Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 147

دھوکہ

بچپن کا دور بھی خوب ہوتا ہے ماں باپ ننھّے میاں کی شرارتوں اور حرکتوں پر خوب خوش ہوتے ہیں اور عزیزوں رشتے داروں میں ننھّے میاں کے کارنامے بیان کئے جاتے ہیں اور چاروں طرف سے ان کو واہ واہ ملتی ہے یہ واہ واہ ننھّے میاں کو بڑی بھلی معلوم ہوتی ہے۔ان کا سینہ خوشی سے پھول جاتا ہے کہ ان کو شہرت مل رہی ہے۔شہرت کی یہ خواہش وہیں سے جنم لیتی ہے ،زیاد ہ تر اس خواہش کو تھوڑا سا بڑا ہونے پر دبا دیا جاتا ہے۔بچپن میں جن شرارتوں اور حرکتوں پر داد ملتی تھی اب ان پر ڈانٹ ڈپٹ شروع ہوجاتی ہے۔زیادہ بولنے نہیں دیا جاتا اور ہر وقت تمیز سکھائی جاتی ہے۔لیکن جو بڑے ہونے تک لاڈلے رہتے ہیں۔وہ اس خواہش کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔شہرت کا جن ہر آدمی کی فطرت میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔کچھ لوگوں میں یہ راکھ کے ڈھیر میں چنگاری کی طرح ہوتا ہے۔اگر موقعہ نہیں ملتا تو شہرت کی یہ خواہش کم تو ہو جاتی ہےلیکن موقع ملتے ہی شہرت حاصل کرنے کے لئے عزّت ،دولت ،عظمت،خاندان سب داو¿ پر لگا دیا جا تا ہے۔اور جتنا زیادہ اپنے مقام سے گرنا پڑجائے قباحت نہیں ہوتی ایک کردار ایسا بھی ہوتا ہے جو خود اپنی فلم بناکر اس کا ہیرو بن جاتا ہے اور اس فلم کی کاسٹ میں ایسے لوگوں کو شامل کرتا ہے جو کارکردگی میں اس سے آگے نہ ہوں کیوں کہ اسے خوف ہوتا ہے کہ کوئی دوسرا اس فلم میں شہرت حاصل کرنے میں اس سے سبقت نہ لے جائے۔ فلم کی کہانی بہت اچھّی ہوتی ہے گانے وغیرہ سب اچھّے ہوتے ہیں لیکن فلم اچھّی کاسٹ نہ ہونے کی وجہ سے پٹ جاتی ہے یہ ون مین شو کے قائل ہوتے ہیں۔اور ہمیشہ ناکام رہتے ہیں کامیاب وہ ہوتے ہیں جو باصلاحیت لوگوں کی ایک ٹیم بناکر آگے بڑھتے ہیں بغیر یہ سوچے کہ کون سبقت لے جائے گا اور کون کم کامیاب ہوگا۔شہرت دولت کی طلب پر غالب آجاتی ہے کیونکہ بعض اوقات جب شہرت مل جاتی ہے تو دولت خود بخود آنا شروع ہوجاتی ہے۔ اور اگر بغیر شہرت کے دولت آجائے تو پھر بعض دولت مند حضرات شہرت خریدتے ہیں۔آگے پیچھے چند چمچے ہوتے ہیں جن پر وہ کچھ خرچا کردیتے ہیں باقی کام ان چمچوں کا ہوتا ہے وہ ان کو سیاست میں یا کسی بھی تفریحی کاموں میں لگادیتے ہیں صاحب خوب پیسہ پھینکتے ہیں اور شہرت پر خوش ہوتے ہیں۔شہرت حاصل کرنے کے لئے انسان گلوکار بنتا ہے اداکار بنتا ہے ۔اور اگر صلاحیتیں نہ ہونے کی بناءپر ناکام ہوجاتا ہے تو الزام معاشرے کو دیتا ہے لوگوں کو الزام دیتا ہے کہ اسے موقع نہیں دیا گیا۔ سب سے زیادہ شہرت کی دیوانگی سیاست میں ہے۔اور یہ انہی لوگوں کا کھیل ہے جن کے پاس دولت ہے۔اور جن کے پاس نہیں ہے وہ چوری ،لوٹ مار اور غلط دھندوں سے پہلے دولت حاصل کرتے ہیں اور پھر سیاست کے میدان میں کود جاتے ہیں۔اور اس کے بعد نیک اور پارسا بن جاتے ہیں ۔اگر کسی نے پرانی فائل کھول بھی لی تو اسے جھوٹا ثابت کرنے کے لئے ا یڑی چوٹی کا زور لگادیتے ہیں۔اور پیسے کے زور پر سب کام کرالیتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ بے انتہا دولت ہونے کے باوجود اپنے آپ کو شہرت کی بلندیوں پر پہونچانے اور وزیراعظم کہلوانے کے لئے لوگوں نے اپنی زندگی تک کا جوائ کھیلا اور ہار گئے۔ شہرت بھی اور قومی خزانے کا چسکہ بھی یہ تمام سیاسی پارٹیاں ان کے نمائندے تمام لیڈر حضرات یہ سب جھوٹے اور بے ایمان ہیں۔ اور ان کے ساتھ جو لوگ چپکے ہوئے ہوتے ہیں وہ صرف اپنے ذاتی مفاد کی خاطر چمچے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ذرا غور کریں ملک وقوم کا دم بھرنے والے غریبوں کے حالات پر ٹسوے بہانے والے تمام مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کرنے والے ،لیڈروں اور ان کی اولادوں کے ٹھاٹ باٹ دیکھیں تو آنکھیں خیرہ ہوجائیں۔غریبوں کے لئے چندہ اکھٹّا کرنے والا بہترین امپورٹیڈ سوٹ پہن کر چمکتی ہوئی گاڑی سے اتر کر ننگ دھڑنگ بچوّں سے ہاتھ ملاکر اخبار کے لئے فوٹو کھنچوانے والا کبھی بھی انسانیت کا درد سینے میں نہیں رکھ سکتا۔ ملک وقوم اور انسانیت کی فلاح و بہبود پر اپنی زندگی وقف کرنے والے اس دنیا میں چند ہی لوگ تھے اور ہیں۔ ان ہی لوگوں میں سے ایک عمران خان بھی ہے۔جس کا ماضی کچھ بھی رہا ہو بہرحال زرداری کے ماضی سے پھر بھی بہت بہتر ہے اور جب زرداری کو پانچ سال دئیے جاسکتے ہیں تو عمران خان تو اس سے ہزار درجے بہتر ہے۔ وہ موروثی سیاست سے نہیں آیا منہ میں سیاست کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوا۔اس کا نام مانے ہوئے دانشوروں کی فہرست میں نہیں تھا۔نا وہ کوئی دینی عالم رہا اور نا ہی قانون دان۔عمران خان ماہر طب، ماہر معاشیات،اور ماہر تعلیم بھی نہیں ہے۔دنیا کا کوئی بھی سربراہ چاہے وہ امریکہ کا صدر ہو یا یوروپ کا کوئی صدر یا وزیر اعظم یا پھر عرب کا کوئی بادشاہ بیک وقت ان تمام شعبوں کا ماہر نہیں ہوسکتا ہے۔البتّہ ان میں سے کسی ایک شعبے کا ماہر ہوسکتا ہے۔ملک چلانے کے لئے ان تمام شعبوں کے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔اور شعبوں کے لحاظ سے ان کو وزارتیں دی جاتی ہیں اور وزیر مقرر کئے جاتے ہیں۔ وزیروں کا کام ہے کہ اپنے اپنے شعبوں کے کاموں کی نگرانی اور منصوبے بنائیں اور تمام معلومات سے سربراہ کو آگاہ کریں۔مشیروں کا کام ہے کہ کسی بھی معاملے میں سربراہ کو صحیح رائے دیں۔ ان وزیروں اور مشیروں سے مشورہ کرکے ہی سربراہ اپنی قوم کو ان شعبوں میں ہونے والے کام اور منصوبوں سے قوم کو آگہ کرتا ہے۔خرابی وہاں پیدا ہوتی ہے حہاں وزارتوں کی تقسیم تعلقات اور اقربا پروری پر ہو۔وزیر قانون اس کو بنایا جاتا ہے جو کئی مرتبہ جیل جاچکا ہو، ماہر تعلیم وہ بنتا ہے جو میٹرک کے بعد اسکول نہیں گیا اور جعلی ڈگریوں پر وزیر بنا بیٹھا ہوتا ہے۔سربراہ کے لئے ملک کو آگے چلانے کا انحصار ان ہی وزیروں اور مشیروں پر ہوتا ہے۔ اس ہی طرح جب کوئی سیاست دان اپنی پارٹی کے ساتھ الیکشن کی مہم کی جانب بزھتا ہے تو اس کے ساتھ ماہرین کا ایک گروپ ہوتا ہے ان ہی کے مشورے اور ماہرانہ رائے پر وہ قوم کے سامنے اپنا آئندہ کا لائحہ عمل اور منشور رکھتا ہے۔عمران خان نے آج تک جو کچھ کہا جو بھی پروگرام قوم کے سامنے رکھے۔اس کا مشورہ دینے والے وہی وزیر اور مشیر ہیں جو موروثی سیاست کے محل میں نئے شہزادوں کی تربیت کرتے تھے۔چونکہ یہ لوگ پرانے سیاست دان ہیں اور اسے شروع میں یہی مشورہ دیا گیا تھا کہ بغیر ان لوگوں کی مدد کے وہ حکومت میں نہیں آسکتا لہذا وہ ان کے مشوروں پر قوم سے وعدے بھی کرتا رہا وہ وعدے ایسے تھے کہ ان حالات میں اور اتنی جلدی پورے ہونا ممکن نہیں تھے۔اور جو ہونے والے کام تھے وہ اپنے ہی لوگوں کے تعاون نا ہونے کے باعث التوا کا شکار ہوگئے۔ عمران خان میں جذبہ ہے ایمان داری ہے وہ ملک کے لئے بہت سوچتا ہے بہت کچھ کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے ساتھ تعان نہیں ہورہا ہے دھوکہ ہورہا ہے لیکن اب معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان اپنے ہی آدمیوں سے بددل ہوتے جارہے ہیں اور پی ٹی آئی میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں