رضیہ فصیح احمد کے خاکے (راہِ خیال) تحریر: رضی مجتبیٰ 178

رضیہ فصیح احمد کے خاکے (راہِ خیال)

تحریر: رضی مجتبیٰ
رضیہ فصیح احمد صاحبہ معروف اور سینئر ادیبہ ہیں۔ ان کا شمار اس عہد کے اُن تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ایک طویل عرصہ مسلسل تخلیقی فعالیت کا گزارا ہے اور بہت کام کیا ہے۔ ویسے تو حق بات یہ ہے کہ ادب و فن کے کسی بھی ایک شعبے میں کام کرنا ہی قابل قدر ہوتا ہے، پھر اتنے عرصے تک کام کو جاری رکھنا تو واقعی بڑی بات ہے۔ تاہم رضیہ فصیح احمد کا اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے ایک صنفِ ادب میں طبع آزمائی نہیں کی بلکہ متعدد و اصناف میں انہوں نے اپنے تخلیقی جوہرکو آزمایا ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ جس شعبے میں بھی انہوں نے کام کیا ہے، اس میں بخوبی کامیاب رہی ہیں۔
ناول، ناولٹ، افسانہ، ڈرامہ، سفرنامہ اور مزاح۔ یہ وہ اصناف ادب ہیں جن میں رضیہ فصیح احمد نے طبع آزمائی کی ہے۔ یہاں اس امر کی وضاحت بے جا نہ ہو گی کہ طبع آزمائی سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ انہوں نے دوچار افسانے لکھے اور دیکھا اس میں دال نہیں گل رہی تو وہ ناولٹ کی طرف مائل ہو گئیں اور اس میں دیکھا کہ بات نہیں بنی تو طنز و مزاح کا رخ کیا اور پھر وہاں سے ناول کی طرف چلی گئیں۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ رضیہ فصیح احمد کے تخلیق سفر کا سب سے دل چسپ پہلو تو یہی ہے کہ انہوں جس صنف میں بھی کام کیا، اسے ایک منزل تک ضرور پہنچایا۔ انہوں نے افسانے لکھے تو افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے متعدد ناول منظر عام پر آئے۔ اسی طرح طنز و مزاح بھی کتابی شکل میں شائع ہوا اور سفرنامے بھی مجموع کی حیثیت سے سامنے آئے۔ کچھ عرصہ قبل معلوم ہوا کہ انہوں نے شاعری شروع کی ہے اور اب پتا چلا کہ دو مجموعے شاعری کے شائع ہو چکے ہیں۔ اس سے رضیہ فصیح احمد کے مزاج کی سنجیدگی اور وابستگی کا با آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ان کے مزاج کی اس روش سے ہمیں دو اور باتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ جب بھی کسی صنف کی طرف مائل ہوتی ہیں تو نئی اصناف کو اپنانے کے شوق میں نہیں بلکہ وہ دل سے ایسا کرتی ہیں، یعنی اپنے داخلی تخلیقی تقاضے کے زیر اثر۔ اسی لئے ان کی وابستگی متزلزل نہیں ہونے پاتی اور وہ پوری لگن سے اپنے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتی ہیں۔ دوسری بات جس کا ہمیں اندازہ ہوتا ہے وہ ہے ان کے تخلیقی جوہر کا ہمہ جہت اظہار۔ قدرت نے انہیں اس صلاحیت سے پوری طرح نوازا ہے کہ وہ متعدد اصناف میں اپنا اظہار کامیابی سے کرسکتی ہیں۔ ہمارے ہاں ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ آدمی کے اندر اصل رجحان کسی ایک صنف میں اظہار کا ہوتا ہے۔ لہذا اسی صنف میں وہ بڑا کارنامہ سر انجام دے سکتا ہے لیکن اگر وہ دوسری اصناف کی طرف مائل ہو جائے تو اس کا جوہر تقسیم ہو جاتا ہے۔ میں ایسا ہر گز نہیں سمجھتا اور میری رائے میں یہ غلط فہمی اکہرے اور کاہل تخلیق کاروں نے پھیلانے کی کوشش کی ہو گی۔ اس لئے کہ آپ دنیا کی کسی زبان کا ادب اٹھا کر دیکھ لیجئے، اس میں آپ کو متعدد ایسے فن کار ملیں گے جنہوں نے ایک سے زائد اصناف میں اپنے جوہر کو استعمال کیا ہو گا اور ہر جگہ اپنا تخلیقی نقش قائم کرنے میں کامیاب رہے ہوں گے۔ ہمارے ہاں اس کی مثالیں امیر خسرو سے عزیز احمد، انتظار حسین، اسد محمد خاں، جمیل الدی عالی اور سحر انصاری تک کتنے ہی فن کاروں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ محض مختلف اصناف میں اظہارکی بات نہیں بلکہ جوہر کو منوانے کا سوال ہے۔ یہ نام اس لحاظ سے مثال کے درجے میں آتے ہیں کہ انہوں نے جس شعبے میں بھی کام کیا، ان کی کارگزاری لائق توجہ رہی۔ رضیہ فصیح احمد بھی اسی قبیل کے فن کاروں میں شمار ہوتی ہیں۔
نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط رضیہ فصیح احمد کی کارگزاری کو پیش نظر رکھا جائے تو خیال آتا ہے کہ اہم عصر ادب میں انہیں وہ مقام نہیں ملا جس کی وہ بجا طور پر مستحق تھیں یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ انہیں تسلیم ہی نہیں کیا گیا یا یہ کہ ان کا کوئی بھی Acknowledgement نہیں ہوا۔ ایسا تو ہر گز نہیں ہے۔ ان کے ناول ”آبلہ پا“ کو رائٹرز گلڈ کے زمانے میں ادبی ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ ان کے افسانوں اور ناول کی ڈرامائی تشکیل بھی ہوئی ہے۔ ان پر ایم اے اور ایم فل یا پی ایچ ڈی کے مقالے بھی ضرور لکھے گئے ہوں گے لیکن ان کے باوجود مجھے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ادب کی دنیا میں انہیں وہ مقام یا وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جو کہ ان کا بجا طور پر حق ہے۔ یہ بات میں اس لئے کررہا ہوں کہ ناول اور افسانے پر لکھی جانے والی تنقید اکثر میری نظر سے گزرتی رہتی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ ایسے مطالعات میں رضیہ فصیح احمد کا نام بہت کم لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی محسوس کیا کہ جہاں کہیں ان کا ذکر آتا ہے، وہ بھی کچھ زیادہ تفصیل کے ساتھ نہیں آیا۔ بس دوسرے کچھ ناموں کے ساتھ ان کا نام بھی لکھ دیا جاتا ہے۔
میں اگر خود سے یہ سوال کرتا ہوں کہ ایسا کیوں ہوا، تو میرے ذہن میں اس کی دو وجوہ آتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہ رضیہ فصیح احمد شاید مزاجاً ان لوگوں میں ہیں جو زیادہ لوگوں سے رابطہ میں نہیں رہتے۔ وہ اپنی طرح کے محض چند لوگوں سے رابطہ رکھتے ہیں اور باقی توجہ اور وقت اپنے تخلیقی کاموں میں صرف کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل تخلیقی فن کار کا رویہ یہی ہوتا ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہی ہونا چاہئے۔ اس کے اندر اپنے کام کی طرف تو پوری سنجیدگی پائی جاتی ہے لیکن باقی ہر طرف اور ہر چیز سے وہ بے نیازی اختیار کر لیتا ہے بہرحال آج ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ یہ عہد رابطوں کا عہد ہے۔ ویسے تو پرانی مثل ہے کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل، لیکن اس کی سچائی کا جتنا اظہار ہمارے عہد میں ہو رہا ہے شاید اس سے قبل کے کسی دور میں نہیں ہوا چنانچہ مجھے لگتا ہے کہ اس مزاج کی وجہ سے یہ ہوا کہ رضیہ فصیح احمد کی رسائی کم لوگوں تک ہوئی۔ اس کے علاوہ طویل عرصے سے وہ پاکستان سے باہر ہیں۔ اگرچہ گاہے گاہے پاکستان آتی رہتی ہیں لیکن ظاہر ہے باہر سے آ کر چند ہفتے رکنے اور مرکزی دھارے میں ہمہ وقت رہنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ وہ اس طرح ادبی رابطوں میں نہیں رہ پاتی ہیں جیسے کہ یہاں کے لوگ رہتے ہیں۔ دوسری اور بہت اہم وجہ یہ ہ ان کی بہت سی کتابیں دستیاب نہیں تھیں۔ جھوٹ کیوں بولوں، خود میں نے ان کی کئی کتابیں ایک وقت میں تلاش کیں لیکن مارکیٹ میں کہیں دستیاب نہیں ہوئیں۔ آخر میں تھک ہار کر بیٹھ رہا۔ وہ تو خدا بھلا کرے میرے دوست مبین مرزا کا کہ انہوں نے نہ صرف رضیہ فصیح احمد کی کئی کتابیں دوبارہ چھپوا دیں بلکہ مجھ جیسے ان کے کچھ قارئین تک ان کتابوں کو پہنچوانے کا بھی اہتمام کیا۔ یوں ان کو پڑھنے کا موقع میسر آیا۔
اس ساری گفتگو کا مقصد اصل میں یہ ہے کہ مجھے یہ خیال بار بار پریشان کرتا تھا کہ رضیہ فصیح احمد ہماری مین اسٹریم تخلیق کار ہونے کے باوجود اس طرح مین اسٹریم میں نظر کیوں نہیں آتیں جس طرح انہیں نظر آنا چاہئے۔ سو میں نے اس مسئلے پر غور کیا اور یوں وہ پہلو میرے سامنے آئے جو میں نے درج بالا سطور میں بیان کئے ہیں۔ بہرحال خلاصئہ گفتگو یہ ہے کہ رضیہ فصیح احمد ہمارے عہد کے اُن لکھنے والوں میں ہیں جنہوں نے تخلیقی ادب میں اپنی ایک پہچان قائم کی ہے اور اُن کا کام بلاشبہ اس لائق ہے کہ اُن کا بالاستیاب اور تجزیاتی مطالعہ کیا جائے اور اُسے نئی نسل کے لکھنے پڑھنے والوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہاں میں ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ ہمارے ہاں لوگوں کی زندگی میں اُس طرح پذیرائی نہیں ہوتی جیسا اُن کا حق ہوتا ہے۔ خدا جانے ہم اس بے حسی اور لاتعلقی کا اظہار کیوں کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی آدمی کی آنکھ بند ہوتی ہے ہم اُس کے قصیدے پڑھنے لگتے ہیں اور اُسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے لگتے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ ہمیں اس رویے کو بدلنا چاہیے اور اپنے اُن لوگوں کی پذیرائی اُن کی زندگی میں کرنی چاہیے جو اِس کا حق رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ادیب شاعر کو کسی طرح کی مالی منفعت اور عہدہ و منصب تو ملتا نہیں، صرف ایک عزت اور پذیرائی ہی نصیب ہوتی ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے اور اس کے لیے باقاعدہ اجتماعی کوشش کرنی چاہیے کہ یہ عزت اور پذیرائی اُسے، اُس کی زندگی میں ہی میسر آئے تاکہ وہ مطمئن اور خوش ہو سکے کہ جن لوگوں کے لیے اس نے اپنا وقت، صحت اور دل و دماغ صرف کیے ہیں، وہ اُسے جانتے اور مانتے ہیں۔ اس کا احترام کرتے ہیں اور اُس کے لیے دل میں محبت کے جذبات رکھتے ہیں۔
اب آئیے اُس کتاب کی طرف جس پر میں آج بات کرنا چاہتا ہوں اور جس کے توسط سے یہ ساری باتیں کرنے کا موقع مل گیا گو کہ ان باتوں کا اس کتاب سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ میں ذمہ داری اور سچائی سے کہہ رہا ہوں کہ یہ سب باتیں میرے دل و دماغ کے نہاں خانے میں بہت عرصے سے تھیں اور میں خوش ہوں کہ آج مجھے ان کے اظہار کا موقع میسر آیا۔ اب رضیہ فصیح احمد کی نئی کتاب کے بارے میں کچھ باتیں اور تاثرات۔
اس وقت میرے پیش نظر رضیہ فصیح احمد کی جو کتاب ہے وہ ایک ایسی صنفِ ادب کا اظہاریہ ہے جس میں انہوں نے اس سے قبل کبھی طبع آزمائی نہیں کی یعنی اس صنف میں یہ اُن کی پہلی کتاب ہے اور یہ ہے اُن کے خاکوں کا مجموعہ ”گل دستے اور گل دائرے“۔ یہ کتاب حال ہی میں کراچی کے ادارے ”رنگِ ادب“ کے زیر اہتمام منظرعام پر آئی ہے۔ جہاں تک اس کی طباعت و اشاعت کی بات ہے، وہ ویسی عمدہ تو نہیں ہے جیسی اس سے قبل اُن کی کتابیں ”آبلہ پا“ اور ”دو ناول“ وغیرہ چھپی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں پروف کی اغلاط بھی خاصی ہیں جو پڑھتے ہوئے بہت بدمزہ کرتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس کتاب کو پڑھ کر خوشی ہوئی۔ اس خوشی کی کئی ایک وجوہات ہیں جو میں بیان کرتا ہوں۔
ایک تو یہ کہ رضیہ فصیح احمد، جیسا کہ میں نے اس کالم کے آغاز میں لکھا، خود ایک سینئر لکھنے والی ہیں اور انہوں نے ایک طویل عرصہ تخلیقی زندگی کا گزارا ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں قاری کے دل میں فطری طور پر یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ جان پائے کہ انہوں نے خود کیسی زندگی گزاری ہے اور ان کے نجی تجربات اور احساسات کیا رہے ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ یادوں، خاکوں اور سوانح عمری کی کتابیں عام طور سے زیادہ دل چسپی سے پڑھی جاتی ہیں۔ سوانح عمری کے بارے میں برنارڈ شا نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس شخص کو لکھنی چاہیے جو اپنی نہایت نجی زندگی کے واقعات کو لوگوں سے شیئر کرنے کی جرات رکھتا ہو۔ برنارڈ شا کی بات کی اہمیت اور جواز اپنی جگہ ہے اور میں اسے رد بھی نہیں کر رہا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہر شخص میں رومیو اور سینٹ آکسین جیسی ہمت و جرات نہیں ہوتی کہ وہ باتیں بھی کہہ ڈالے جو اس کی سماجی شخصیت کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اہم اور بڑے لکھنے والے کو اپنی یادیں اور خاکے وغیرہ ضرور لکھنے چاہیئں۔ ان یادوں اور خاکوں میں وہ جتنا اور جو کچھ بھی بیان کر سکے، اُسے کرنا چاہیے کہ اس طرح اُس کے قارئین کو نہ صرف اُس کی اپنی شخصیت کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہو جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ جن لوگوں کے ساتھ رہا ہے اور اس نے جو زمانہ گزارا ہے اس کے رجحانات کے بارے میں بھی بہت سی ایسی باتیں جاننے کا موقع ملتا ہے جو عام طور سے اُس طرح ریکارڈ پر نہیں آتیں۔
رضیہ فصیح احمد چوں کہ خود ایک بڑی ادیبہ ہیں، اس لئے اُن کے روابط بھی اپنے عہد کے بہت بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں سے رہے ہیں۔ اس لئے اس کتاب میں شامل اکتیس خاکوں میں نام ور لکھنے والوں کی پوری ایک کہکشاں سمٹ آتی ہے۔ ایک کے بعد دوسرا نام ایسا ہے کہ پڑھ کر آدمی بے صبری سے اُس کی طرف لپکتا ہے۔ ذرا چند نام دیکھیے، شاہد احمد دہلوی، قدرت اللہ شہاب، شان الحق حقی، عصمت چغتائی، غلام عباس، فیض احمد فیض، علی سردار جعفری، قرة العین حیدر، مشتاق احمد یوسفی، مشفق خواجہ، ابن انشائ، جمیل الدین عالی، جمیل جالبی اور ان کے بعد بھی جو نام ہیں وہ سب بھی اپنی اپنی جگہ بڑے لوگ ہیں جن کا تذکرہ ہمارے ہاں بڑے اہتمام سے ہوتا ہے۔ ان خاکوں سے ہمیں ان سب لوگوں کے بارے میں جاننے کا نادر موقع ملتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ ہمارے ہاں خاکہ نگاری کے دو طریقے نظر آتے ہیں، لکھنے والا یا تو اپنے ممدوح کو فرشتہ بنا دیتا ہے یا پھر اُس سے اپنی قربت اور بے تکلفی کا تاثر پیدا کرنے اور اپنی جرات کا مظاہرہ کرنے کے لیے اس کے کردار کا ملیا میٹ کر دیتا ہے لیکن ان خاکوں میں رضیہ فصیح احمد نے پیش نظر شخصیات کی نہ تو مدح سرائی کی ہے اور نہ ہی کردار کشی کا وطیرہ اپنا کر اپنی بے باکی اور حمدات کا ڈنکا بجایا ہے۔ اس کے برعکس انہوں نے بڑے توازن اور اہتمام کے ساتھ ان لوگوں کو جتنا دیکھا اور جیسا پایا ہے، بیان کردیا ہے، اس طرح اس کتاب میں اتنے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں کی شخصیت کے بہت سے اچھے اور بڑے دل چسپ پہلو ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔
تیسری بات رضیہ فصیح احمد کا اسلوب اور انداز بیاں ہے۔ وہ بہت صاف، رواں دواں اور مکمل ابلاغ کرنے والی نثر لکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ اُن کی نظر بہت صاف ہے۔ وہ دیکھ لیتی ہیں کہ سامنے والے کی شخصیت کے نمایاں رنگ کون سے اور کیسے ہیں۔ اس کا اندازہ اُن ناموں سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے ان میں سے بعض خاکوں پر Sub Title کے طور پر درج کیے ہیں مثلاً قدرت اللہ شہاب کے لیے صوفی ”بیروکریٹ“، ابن انشاءکے لیے ”اک انشا نام کا دیوانہ“، جمیل الدین عالی کے لیے ”مرزا پارس ناتھ“ اور انور عنایت اللہ کے لیے ”شریف بھائی“ وغیرہ۔ ان ناموں سے رضیہ فصیح احمد کی ذہانت اور بذلہ سنجی دونوں کا بخوبی اظہار ہوتا ہے۔
چوتھی بات یہ کہ کسی خاکے کو پڑھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ رضیہ فصیح احمد نے اس شخصیت کے بیان کے ذریعے دراصل اپنے آپ کو بڑھانے اور پروجیکٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔ خاکہ نگاروں کے ساتھ یہ مسئلہ واقعی پیش آتا ہے کہ وہ پیش نظر شخصیت کے خدوخال اُجاگر کرنے کے بجائے اپنے نقش ابھارنے لگتے ہیں نتیجہ یہ کہ شخصیت کی بجائے اپنا تذکرہ مرتب ہو جاتا ہے۔ رضیہ فصیح احمد نے کسی ایک جگہ بھی ایسا نہیں کیا۔ اُن کے خاکوں میں اہم انہیں لوگوں کا تذکرہ پڑھتے ہیں، جن کو موضوع بنایا گیا۔ اس تذکرے میں رضیہ فصیح احمد غائب نہیں ہوتیں۔ وہ خود بھی نظر آتی ہیں لیکن خاکہ اُن کے بجائے مرکزی شخصیت کے خدوخال ہی اُبھارتا ہے۔
آخری بات یہ کہ ان سب ناموں پر نظر ڈالتے ہی ہمیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ بیس ویں صدی کے ادب کے بڑے اور ممتاز لکھنے والے ہیں۔ چناں چہ جب ہم ان کا احوال پڑھتے ہ یں تو اس کے ساتھ ساتھ بیس ویں صدی کے عام ذہنی، فکری، سماجی اور سیاسی زندگی کے بھی کچھ ایسے پہلو سامنے آتے چلے جاتے ہیں جن پر مجموعی طور پر غور کیا جائے تو ایک عہد کا نقشہ آنکھوں میں پھر جاتا ہے۔ اس طرح یہ خاکے شخصی یادوں کے ساتھ ساتھ ایک عہد کا ریکارڈ بھی ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔
آخر میں، میں یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ اپنی اس گفتگو کے دوران کئی مقامات پر میرا دل چاہا کہ کتاب سے کچھ حوالے یا اقتباسات نقل کروں لیکن ایک تو کالم کی طوالت کا خوف بار بار روکتا رہا، اور کچھ یہ خیال بھی رہا کہ جگہ کی کمی کے باوجود اقتباس دینے کی کوشش کرنے کی بجائے مجھے اس کتاب کے تعارف پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور قاری کو کتاب کے مطالعے پر اُکسانا چاہیے، لہذا میں نے ایسا ہی کیا اور اقتباسات درج نہیں کیے۔ بہرحال یہ وہ چند ایک خوبیاں ہیں جو رضیہ فصیح احمد کی کتاب ”گل دستے اور گل دائرے“ کے پہلے مطالعے کے فوراً بعد اس کے حوالے سے میرے ذہن میں آئیں۔ یقیناً یہ ایک بامعنی اور خوب صورت یادوں کا مرقع ہے، جسے رضیہ فصیح احمد نے بڑے سلیقے سے پیش کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اُن کی یہ کتاب دوسری کئی ایک کتابوں کی طرح پسند کی جائے گی اور یہ خود اُن کی شخصیت کو جاننے اور سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں