے سکیں۔
ا±ن میں اتنی طاقت ہو کہ وہ بظاہر اپنے خلاف فیصلے پر اپنے ساتھیوں کو قائل کرسکیں۔ خواب تو خواب ہے لیکن کبھی کبھی خواب کی اچھی تعبیر بھی مل جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں