اک بڑا دانشور افسانہ نگار براڈ کاسٹر 32

دو ارب دِلوں کا بادشاہ

نریندر مودی سے پہلے بی جے پی کے پہلے وزیر اعظم اٹل بہاری باجپائی تھے انہیں کے دور میں کچھ انتہا پسند ہندوﺅں نے دلیپ کمار کے خلاف ایک گھناﺅنی مہم چلائی اور ان کے وطن کے حوالے سے ان پر پاکستان سے تعلقات کے الزامات لگا کر دلیپ کمار صاحب سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان سے ملنے والے انعامات اور اعزازت واپس کرکے ثابت کریں کہ وہ ہندوستان کے غدار نہیں ہیں۔ اس ہی طرح بیان کیا جاتا ہے کہ قدیم زمانے میں ایک بادشاہ کا وفادار ساتھ جو نیک اور دانشمند تھا اس پر اس کے حاسدوں نے الزامات لگا کر اس کو قید خانہ میں ڈلوا دیا۔ بہت بڑی آفت تھی جس کا وہ شکار ہوا تو اس کی ان خوبیوں اور نیکیوں نے اس کا ساتھ دیا جو وہ ہمیشہ دوسروں کے لئے انجام دیا کرتا تھا اس کا قاعدہ تھا کہ وہ معمولی لوگوں سے بھی میٹھی زبان میں بات کرتا تھا۔ تکبر نام کو نہیں تھا۔ اپنی ذات سے ہر ایک کو بلا امتیاز فائدہ پہنچاتا، کوئی مصیبت میں مبتلا ہو تو وہ ان کا مددگار بن جاتا۔ اس ہی دوران ایک واقعہ یہ ہوا کہ پڑوسی ملک کے حاکم نے اپنے خاص آدمی کے ذریعہ اس کو خط لکھا کہ یہ جان کر بہت افسوس ہوا کہ وہ ایک مصیبت میں مبتلا ہے کہ تم جیسے قابل قدر اور نیک ہستی کے ساتھ اس قسم کا سلوک روا رکھا گیا ہے اگر تم تیار ہو تو تمہیں اس مصیبت سے رہائی کا انتظام کیا جائے اور تمہیں ہمارے اپنے ملک میں شایان شان عزت اور مرتبہ فراہم کیا جائے اگر تمہیں یہ سب منظور ہو تو فوراً آگاہ کرو۔ اس کے جواب میں اس نیک ہستی نے لکھا کہ حضور میرے حال پر مہربانی کریں اس کے لئے میں آپ کا شکر گزار ہوں لیکن مجھے یہ بات منظور نہیں کہ میں اپنے ملک کے لوگوں سے بے وفائی کروں۔
اس واقعہ کا علم اس نیک ہستی کے حکمرانوں کو جب ہوا کہ پڑوسی ملک کے حاکم کے قاصد کو گرفتار کرکے اس سازش کی تحقیقات شروع کردیں اور یہ طے کیا کہ اگر اس نیک ہستی کا جرم ثابت ہو گیا تو اس کی سزا کے طور پر اسے قتل کردیا جائے گا۔ لیکن جب اس نیک ہستی کا جواب پڑھ کر اس کی وفاداری ثابت ہو گئی اور سچ سب کے سامنے ظاہر ہوا تو مخالفین کی تمام خواہشات کے برعکس اس کو باعزت اس مصیبت سے رہائی نصیب ہوئی اور اس ملک کے حاکم نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا کہ ایک غلط فہمی کی وجہ سے اس نیک ہستی کو مصیبتوں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔
اس نیک ہستی نے جواب میں کہا جو تکلیف پہنچی وہ میری تقدیر میں لکھی تھیں۔ اس ہی طرح کے حالات کا سامنا برصغیر کی سب سے نامور شخصیت دلیپ کمار کو کرنا پڑا تو وہ اپنے اصولوں پر ڈٹ گئے۔ انہوں نے وزیراعظم اٹل بہاری باجپائی سے ملاقات کرکے ان سے درخواست کی کہ مجھے آپ مشورہ دیں کہ میں ان مخالفین کے مطالبہ کے سامنے جھک جاﺅں یا اپنے فیصلہ پر قائم رہوں۔ وزیر اعظم نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ خود فیصلہ کریں، میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں، جس پر دلیپ کمار نے ان مخالفین کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا اور پاکستان کے لوگوں کی دی ہوئی عزت اور محبت واپس لوٹا دینے سے صاف انکار کردیا جس کی وجہ انہیں بہت سخت ذہنی اور جسمانی دباﺅ کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ایک طویل عرصے تک ان کا مقابلہ کرتے رہے اس طرح انہوں نے ایک بہادر اور حوصلہ مند انسان کی طرح اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے صاف انکار کردیا۔
خالق کائنات نے جب انسانوں کی تخلیق کی اور ان کو اس دنیا میں بھیجا تو ان کو راہ راست پر رکھنے کے لئے بہت سی بڑی بڑی ہستیوں کو اتارا ان میں اوتار بھی تھے اور نبی اور پیغمبروں کے ساتھ ساتھ ولی اور بڑے اوصاف حمیدہ رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے ان ہستیوں کو اس کے دور کے حوالے سے ان خصوصیات کا حامل بنا کر لوگوں کی رہنمائی کے لئے بھیجا جاتا تھا، ہر علاقے میں ان کے حالات و روایات کے مطابق پیغمبروں ولیوں صوفیوں کو یا مختلف مذاہب کے ماننے والے اوتاروں یا راہبوں کو ان ہی جیسے افراد کی رہنمائی کے لئے دنیا میں اتارا جاتا رہا ہے۔
یہ ہستیاں اپنی کرامات اور معجزات سے مخلوق کو اپنی ذات کی طرف متوجہ کرکے ان کے لئے ترغیب اور رہنمائی کے فرائض انجام دیا کرتی رہی ہیں۔
دلیپ کمار کی کرامت ان کے فن میں پنہاں تھی۔ وہ اپنی فنی صلاحیتوں سے جو کرامات ظاہر کرتے تھے وہ ان کے ساٹھ سالہ فن اداکاری کے ذریعہ عام مخلوق کو اپنے سحر میں مبتلا کرکے عوام کو اپنی طرف متوجہ کرکے ان کے اندر کے منفی رجحانات خت کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے یہ ہی ولیوں کی کرامات ہوتی ہیں۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو سیدھے راستے پر رکھنے کے لئے ان کے مختلف طبقات ہی ولیوں کا ظہور کیا۔ یہ ہی دلیپ کمار کا کمال تھا، ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش کے دو ارب انسان ان کی زبان سے ادا ہونے والے کلمات کی کرامات سے متاثر ہو کر اپنے اندر مثبت تبدیلیاں محسوس کرتے تھے۔ صرف برصغیر کے ہندو مسلمان سکھ عیسائی ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ان کی زمان کے سمجھنے والے ان کے حلقہ اثر میں داخل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ دلیپ کمار فلموں میں جس طرح کے کردار ادا کرتے، دیکھنے والے وہ کردار اپنے اندر سمو کر خود کو بھی وہی سمجھنے لگتے۔
یہ ہم ہی تھے جسے اپنے سوا سمجھے تھے
ان کی فلمی کردار نگاری سے زیادہ ان کا ذاتی زندگی میں بھی خصوصی کردار تھا جو اس فلمی کردار سے کہیں زیادہ بڑا اور موثر تھا جس کے بارے میں باہر جانے کے بعد لوگ ان کے حلقہ اثر میں کھنچتے چلے جاتے تھے۔
ان کی کرامات میں سے بڑی فوجی اداکاری تھی جو انسانوں کو نہ صرف اپنی طرف متوجہ کرتی بلکہ وہ ان کو اپنی طرف پوری طرح راغب کرنے میں کامیاب ہو جاتی، لوگ ان کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی جستجو میں لگ جاتے۔ اس طرح جب مخلوق ان کی ذاتی خصوصیات تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی تو وہ ان کی شخصی حصار میں جکڑ جاتے ان کے کردار اور نظریات سے متاثر ہو کر حلقہ اثر میں شامل ہو جاتے۔ برصغیر میں ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش کے دو ارب انسانوں کے دلوں میں بسنے کے بعد یہاں سے بھی آگے دنیا بھر میں جہاں جہاں ان کا عکس ان کی شخصیت کے مناظر کے ساتھ ساتھ ان کے نظریات لوگوں کو گرفت میں لے کر اپنا نہ صرف گرویدہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے بلکہ ان کے چاہنے والے نسل در نسل ان کے حلقہ بگوش ہوتے چلے جاتے ان کی ذات کا کمال دادا پردادا سے ہوتا ہوا نئی نسل تک سرائیت کرتا چلا جاتا۔
ان کی ذات کے کمال کو ولیوں والی کرامات سمجھا جاتا ہے جو انسان کے اندر کے گناہوں کا تدارک کرنے کا باعث ہوتی ہیں جس کے لئے اس دنیا کا مالک اپنے خاص بندوں کو ان کے درمیان پیدا کرتا ہے۔
دلیپ کمار برصغیر میں اپنے اس ہی کردار کو نبھانے میں کامیاب رہے انہوں نے تقریباً بیس سال کی عمر سے لوگوں کو خوشیاں بانٹی، ان کو بتایا اور سکھایا کہ دوسروں کو خوشیاں کیسے بانٹی جاتی ہیں اس طرح انہوں نے خوشیاں بانٹتے بانٹتے مخلوق کو ایسے راستے پر لگا دیا جو ہر طرح کی برائیوں سے دور لے جاتا ہے یہ ہی ولیوں والی خصوصیات ہوتی ہیں یہ ہی خصوصیات جو لوگوں کے دلوں میں بس کر مجبور کرتی ہیں کہ اپنی ذات سے دوسروں کو سکھ کس طرح پہنچائیں اس طرح وہ برصغیر کی ان ہستیوں میں شامل ہو گئے۔ نفرت کے تعصبات سے بالاتر ہو کر ہر مکتبہ فکر کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔
دلیپ کمار کسی طرح سے بھی گاندھی جی، نیلسن منڈیلا، مادم ٹریسا جیسی شخصیات سے کم نہیں تھے جو انسانوں کے دلوں کو جوڑنا جانتی تھی۔ دلیپ کمار نے یہ کام چند برس نہیں بلکہ ستر سال سے زائد عرصہ تک کیا ان کے یہ کمال اور کرامات آئندہ نسل در نسل تک منرقل ہوتے رہیں گے اور نسل در نسل ان کے کمالات کو یاد کرکے بدی کی قوتوں کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔
غم انسانیت رکھا ہے دل میں
نظام جبر کا باغی رہا ہوں
(صبا اکبر آباد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں